حماس کے غیر مسلح ہونے کا عمل ایک ماہ میں شروع ہو سکتا ہے: جیرڈ کُشنر
حماس کے غیر مسلح ہونے کا عمل ایک ماہ میں شروع ہو سکتا ہے: جیرڈ کُشنر
منگل 18 اگست 2026 11:20
جیرڈ کُشنر اور نیتن یاہو اس بات پر متفق ہیں کہ حماس کے تخفیف اسلحہ کی تصدیق ایک امریکی جنرل کرے گا (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے جیرڈ کُشنر نے کہا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ امن منصوبے کی طرف بڑھنے پر پیشرفت ایک مہینے کے اندر ہو سکتی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ بیان ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔
انہوں نے تل ابیب میں فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں 30 روز میں پیشرفت دکھائی دے رہی ہے، امید ہے اس دوران کچھ ہتھیاروں کو ہٹانے کا کام شروع ہو گا جبکہ سرنگوں کو بند کرنے پر بھی کام کا آغاز ہو گا۔‘
رپورٹ کے مطابق جیرڈ کُشنر اور نیتن یاہو اس بات پر متفق ہوئے کہ حماس کے تخفیف اسلحہ کی تصدیق ایک امریکی جنرل کرے گا۔‘
ایک اسرائیلی اہلکار کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے اصرار کیا گیا ہے کہ ایسا ہونے تک کوئی اسرائیلی غزہ سے باہر نہیں جائے گا۔
اس سمجھوتے کو صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف اسرائیل کو مطمئن کرنے کی ایک نئی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے قبل نیتن یاہو جن کو دوبارہ انتخاب کے لیے سخت مقابلے کا سامنا ہے، نے عوامی سطح پر امریکہ کے اس منصوبے کو مسترد کر دیا تھا جو غزہ کی جنگ کے خاتمے کے لیے بنایا گیا تھا۔
حماس کے غیرمسلح ہونے تک غزہ میں کسی نئی تعیناتی یا تعمیر نو کی کارروائی شروع نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
جیرڈ کُشنر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور نیتن یاہو کے دیرینہ خاندانی دوست ہیں، انہوں نے مصر میں حماس کے ساتھ غیرمعمولی براہ راست بات چیت کے ایک روز بعد نیتن یاہو سے ملاقات کی تھی۔
ایک سینیئر اسرائیلی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’فریقین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ غزہ کی پٹی میں تب تک کوئی نئی تعیناتی یا تعمیر نو کی کارروائی شروع نہیں کی جائے گی جب تک پورے غزہ میں حماس غیر مسلح نہیں ہو جاتی۔
اہلکار کے مطابق ’اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ غزہ کو غیر فوجی بنانے کی طرف پہلا قدم یہ ہو گا کہ حماس اپنے ہتھیار ایک امریکی جنرل کی نگرانی میں حوالے کرے۔‘
30 جولائی کو حماس کی جانب سے متفقہ روڈ میپ میں بتایا گیا تھا کہ ہتھیاروں کو ختم کرنے کی نگرانی انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس کرے گی جو کہ ایک نیا یونٹ ہے جس کو غزہ میں صورت حال معمول پر آنے کے بعد تعینات کیا جانا ہے اور اس کی قیادت امریکی میجر جنرل جیسپر جیفرز کر رہے ہیں۔
حماس کے غیرمسلح ہونے کے طریقہ کار پر صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اختلاف بھی سامنے آ چکا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
حماس نے اس سے قبل اپنے ہتھیار ایک نئی فلسطینی گورننگ باڈی کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر اس پر نیتن یاہو نے شکوک کا اظہار کیا تھا جبکہ صدر ٹرمپ نے اس کو اہم پیشرفت قرار دیا تھا۔
صدر ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ سے منسلک ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ معاہدے پر عملدرآمد کے دوران جمع کیے جانے والے تمام ہتھیار مکمل طور پر ناکارہ بنا دیے جائیں گے تاکہ انہیں دوبارہ استعمال نہ کیا جا سکے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اسرائیل کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے اور اگر حماس نے دہشت گردی، تشدد یا دوبارہ مسلح ہونے کی کوشش کی تو اسرائیل کو اس کی مناسبت سے کارروائی کا حق حاصل ہو گا۔‘
مذاکرات کے عمل میں شامل دیگر بورڈ آف پیس ارکان میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر بھی شامل ہیں۔