Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ اور جنوبی کوریا کی جنگی مشقیں محدود، ’ایک ہفتہ قبل ختم ہوں گی‘

صدر ٹرمپ نے اتوار کو پنٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ مشقیں محدود کرنے کا حکم دیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ اور جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی سالانہ مشترکہ فوجی مشقیں طے شدہ وقت کے بجائے ایک ہفتہ قبل ختم کی جائیں گے۔
یہ بیانات صدر ٹرمپ کی جانب سے پنٹاگون کو دیے گئے اس حکم کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں مشقوں کو ’نامناسب اور دشمنانہ‘ قرار دیتے ہوئے ان کا دائرہ محدود کرنے کا کہا گیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے اتوار کو دیے گئے بیان میں اقدام کی وجہ ’شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن کے ساتھ خوشگوار تعلقات‘ کو قرار دیا تھا۔
دوسری جانب شمالی کوریا نے ان مشترکہ مشقوں کو ’فوری اور کھلا خطرہ‘ قرار دیا ہے، تاہم بیان میں صدر ٹرمپ کی جانب سے مشقوں کو محدود کرنے کے حکم کا ذکر شامل نہیں۔
جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ اب مشقیں 27 اگست کے بجائے جمعے کو ختم کر دی جائیں گی۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اب مشقوں کا دورانیہ 17 سے 21 اگست تک ہو گا اور یہ فیصلہ امریکی تجویز پر کیا گیا ہے۔‘
اسی طرح امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون کا کہنا ہے کہ مشقوں کا دائرہ محدود کرنے کا کوئی منفی اثر ضروری فوجی تیاری یا تربیتی مقاصد پر نہیں پڑے گا۔

نئے شیڈول کے مطابق اب مشقیں پچھلے طے شدہ وقت کے مقابلے میں سات روز قبل ختم ہوں گی (فوٹو: اے ایف پی)

ان فوجی مشقوں کا مقصد شمالی کوریا کے ممکنہ حملے سے نمٹنے کی تیاری کرنا ہے۔
یہ مشقیں دو مراحل پر مشتمل تھیں، جن میں پہلا مرحلہ شمالی کوریا کی جانب سے ممکنہ خطرات سے نمٹنے سے متعلق تھا جو جمعے تک جاری رہنا تھا، جبکہ دوسرے مرحلے میں جوابی کارروائی کی مشق ہونا تھی، جس کے لیے 24 سے 27 اگست کا دورانیہ رکھا گیا تھا۔
دورانیے گھٹانے کے بعد یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے جوابی کارروائی والا مرحلہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔
جنوبی کوریا کے ایک فوجی عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ سیئول اس فیصلے کو ایک ’غیرمعمولی‘ اقدام کے طور پر دیکھتا ہے۔
دوسری جانب ایٹمی ہتھیار رکھنے والا شمالی کوریا طویل عرصے سے امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ مشقوں پر برہمی کا اظہار کرتا رہا ہے اور ان کو اپنے خلاف حملے کی تیاری قرار دیتا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے کم جونگ اُن کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

بدھ کو شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی پر ایک تبصرے میں مشقوں کو ’شمالی کوریا اور خطے کی سلامتی کے لیے فوری اور کھلا خطرہ‘ قرار دیا گیا ہے۔
تاہم اس میں صدر ٹرمپ کے مشقوں کو محدود کرنے کے حکم یا شمالی کوریا کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کی خواہش کا ذکر شامل نہیں۔
اس سے ایک روز قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں اشارہ دیا تھا کہ وہ کِم جونگ اُن کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

 

شیئر: