ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر عمان ایران کے ساتھ معاہدے میں رکاوٹ بنا تو اس پر بمباری کریں گے: فاکس نیوز
ٹرمپ نے فاکس نیوز کے صحافی ٹرے ینگسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’اگر عمان راستے میں آیا تو ہم اسے بری طرح بمباری کا نشانہ بنائیں گے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز دھمکی دی کہ اگر عمان آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران کے ساتھ معاہدے کی راہ میں ’رکاوٹ‘ بنا تو امریکہ عمان پر بمباری کرے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ بھی کیا۔
ٹرمپ نے فاکس نیوز کے صحافی ٹرے ینگسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’اگر عمان راستے میں آیا تو ہم اسے بری طرح بمباری کا نشانہ بنائیں گے۔‘
صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کے کنٹرول سے متعلق عمان اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کا حوالہ دے رہے تھے، جبکہ واشنگٹن بھی ایران کے ساتھ اپنی الگ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی اور عمانی حکام کئی ہفتوں سے اہم بحری گزرگاہ کے ذریعے مستقبل میں بحری آمدورفت کے انتظامات پر بات چیت کر رہے ہیں۔ تہران کی وزارتِ خارجہ نے پیر کے روز کہا کہ دونوں ممالک ایک مشترکہ اعلامیے پر کام کر رہے ہیں۔
تاہم ٹرمپ بارہا اصرار کر چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز، جسے تہران نے 28 فروری کو مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد عملاً بند کر دیا تھا، امریکی کنٹرول میں ہے، اگرچہ اس راستے سے آمدورفت بدستور انتہائی محدود ہے۔
جمعے کے روز ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو امریکی سرزمین کا حصہ بھی قرار دے سکتے ہیں، جس کے جواب میں ایران نے کہا کہ توانائی کی یہ اہم آبی گزرگاہ، جس کی اس نے ناکہ بندی کر رکھی ہے، ’ایرانی ہی رہے گی۔‘
ایران کے خلاف امریکی، اسرائیلی جنگ شروع ہونے سے پہلے آبنائے ہرمز کو ایک کھلی اور بین الاقوامی آبی گزرگاہ سمجھا جاتا تھا۔ دنیا کی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم حصہ، دیگر اجناس کے ساتھ، اسی راستے سے گزرتا ہے۔
تہران نے آبنائے ہرمز پر مؤثر کنٹرول حاصل کرنے کو امریکہ کی قیادت میں جاری ان کوششوں کے خلاف دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا ہے جن کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیت کو تباہ کرنا اور اسے اپنے متنازع جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنا ہے۔
ایران کا ساحلی علاقہ آبنائے ہرمز کے شمالی حصے کے ساتھ واقع ہے، جبکہ عمان جنوب میں واقع ہے۔
ینگسٹ کی ایکس پر پوسٹ کے مطابق، جس میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ان کے انٹرویو کی تفصیلات دی گئی ہیں، ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کو ’سفید جھنڈا لہرا کر ہتھیار ڈال دینے چاہئیں۔‘
صدر ٹرمپ نے اصرار کیا کہ وہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے جلدی میں نہیں ہیں، حالانکہ امریکہ میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل جنگ عوام میں خاصی غیر مقبول ہے۔ حزبِ اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹس ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت سے کانگریس کا کنٹرول واپس لینے کی کوشش کر رہی ہے۔
ٹرمپ نے ینگسٹ کو بتایا کہ ان کی انتظامیہ اور ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے حکام کے درمیان ایک براہِ راست خفیہ رابطہ بھی موجود ہے۔
