جنگ کے اثرات: امریکی پابندیوں میں شدت سے ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا
جنگ کے اثرات: امریکی پابندیوں میں شدت سے ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا
ہفتہ 29 اگست 2026 8:23
بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی برآمدات اور درآمدات میں تقریباً 35 فیصد کمی آئی ہے (فوٹو: روئٹرز)
امریکہ کے ساتھ جنگ کے باعث ایران کی معیشت پر پڑنے والے اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں جبکہ ایرانی قیادت نے بھی معاشی مشکلات کا اعتراف کر لیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ’مہنگائی، بے روزگاری اور اشیا و خدمات کی قیمتوں سمیت عوام کو درپیش معاشی مشکلات سے نمٹا جائے۔‘
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ ’امریکی پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی برآمدات اور درآمدات میں تقریباً 35 فیصد کمی آئی ہے۔‘
ایرانی صدر کے مطابق ’جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مختصر مدت کے مفاہمتی معاہدے کے دوران، جب واشنگٹن نے ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دی، ایران تقریباً نو کروڑ بیرل تیل فروخت کرنے میں کامیاب رہا۔‘
دوسری جانب امریکہ نے ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ واشنگٹن نے مختلف ممالک کو خبردار کیا ہے کہ ’وہ ایران کے ساتھ کاروباری روابط ختم کریں، بصورت دیگر انہیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
تاہم امریکی محکمہ خزانہ نے چین اور انڈیا جیسے ایران کے بڑے تجارتی شراکت داروں کے خلاف تاحال پابندیاں عائد نہیں کیں، کیونکہ اس کے عالمی اور امریکی معیشت پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکہ نے مصر کے ’بینک مصر‘ پر بھی تہران کے ساتھ کاروبار کرنے کے الزام میں پابندیاں عائد کی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ’بینک مصر‘ کی متحدہ عرب امارات میں موجود شاخوں کے ڈالر میں لین دین پر بھی پابندی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مصر کے مرکزی بینک نے کہا ہے کہ ’وہ اور وزارت خارجہ اس معاملے پر امریکی حکام سے رابطے میں ہیں اور یہ اقدام صرف بینک مصر یو اے ای کے امریکی ڈالر میں متعلقہ بینکوں کے ساتھ لین دین تک محدود ہے۔‘
امریکی محکمہ خزانہ نے ہانگ کانگ میں قائم ایک ادارے اور ایران کے بینک ملی سے منسلک ایک شخص پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔
امریکی پابندیوں کے ساتھ جنگ نے ایران کی معیشت پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے، جہاں گزشتہ ماہ سالانہ مہنگائی کی شرح 66 فیصد تک پہنچ گئی۔
ادھر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کو چھ ماہ مکمل ہونے کے قریب ہے جبکہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ اسی دوران دیگر رہنماؤں کی جانب سے امریکہ کو فوجی کارروائی کے ذریعے جواب دینے کی دھمکیاں بھی سامنے آ رہی ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کو چھ ماہ مکمل ہونے کے قریب ہے جبکہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں (فوٹو: روئٹرز)
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے جمعرات کو تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں جنگ سے قبل کی طرح بحری آمدورفت بحال کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو قطری وزیراعظم کے ساتھ مذاکرات کو ’تخلیقی‘ قرار دیا۔
امریکہ کے اتحادی اور ایران کے ہمسائہ ملک قطر نے پاکستان کے ساتھ مل کر جون کے مفاہمتی معاہدے میں ثالثی کی تھی، جس کے نتیجے میں مختصر جنگ بندی ہوئی تاہم آبنائے ہرمز پر اختلافات کے باعث یہ جنگ بندی ختم ہوگئی۔
امریکی فوجی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ ’امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز سے ان سمندری بارودی سرنگوں کو صاف کر دیا ہے جو کئی ماہ قبل ایران کے پاسداران انقلاب نے بچھائی تھیں۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل کہتے رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے، تاہم پاسداران انقلاب کی بحریہ نے اپنے بیان میں ان دعوؤں کو ’کھلا جھوٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی اجازت کے بغیر اس آبی گزرگاہ سے بحری جہازوں کی آمدورفت بدستور بند ہے۔
جمعے کو جاری ہونے والے ابتدائی بحری اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو صرف سات تجارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 17 تھی اور گزشتہ 10 دن کی اوسط 15 جہاز روزانہ تھی۔