Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس اہلکاروں کے قتل کے مقدمے میں افغان شہری کو پھانسی

انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق اس مقدمے میں کم از کم 12 ملزمان کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے مطابق ایران نے جمعرات کو ایک افغان شہری کو پھانسی دے دی، جسے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد یہ اس سلسلے کی 30ویں پھانسی ہے۔
ایران کی عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن کے مطابق قائم حسینی کو چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث قرار دے کر سزائے موت دی گئی۔
ویب سائٹ نے صرف یہ بتایا کہ وہ ایک غیر ملکی شہری تھا، تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ دوسری جانب ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس نامی تنظیم نے بتایا کہ 21 سالہ قائم حسینی افغانستان کا شہری تھا اور اسے اصفہان کی مرکزی جیل میں پھانسی دی گئی۔
میزان آن لائن کے مطابق حسینی کو ہتھیار اٹھانے، خوف و ہراس پھیلانے، وسیع پیمانے پر بدامنی پیدا کرنے، شہریوں کی جسمانی سلامتی اور قومی سلامتی کے خلاف اقدامات کرنے، اور عوامی نظم و نسق کو شدید متاثر کرنے کے الزامات میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔
تاہم ایران ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ قائم حسینی پر صرف یہ الزام تھا کہ اس نے ایک پولیس اہلکار کو لات ماری تھی، اور حکام نے ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جس سے ثابت ہو کہ اس کے عمل کے نتیجے میں کسی پولیس اہلکار کی موت واقع ہوئی۔
تنظیم کے ڈائریکٹر محمود امیری مقدم نے کہا کہ یہ مقدمہ اجتماعی سزا اور اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے سزائے موت کے من مانے استعمال کی واضح مثال ہے۔
قائم حسینی اس مقدمے میں پھانسی پانے والا پانچواں شخص ہے، جو اصفہان میں چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت سے متعلق ہے۔ یہ واقعہ ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے دوران پیش آیا تھا، جو جنوری میں اپنے عروج پر پہنچے تھے۔
وہ ان احتجاجی مقدمات میں پھانسی پانے والا دوسرا افغان شہری بھی ہے۔ اس سے قبل گل محمد محمدی کو بھی اسی مقدمے میں جولائی میں پھانسی دی گئی تھی۔
انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق اس مقدمے میں کم از کم 12 ملزمان کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

شیئر: