Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انگلینڈ کے دو بولرز کی پانچ، پانچ وکٹیں، یادگار کے طور پر میچ بال کاٹ کر آدھی آدھی کر لی

لیڈز میں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ کے پہلے دن میں اولی رابنسن اور جوش ٹنگ 5,5 وکٹیں حاصل کرنے کے بعد گراؤنڈ سے باہر نکلے تو میچ بال ایک دوسرے کے ہاتھ میں تھامے ہوئے تھے۔
کرک انفو کے مطابق دونوں کے درمیان بال کو اپنے پاس رکھنے پر کوئی اختلاف نہیں ہوا، اور اس کی وجہ یہ تھی انہوں نے بال کو بالکل درمیان سے کاٹ کر آدھا آدھا رکھنے کا فیصلہ کیا۔
انگلینڈ کی ٹیم انتظامیہ نے بال ہیڈنگلے کے گراؤنڈ سٹاف کے حوالے کردی، جنہوں نے اسے درمیان سے دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ یوں رابنسن اور ٹنگ کو کرکٹ کی یادگاروں میں شامل ہونے والی ایک انتہائی منفرد چیز میں برابر کا حصہ مل گیا۔
رابنسن نے بتایا، ’ہم میدان سے باہر آ رہے تھے تو میں نے ٹنگی سے کہا کہ میرے خیال میں ہمیں گیند آدھی آدھی تقسیم کرلینی چاہیے۔ انہوں نے بھی یہی بات کہی اور میں نے کہا کہ یہ بہت اچھا ہوگا۔ ایسی چیز بہت کم ہوتی ہے کہ آپ کے پاس کرکٹ بال کا آدھا حصہ ہو، اس لیے یہ ایسی یادگار ہوگی جسے ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔ ایک ہی اننگز میں دو بولرز کا پانچ، پانچ وکٹیں لینا بھی عام بات نہیں، اس لیے یہ ایک خوبصورت یادگار ہے۔
بی بی سی ٹیسٹ میچ سپیشل سے گفتگو کرتے ہوئے ٹنگ نے اس کا کریڈٹ اپنے سینئر ساتھی کو دیا۔ انہوں نے کہا، ’رابو نے کہا کہ ہم گیند کو آدھا آدھا تقسیم کرلیتے ہیں۔ گراؤنڈ سٹاف نے مہربانی کرکے ایسا کردیا۔ میں نے پہلی بار ایسا ہوتے دیکھا ہے۔ یقیناً میں اسے کہیں سجا کر رکھوں گا۔
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں یہ 16واں موقع تھا جب انگلینڈ کے دو گیند بازوں نے ایک ہی اننگز میں پانچ، پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ اس سے قبل آخری بار 2006 میں سٹیو ہارمیسن اور مونٹی پنیسر نے پاکستان کے خلاف اولڈ ٹریفورڈ ٹیسٹ میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔
رابنسن نے میچ کی پہلی ہی گیند پر وکٹ حاصل کرکے دن کا آغاز کیا۔ یہ تقریباً 20 سال بعد انگلینڈ میں پہلا موقع تھا جب کسی ٹیسٹ کی پہلی گیند پر انگلش بولر نے وکٹ حاصل کی۔ انہوں نے پاکستان کے ٹاپ پانچ میں سے چار بیٹرز کو آؤٹ کیا، جبکہ ’دی موپ‘ کے نام سے مشہور ٹنگ نے نچلے نمبرز کے بیٹر کی صف لپیٹ دی۔
یوں پاکستان ٹاس ہارنے کے بعد پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 171 رنز پر آل آؤٹ ہوگیا اور جو روٹ کی دوسری مرتبہ انگلینڈ کی کپتانی کا آغاز بہترین انداز میں ہوا۔
Josh Tongue and Ollie Robinson took five-fors in the first innings, England vs Pakistan, Headingley, 1st Men's Test, Day 1, August 19, 2026
جوش ٹنگ نے کہا کہ رابنسن نے بال کو آدھا آدھا تقسیم کرنے کا کہا جس پر گراؤنڈ سٹاف نے مہربانی کرکے ایسا کردیا۔ (فوٹو: گیٹی ایمجز)

رابنسن، جو نیوزی لینڈ کے خلاف دو ٹیسٹ میچز سے باہر رہے تھے، کے لیے اس دن کو یاد رکھنے کی ایک اور خاص وجہ بھی تھی۔ گزشتہ ہفتے ان کے ہاں دوسری بیٹی ایوا کی پیدائش ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا، ’ہماری نوزائیدہ بیٹی گزشتہ جمعرات رات دو بجے دنیا میں آئی، اس لیے لیڈز کے ہوٹل پہنچنے کے بعد سے نیند پوری کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ میرے لیے بہت خاص ہفتہ رہا ہے۔ ایک اور بچے کی پیدائش کے بعد جب آپ انہیں چھوڑ کر آتے ہیں اور پھر میدان میں ایسی کارکردگی پیش کرتے ہیں تو آج کا دن اور بھی خوبصورت محسوس ہوا۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ یہاں نہیں ہیں اور گھر پر ہیں، لیکن پورے وقت میرے ذہن میں وہی تھے۔
اس سیزن میں شاندار واپسی کرنے والے رابنسن نے کہا کہ اب ان کی توجہ انگلینڈ کے لیے مسلسل اچھی کارکردگی دکھانے پر ہے۔ لارڈز میں دو سال سے زائد عرصے بعد ٹیم میں واپسی کرتے ہوئے انہوں نے پہلے ہی اوور میں تین وکٹیں حاصل کی تھیں۔ تاہم انجری کے باعث وہ نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرا ٹیسٹ نہیں کھیل سکے، جبکہ مکمل فٹ ہونے کے باوجود تیسرے ٹیسٹ کے لیے بھی منتخب نہیں ہوئے۔
رابنسن نے کہا، ’اوول میں کھیلنے سے محروم رہنا مایوس کن تھا، وہ ٹریننگ کے دوران پیش آنے والی ایک عجیب انجری تھی۔ اس کے بعد میں ٹرینٹ برج میں دستیاب تھا لیکن منتخب نہیں کیا گیا، اور پیشہ ورانہ کھیل میں ایسا ہوتا ہے۔ میں کھیلنے کے لیے تیار تھا لیکن مجھے منتخب نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد سے میں نے اپنی فٹنس اور کچھ تکنیکی پہلوؤں پر بہت محنت کی ہے، اور آج جب اس کا نتیجہ سامنے آیا تو بہت اچھا لگا۔‘‘
’گزشتہ پانچ، چھ ہفتوں سے میں انگلینڈ کی میڈیکل ٹیم کے ساتھ بہت قریب سے کام کر رہا ہوں اور ہم نے خاصی اچھی پیش رفت کی ہے۔ ابھی کام مکمل نہیں ہوا، لیکن میں خود کو بہت اچھا محسوس کر رہا ہوں۔ اب مجھے صرف تسلسل برقرار رکھنا ہے اور بہت زیادہ اتار چڑھاؤ سے بچنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ’جب میں ٹیم سے باہر تھا تو میں نے اپنے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔ اپنی فٹنس اور جسم کو بہتر کرنا سیکھا۔ اس وقت میں خود کو شاید اپنی بہترین حالت میں محسوس کر رہا ہوں۔ لارڈز کے بعد ریڈ بال کرکٹ نہیں کھیلی، اس لیے شاید ابھی وہ ردھم حاصل نہیں جو میں چاہتا ہوں۔ وکٹیں لینے کے بعد یہ بات کہنا عجیب لگ سکتی ہے، لیکن میں جتنا زیادہ کھیلتا ہوں، اتنا ہی بہتر ہوتا جاتا ہوں۔ اگر میں فٹ رہوں اور مسلسل میدان میں موجود رہوں تو امید ہے کہ اپنا ردھم حاصل کرکے اچھی کارکردگی برقرار رکھ سکوں گا۔
 

شیئر: