Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’نئی نسل کو ہنر کی منتقلی‘، جدہ تاریخیہ میں رواشین کی بحالی

رواشین شہر کی شناخت اور تعمیراتی ورثے کا ایک لازمی حصہ ہیں ( فوٹو: ایس پی اے)
جدہ تاریخیہ کی گلیوں میں رواشین (روایتی لکڑی کی آرائشی جالیاں) کی اہمیت عمارتوں کو سجانے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ شہر کی شناخت اور تعمیراتی ورثے کا ایک لازمی حصہ ہیں۔
یہ رواشین قدیم اسلامی فن تعمیر کی پہچان اور حجاز کے علاقے کا وہ امتیازی نشان ہے جو سینکڑوں برسوں سے قائم ہے۔
رواشین پر بنائے جانے والے نقش و نگار اور باریک تفصیلات کاریگروں کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ روایتی فنِ تعمیر نے کس طرح موسم اور رہائشیوں کی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالا ہے۔
اب جبکہ یہ ہنر نئی نسل کو منتقل ہو رہا ہے۔ سعودی نوجوان رواشین بنانے اور انہیں بحال کرنے کا ہنر سیکھ رہے ہیں۔
انہیں روایتی لکڑی کے ساتھ کام کرنے، نقش و نگار کی باریکیوں کو سمجھنے، انہیں تراشنے اور تنصیب کی تیکنیک میں مہارت حاصل کرنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔

یہ کوششیں جدہ تاریخیہ کی نمایاں ترین بصری شناخت میں سے ایک کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
بحالی میں لکڑی کے ٹکڑوں کی ریپیئرنگ سے کہیں زیادہ کام ہے۔ اس کے لیے روایتی تعمیراتی طریقوں اور ہر جالی کی  مخصوص خصوصیات کا گہرا علم درکار ہوتا ہے۔ اس کا مقصد اصل عناصر اور تاریخی تفصیلات کو جہاں تک ہو سکے، محفوظ رکھنے کی کوشش بھی ہے۔

رواشین روایتی فنِ تعمیر کی ان نمایاں ترین خصوصیات میں سے ہیں جو خوبصورتی کو افادیت کا بہترین امتزاج ہیں۔
 یہ نہ صرف گھروں میں روشنی اور ہوا کا گزر یقینی بناتے ہیں بلکہ رہائیشیوں کی پرائیویسی بھی بر قرار رکھتے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ رواشین جدہ تاریخیہ کی ایک منفرد شناخت بن گئے ہیں۔

 

شیئر: