Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حجر کا آثارِ قدیمہ آج بھی سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز

العلا گورنریٹ میں واقع حجر کا آثارِ قدیمہ کا مقام سعودی عرب اور دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کے لیے سال بھر ایک اہم سیاحتی مرکز ہے۔ یہاں آنے والے سیاح اس کے تاریخی مقامات اور تراشیدہ چٹانوں کا مشاہدہ کرتے ہیں جو خطے کے شاندار ماضی کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق حِجر کو عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ سعودی عرب کا پہلا مقام ہے جسے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ یہاں موجود آثارِ قدیمہ اور تعمیراتی باقیات اس گورنریٹ کے قدیم اور ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتی ہیں۔
حجر میں انسانی موجودگی کے شواہد پہلی صدی قبل مسیح سے بھی پہلے کے دور تک ملتے ہیں۔ بعد ازاں یہ مقام نباتیئن سلطنت کے اہم ترین مراکز میں شمار ہونے لگا۔
اس کی تاریخی وراثت آج بھی چٹانوں پر کندہ تحریروں اور نقوش کی صورت میں نمایاں ہے جو اس دور کے معاشرتی اور ثقافتی طرزِ زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔
حجر میں چٹانوں سے بنے 141 مقامات ہیں جن میں سے 93 پر خوبصورت نقش و نگار اور جیومیٹرک ڈیزائن سے مزین چٹانوں کو تراش کر بنائے گئے عمارتوں کے بیرونی حصے موجود ہیں۔

اس مقام پر سماجی اہمیت کی حامل متعدد کتبے بھی ملتے ہیں جن میں سے بعض یہاں آباد رہنے والی قدیم آبادیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔ یہ آثار فنِ تعمیر، چٹانوں کو تراشنے کی تکنیک اور عمارتوں کے بیرونی حصوں کے ڈیزائن میں ہونے والی ترقی کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔

ٹورسٹ بس یا فور بائی فور گاڑی میں سیاح حِجر کے اہم تاریخی مقامات کی سیر کر سکتے ہیں اور اس کی تاریخ کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ یہ دورے سیاحوں کو حِجر کے آثارِ قدیمہ کو قریب سے دیکھنے اور اس کے تاریخی ورثے کو دریافت کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

شیئر: