نجران: شعب دحضہ سے 18 لاکھ برس قدیم انسانی آبادی کے آثار دریافت
شعب دحضہ سے پتھر کے 34 اوزاروں کا ایک مجموعہ ملا جو حجری دور کا ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی ہیریٹیج کمیشن نے نجران کے علاقے میں واقع شعب دحضہ کے آثارِ قدیمہ کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے انہیں جنوبی عرب میں انسانی آبادی اور ہجرت کے ابتدائی دور کا اہم ثبوت قرار دیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہاں سے ملنے والے پتھر کے اوزار ابتدائی حجری (لوئر پیلیو لیتھک) دور کے ہیں جو 1.2 سے 1.8 ملین سال پرانے ہیں۔
1980 میں کیے جانے والے سروے کے دوران وادی کی ایک بلند سطح سے پتھر کے 34 اوزاروں کا ایک مجموعہ ملا جو سخت اور لچکدار کوارٹزائٹ سے بنے ہیں۔
ان اوزاروں میں مختلف قسم کے کٹر، کھرچنی، بلیڈ اور ہتھوڑے شامل ہیں جنہیں گوشت کاٹنے، ہڈیاں توڑنے اور کھال اتارنے جیسے مختلف کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
ہیریٹیج کمیشن کے شعبہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر العتیبی نے کہا کہ شعب دحضہ کا یہ مقام جزیرہ نمائے عرب میں انسانی موجودگی کے دور کے بارے میں اہم سائنسی معلومات فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے قبل از تاریخ کے مقامات کو دستاویز کرنے، ان کے تحفظ اور انسانی بستیوں کی تاریخ کا مطالعہ کرنے کی کوششوں کو اجاگر کیا۔

سروات کے پہاڑوں کی مشرقی ڈھلوانوں پر وادی نجران سے منسلک اس مقام پر قدیم دور میں پانی، اوزار سازی کے لیے خام پتھر، نباتاتی اور حیوانی وسائل دستیاب تھے جس سے ابتدائی انسانی آبادکاری میں مدد ملی۔
نجران سوسائئی فار ہسٹری اینڈ آرکیالوجی کے مطابق دریافت ہونے والے یہ اوزار مقامی وسائل کو استعمال کرنے میں قدیم انسانوں کی مہارت اور ذہانت کا ثبوت ہیں۔

یہ آثارانسانی سرگرمیوں کے حوالے سے دنیا کے قدیم ترین مراکز میں نجران کی تاریخی اہیمت کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔
ہیریٹیج کمیشن مملکت میں آثار قدیمہ کے تحفظ اور تحقیق کے لیے اپنی کوششں جاری رکھے ہوئے ہے۔
