العلا کی صدیوں پرانی شمسی گھڑی ’طنطورہ‘ کیسے کام کرتی تھی؟
تاریخی علاقے العلا کی قدیم بستی کے درمیان میں واقع ’طنطورہ‘ خطے کے ایک بھر پور ثقافتی ورثے کا گواہ ہے جو صدیوں سے اس خطے کے لوگوں کے ساتھ جڑا رہا۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق طنطورہ مقامی آبادی کے لیے وقت، موسموں اور زرعی سرگرمیوں کے تعین کا بنیادی ذریعہ رہا ہے۔
یہ تاریخی مقام نہ صرف العلا کی قدیم تہذیب کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس دور کے لوگوں کی فطرت، موسموں اور فلکیاتی مظاہر سے گہری واقفیت کا بھی ثبوت ہے۔
طنطورہ دراصل سورج کی روشنی اور سائے کی حرکت پر مبنی ایک ’سولر واچ‘ ہے جسے انتہائی دقیق انداز میں بنایا گیا تھا۔ اس کے ذریعے زرعی موسموں کے آغاز، چاروں موسموں اور کاشتکاری سے متعلق دیگر اہم اوقات کا تعین کیا جاتا تھا۔
یہ نظام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ العلا کے باشندوں نے قدرتی مظاہر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی زرعی اور روزمرہ زندگی کو منظم کرنے کے لیے موثر طریقے اختیار کیے تھے۔

اس قدیم بستی کے قلب میں واقع طنطورہ آج بھی تاریخی عمارتوں، بازاروں اور قدیم گزرگاہوں کے درمیان اپنی اصل حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ مقام العلا کی سماجی، معاشی اور زرعی تاریخ کی جھلک پیش کرتا ہے اور سیاحوں کو ماضی کی زندگی کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

العلا کی قدیم بستی علاقے کی اہم ثقافتی اور تاریخی سیاحتی منزلوں میں شمار ہوتی ہے جبکہ طنطور آباء اجداد کے علم، وقت کی درست پیمائش اور زرعی نظام کی منصوبہ بندی کی ایک منفرد و نایاب علامت کے طور پر العلا کے گہرے تہذیبی ورثے کی علامت ہے جو آج بھی اپنی تاریخی اور ثقافتی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
