ٹرمپ کی ایران کی مدد کرنے والے ممالک کو معاشی سزا کی دھمکی
ٹرمپ کی ایران کی مدد کرنے والے ممالک کو معاشی سزا کی دھمکی
جمعرات 20 اگست 2026 12:24
ٹرمپ کو نومبر کے انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ جنگ پر اندرونی سیاسی دباؤ کا بھی سامنا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کی معیشت کو نشانہ بنانے کے لیے ایک بڑی نئی مہم شروع کر رہے ہیں، اور کسی بھی ایسے ملک کو ’بہت بڑی‘ سزا دینے کی دھمکی دی جو ایران کے ساتھ کاروبار کرے گا یا اس کی مدد کرے گا۔
فرانسیسی نیوز یجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ شدت اختیار کرتی ہوئی اقتصادی دباؤ کی مہم اس وقت سامنے آئی ہے جب جنگ چھٹے مہینے میں داخل ہو رہی ہے اور نہ کوئی فوری سفارتی راستہ نظر آ رہا ہے اور نہ ہی فوجی۔
ٹرمپ کو نومبر کے انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ جنگ پر اندرونی سیاسی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔
انہوں نے بدھ کو ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’آج میں اعلان کر رہا ہوں کہ کسی بھی ملک کے خلاف اب تک کی سب سے زیادہ کچلنے والی اقتصادی کارروائی کی جائے گی! یہ ایک بے مثال پیمانے پر اقتصادی جنگ اور تنہائی ہوگی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں یہ بھی اعلان کر رہا ہوں کہ کوئی بھی ملک جو اپنے مالیاتی اداروں، کاروباروں، ہوائی اڈوں یا سرکاری اداروں کو ایران کے لیے کسی قسم کی سہولت فراہم کرنے کی اجازت دے گا، اسے خود بھی بہت بڑی اقتصادی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ممالک کو کس قسم کی سزا دی جائے گی اور ایران کے علاوہ کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹرمپ کے منصوبے کو ’ناکام پالیسیوں کا تسلسل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واشنگٹن کو ’مزید شکست‘ ہوگی۔
عباس عراقچی نے لکھا کہ ’نام نہاد 'اقتصادی ڈی ڈے‘ امریکہ کے اپنے بحران سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’نام نہاد 'اقتصادی ڈی ڈے‘ امریکہ کے اپنے بحران سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے: بے مثال قرض اور بڑھتی ہوئی سودی لاگت۔ ناکام پالیسیوں پر دوبارہ زور دینا صرف مزید شکست اور ایرانی عوام کی دشمنی لائے گا۔‘
صدر کے بیانات تقریباً ایک ہفتے بعد سامنے آئے ہیں جب امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا تھا کہ امریکہ ایران پر ایسی اقتصادی تنہائی مسلط کرے گا ’جیسی دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔‘
گذشتہ دنوں دونوں فریقین نے کہا کہ پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے، تاہم ٹرمپ نے منگل کو اصرار کیا کہ مذاکرات ختم ہو گئے ہیں اور سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا کہ یہ آبنائے ’امریکہ کی نئی سرزمین‘ بن سکتی ہے۔