حماس سے ملاقات کے بعد ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی جیرڈ کشنر کی غزہ منصوبے پر نیتن یاہو سے بات چیت
حماس نے گزشتہ ماہ امریکہ کی حمایت یافتہ ایک نئی 15 نکاتی حکمتِ عملی پر اتفاق کیا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اور ان کے داماد جیرڈ کشنر نے پیر کے روز یروشلم میں اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات قاہرہ میں حماس کے رہنما سے غیر معمولی ملاقات کے ایک روز بعد ہوئی، جس کا مقصد امریکی صدر کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش کرنا تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نیتن یاہو، جن کی حکمران اتحادی حکومت اکتوبر میں ہونے والے قومی انتخابات سے قبل اسرائیلی رائے عامہ کے جائزوں میں پیچھے ہے، نے رواں ماہ امریکہ کی حمایت سے پیش کی گئی اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا جس کے تحت حماس اپنے ہتھیار چھوڑ دے گی اور اس کے بدلے اسرائیل غزہ سے اپنی فوج واپس بلا لے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اس معاہدے پر مرحلہ وار عمل درآمد کیا جائے گا۔ اس کے تحت حماس کی جانب سے غیر مسلح ہونے کے عمل کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج غزہ سے واپس جائے گی، جبکہ ایک بین الاقوامی استحکامی فورس نئی فلسطینی پولیس فورس کے ساتھ مل کر علاقے میں سکیورٹی قائم کرے گی۔
تاہم اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک وزیرِاعظم رہنے والے نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ سے صرف اسی وقت مکمل طور پر واپس جائے گی جب حماس اور غزہ میں موجود دیگر مسلح گروہوں کو مکمل طور پر غیر مسلح کر دیا جائے گا۔ سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ 27 اکتوبر کے انتخابات سے قبل اسرائیل کی جانب سے غزہ کے معاملے پر کسی بڑی رعایت کا امکان کم ہے۔
کشنر تعطل کا شکار غزہ منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں
دو ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نیتن یاہو کے ساتھ یروشلم میں ہونے والی ملاقات میں کشنر کے ہمراہ نکولائی ملاڈینوف بھی موجود تھے، جو صدر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے غزہ کے لیے ایلچی ہیں۔ ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط اس لیے رکھی کیونکہ انہیں اس معاملے پر عوامی طور پر بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔
نیتن یاہو کے دفتر نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
ملاڈینوف اقوامِ متحدہ کے سابق عہدیدار ہیں اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ماہ ہونے والے غیر مسلح کرنے کے معاہدے میں ثالثی میں مدد کی تھی اور انہیں بڑے پیمانے پر صدر ٹرمپ کے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کردہ اصل 20 نکاتی منصوبے پر عمل درآمد کی کوششوں کی قیادت کرنے والا سمجھا جاتا ہے، جس پر اسرائیل اور حماس نے گزشتہ سال اتفاق کیا تھا۔
تاہم اب تک بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ کے منصوبے کے تحت جنگ بندی پر اتفاق کے باوجود اسرائیل غزہ میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
حماس نے گزشتہ ماہ امریکہ کی حمایت یافتہ ایک نئی 15 نکاتی حکمتِ عملی پر اتفاق کیا تھا، جس کا مقصد ٹرمپ کے منصوبے کو آگے بڑھانا تھا۔ اسرائیل نے اس حکمتِ عملی کو مسترد کر دیا۔
اس سے قبل ایک ذریعے نے بتایا کہ حماس کے رہنما خلیل الحیہ اتوار کو قاہرہ میں ثالثوں اور کشنر و ملاڈینوف کے درمیان ہونے والی بعض ملاقاتوں میں موجود تھے۔
یہ کشنر کی حماس کے نمائندوں کے ساتھ دوسری معلوم ملاقات ہے۔ امریکہ حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔
کشنر نے اس سے قبل اکتوبر 2025 میں امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ سٹیو وٹکوف کے ہمراہ حماس کے عہدیداروں سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات نے ایک ایسے معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مدد دی تھی جس کے نتیجے میں غزہ میں جنگ بندی ہوئی اور 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے دوران یرغمال بنائے گئے باقی ماندہ یرغمالیوں کی رہائی عمل میں آئی۔
صدر ٹرمپ نے جولائی کے اواخر میں کہا تھا کہ غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے کے لیے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ اس نے منصوبے سے اتفاق کیا ہے، تاہم معاہدے پر عمل درآمد کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اسرائیل پہلے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، جن میں غزہ سے فوج کا انخلا اور حملے روکنا شامل ہیں۔
