Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف دائر حکومتی درخواست اعتراض کے ساتھ واپس

عدالت نے 18 اگست کو عمران خان کو 48 گھنٹے میں ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف  حکومت کی جانب سے دائر کی گئی نظرثانی کی درخواست اعتراض لگا کر واپس کر دی ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے بدھ کو نظرثانی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم جمعرات کو سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے درخواست کے ساتھ پیپر بُکس مکمل نہ ہونے کا اعتراض لگایا۔
اس کے بعد حکومت نے درخواست واپس لے لی اور اب اضافی معروضات کے ساتھ ترمیم شدہ درخواست دوبارہ دائر کی جائے گی۔
نظرثانی درخواست کی واپسی کے بعد تحریکِ انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ ریاست نے فائلنگ برانچ کے اعتراضات کے بعد نظرثانی درخواست واپس لے لی ہے اس لیے سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔
انہوں نے ایکس پر بیان میں مطالبہ کیا کہ ’عمران خان کو بغیر کسی تاخیر کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد میں اب کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔‘

حکومتی نظر ثانی شدہ درخواست میں کیا موقف اپنایا گیا تھا؟

بدھ کو وفاقی حکومت کی جانب سے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کی گئی تھی۔

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے درخواست کی واپسی کے بعد فی الفور عدالتی حکم پر عمل کیا جائے (فوٹو: سکرین گریب)

چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے دائر کرائی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کا حکم اختیار سماعت سے تجاوز کرتا ہے، اس لیے اس پر نظرثانی کی جائے۔
خیال  رہے منگل کو سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو علاج کی غرض سے 48 گھنٹے میں شفا ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی۔
اس فیصلے پر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے خوشی کا اظہار کیا گیا تھا جبکہ اس کے چند گھنٹے بعد وفاقی قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس کے خلاف عدالت میں نظر ثانی درخواست دائر  کا اعلان کیا تھا۔
 

شیئر: