Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی فوج کی مدد کرنے والے افغان شہریوں کے بھائی کو ملک بدر کردیا

امریکہ نے سنیچر کے روز درجنوں افراد کو وسطی افریقی جمہوریہ ڈی پورٹ کر دیا، اِن میں ایک افغان بھی شامل ہے جس کے بھائی افغانستان میں امریکی فوج کے ساتھ تعاون کرتے رہے تھے۔
اس افغان شہری کی عمر 20 برس سے زائد ہے۔ اس کی وکیل الما ڈیوڈ نے بتایا کہ ’ایک امریکی جج نے اسے افغانستان ملک بدر کیے جانے سے تحفظ فراہم کیا تھا کیونکہ اسے طالبان کی جانب سے انتقامی کارروائی کا نشانہ بنائے جانے کا خدشہ تھا۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق افغانستان میں اس کے خاندان کو طالبان کی جانب سے دھمکیاں موصول ہوئی تھیں، کیونکہ اس کے بھائی ماضی میں امریکی فوج کی معاونت کرتے رہے تھے۔
وکیل الما ڈیوڈ کے مطابق ’افغان شہری کا امریکہ میں رہائش پذیر ایک بھائی افغان نیشنل آرمی میں خدمات انجام دے چکا ہے، اور اُس نے 2021 میں طالبان کی جانب سے کابل کا کنٹرول سنبھالنے سے قبل امریکی فوج کے ساتھ تعاون بھی کیا تھا۔‘
انہوں نے اس حوالے سے مزید بتایا کہ ’ملک بدر کیے گئے افغان شخص کا ایک اور بھائی امریکی تربیت یافتہ پائلٹ تھا، جسے طالبان نے قتل کر دیا تھا۔‘
ایک غیر سرکاری تنظیم ’ہیومن رائٹس فرسٹ‘ کی ڈائریکٹر برائے پالیسی، پناہ گزین اور حقوقِ تارکینِ وطن ’ساوی آروی‘ نے ڈی پورٹ کیے گئے افراد کی تفصیل فراہم کی۔
اُن کے مطابق ’امریکہ بدر کیے گئے افراد میں 12 افغان جبکہ 8 ایرانی شہری شامل تھے، جبکہ نیپال اور نکاراگوا کے متعدد شہریوں کو بھی ڈی پورٹ کیا گیا۔‘
’اِن افراد کو سنیچر کے روز ایک خصوصی فلائٹ کے ذریعے امریکہ سے وسطی افریقی جمہوریہ کے دارالحکومت بانگوئی پہنچایا گیا۔‘
 

شیئر: