انگلینڈ کے سابق فاسٹ بولر اور کمنٹیٹر سٹورٹ براڈ نے پاکستان کے اوپنر امام الحق کو انجری کے باوجود لارڈز میں بیٹنگ پریکٹس کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’دکھاوا‘ قرار دیا ہے۔
امام الحق کو انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے دوران بیٹنگ کرتے ہوئے پنڈلی میں تکلیف ہوئی تھی۔
ہیڈنگلے میں کھیلے گئے اس میچ میں پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست ہوئی تھی جبکہ امام الحق نے پہلی اننگز میں 42 رنز بنائے تھے۔
مزید پڑھیں
-
لارڈز ٹیسٹ: بارش پھر آ گئی، انگلینڈ کی مجموعی برتری 279 رنزNode ID: 907956
ان کی انجری دوسرے ٹیسٹ کے پہلے روز لارڈز میں فیلڈنگ کے دوران مزید بڑھ گئی، جس کے بعد وہ پاکستان کی پہلی اننگز میں بیٹنگ نہیں کر سکے۔
پاکستان ٹیم کی جانب سے ابتدا میں امام الحق کی انجری کو پنڈلی کا کھچاؤ قرار دیا گیا تھا، تاہم چوتھے روز کے کھیل سے قبل بتایا گیا کہ انہیں گریڈ ون ٹیئر کا سامنا ہے۔
اسی دوران سابق پاکستانی چیف سلیکٹر محمد وسیم سمیت بعض ناقدین نے امام الحق کی انجری پر سوالات اٹھاتے ہوئے ان پر انجری کا بہانہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا۔
چوتھے روز کھیل شروع ہونے سے قبل امام الحق لارڈز کے میدان میں نظر آئے، جہاں انہوں نے تھرو ڈاؤنز پر بیٹنگ پریکٹس کی۔
ان کی بائیں پنڈلی پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور وہ میدان میں چلتے ہوئے لنگڑاتے بھی دکھائی دیے۔
سکائی سپورٹس پر کمنٹری کرتے ہوئے ایان وارڈ نے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے حوصلہ افزا علامت ہوسکتی ہے، تاہم امام الحق جس طرح چل رہے ہیں ، اس حالت میں وہ ’آسان ہدف‘ بن سکتے ہیں۔
پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی سابق کھلاڑی عروج ممتاز نے بھی امام الحق کی پریکٹس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے باہر ہونے والی تنقید کے باعث انہیں میدان میں آ کر کھیلنے کی کوشش دکھانی پڑی ہو۔
انہوں نے کہا کہ امام الحق کی ٹانگ پر پٹی بندھی ہوئی ہے اور جوفرا آرچر کی رفتار کے سامنے اس حالت میں ان کے لیے کھیلنا مشکل ہوسکتا ہے۔
تاہم سٹورٹ براڈ نے امام الحق کی اس پریکٹس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
سکائی سپورٹس پر بات کرتے ہوئے سٹورٹ براڈ نے کہا، ’یہ سب دکھاوے کے لیے ہے۔ انہیں میڈیا یا شاید ساتھی کھلاڑیوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ امام الحق یہ پریکٹس کسی انڈور سکول میں بھی کرسکتے تھے، جہاں کوئی انہیں نہ دیکھتا۔
Stuart Broad after seeing Imam-ul-Haq practicing "that is all for show. He's had a bit of stick from the media and maybe team-mates. You can do that (practice) in an indoor school without anyone seeing, you don't have to wear shorts, a bit of tape and hobble around like that. I'm… pic.twitter.com/0GEYnuBIEt
— Saj Sadiq (@SajSadiqCricket) August 30, 2026
سٹورٹ براڈ کا کہنا تھا کہ ’آپ کو شارٹس پہن کر، ٹانگ پر پٹی باندھ کر اور اس طرح لنگڑاتے ہوئے چلنے کی ضرورت نہیں۔ معذرت کے ساتھ، میں اس سے متاثر نہیں ہوا۔‘
آسٹریلوی کمنٹیٹر جم میکسویل نے بھی امام الحق کے معاملے پر سخت ردعمل دیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’انہیں دوبارہ کبھی نہیں کھیلنا چاہیے۔‘ اور اس صورتحال کو ’شرمناک‘ قرار دیا۔
He should never play again. Appalling. https://t.co/TRAxtld7RS
— jim maxwell (@jimmaxcricket) August 30, 2026










