Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’یہ سب دکھاوا ہے، انہیں دوبارہ نہیں کھیلنا چاہیے‘، امام الحق کی انجری پر شدید تنقید

امام الحق کو انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے دوران بیٹنگ کرتے ہوئے پنڈلی میں تکلیف ہوئی تھی۔ (فوٹو: ویڈیو گریب)
انگلینڈ کے سابق فاسٹ بولر اور کمنٹیٹر سٹورٹ براڈ نے پاکستان کے اوپنر امام الحق کو انجری کے باوجود لارڈز میں بیٹنگ پریکٹس کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’دکھاوا‘ قرار دیا ہے۔
امام الحق کو انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے دوران بیٹنگ کرتے ہوئے پنڈلی میں تکلیف ہوئی تھی۔ 
ہیڈنگلے میں کھیلے گئے اس میچ میں پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست ہوئی تھی جبکہ امام الحق نے پہلی اننگز میں 42 رنز بنائے تھے۔
ان کی انجری دوسرے ٹیسٹ کے پہلے روز لارڈز میں فیلڈنگ کے دوران مزید بڑھ گئی، جس کے بعد وہ پاکستان کی پہلی اننگز میں بیٹنگ نہیں کر سکے۔
پاکستان ٹیم کی جانب سے ابتدا میں امام الحق کی انجری کو پنڈلی کا کھچاؤ قرار دیا گیا تھا، تاہم چوتھے روز کے کھیل سے قبل بتایا گیا کہ انہیں گریڈ ون ٹیئر کا سامنا ہے۔
اسی دوران سابق پاکستانی چیف سلیکٹر محمد وسیم سمیت بعض ناقدین نے امام الحق کی انجری پر سوالات اٹھاتے ہوئے ان پر انجری کا بہانہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا۔
چوتھے روز کھیل شروع ہونے سے قبل امام الحق لارڈز کے میدان میں نظر آئے، جہاں انہوں نے تھرو ڈاؤنز پر بیٹنگ پریکٹس کی۔
ان کی بائیں پنڈلی پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور وہ میدان میں چلتے ہوئے لنگڑاتے بھی دکھائی دیے۔
سکائی سپورٹس پر کمنٹری کرتے ہوئے ایان وارڈ نے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے حوصلہ افزا علامت ہوسکتی ہے، تاہم امام الحق جس طرح چل رہے ہیں ، اس حالت میں وہ ’آسان ہدف‘ بن سکتے ہیں۔
پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی سابق کھلاڑی عروج ممتاز نے بھی امام الحق کی پریکٹس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے باہر ہونے والی تنقید کے باعث انہیں میدان میں آ کر کھیلنے کی کوشش دکھانی پڑی ہو۔
انہوں نے کہا کہ امام الحق کی ٹانگ پر پٹی بندھی ہوئی ہے اور جوفرا آرچر کی رفتار کے سامنے اس حالت میں ان کے لیے کھیلنا مشکل ہوسکتا ہے۔
تاہم سٹورٹ براڈ نے امام الحق کی اس پریکٹس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
سکائی سپورٹس پر بات کرتے ہوئے سٹورٹ براڈ نے کہا، ’یہ سب دکھاوے کے لیے ہے۔ انہیں میڈیا یا شاید ساتھی کھلاڑیوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ امام الحق یہ پریکٹس کسی انڈور سکول میں بھی کرسکتے تھے، جہاں کوئی انہیں نہ دیکھتا۔
سٹورٹ براڈ کا کہنا تھا کہ ’آپ کو شارٹس پہن کر، ٹانگ پر پٹی باندھ کر اور اس طرح لنگڑاتے ہوئے چلنے کی ضرورت نہیں۔ معذرت کے ساتھ، میں اس سے متاثر نہیں ہوا۔‘
آسٹریلوی کمنٹیٹر جم میکسویل نے بھی امام الحق کے معاملے پر سخت ردعمل دیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’انہیں دوبارہ کبھی نہیں کھیلنا چاہیے۔‘ اور اس صورتحال کو ’شرمناک‘ قرار دیا۔
امام الحق کو باضابطہ طور پر ٹیسٹ سے باہر قرار نہیں دیا گیا تھا، تاہم وہ دوسری اننگز میں بھی بیٹنگ کے لیے میدان میں نہیں آئے۔
پاکستان کی دوسری اننگز میں بیٹنگ ایک بار پھر ناکام رہی اور ٹیم نے صرف 8 اوورز کے اندر 3 وکٹیں گنوا دیں۔ پوری ٹیم 194 رنز پر آؤٹ ہوگئی اور انگلینڈ نے 194 رنز سے میچ جیت لیا۔
امام الحق کی انجری سے متعلق سابق چیف سلیکٹر محمد وسیم بھی پہلے ہی سوالات اٹھا چکے تھے۔
انہوں نے اپنے یوٹیوب چینل پر 2022 میں انگلینڈ کے خلاف ملتان ٹیسٹ کے دوران امام الحق کو پیش آنے والی ایک انجری کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس وقت ٹیم کے فزیو نے انہیں پہلے ہی آگاہ کردیا تھا کہ ایسا ہونے والا ہے۔
محمد وسیم نے کہا کہ اس وقت انجری کا باضابطہ اعلان بھی نہیں ہوا تھا اور کھلاڑی نے بھی کچھ نہیں کہا تھا، تاہم فزیو نے انہیں پہلے ہی اس حوالے سے خبردار کردیا تھا اور بعد میں بالکل ایسا ہی ہوا۔
سابق چیف سلیکٹر نے کہا کہ ایسے کرداروں سے جان چھڑانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس طرح کی صورت حال ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں کو غلط پیغام دیتی ہے اور ایک غلط مثال قائم ہوتی ہے۔
دوسرے ٹیسٹ میں انگلینڈ کے فاسٹ بولر اولی رابنسن کو مسلسل دوسری مرتبہ پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔ انہوں نے دونوں اننگز میں 4،4 وکٹیں حاصل کیں۔
اولی رابنسن نے سیریز میں اب تک 16 وکٹیں حاصل کی ہیں اور ان کی بولنگ اوسط صرف 7.19 ہے۔ انہوں نے پہلے ٹیسٹ میں بھی 8 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
لارڈز ٹیسٹ میں کامیابی کے بعد انگلینڈ نے 3 میچز کی سیریز میں 2-0 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کرلی ہے، جبکہ سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 ستمبر سے ایجبسٹن میں کھیلا جائے گا۔

شیئر: