’مودی جی آپ نے زندگی نرکھ بنا دی‘، انڈین لڑکی کی ویڈیو پر نیا سیاسی تنازع
’مودی جی آپ نے زندگی نرکھ بنا دی‘، انڈین لڑکی کی ویڈیو پر نیا سیاسی تنازع
پیر 31 اگست 2026 10:53
جنتر منتر احتجاج کے دوران منظرعام پر آنے والی پچھلی ویڈیو کے بعد لڑکی نے معافی مانگ لی تھی (فوٹو: انڈین میڈیا)
انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں حکومت کے خلاف کاکروچ تحریک کے احتجاج کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ سخت زبان کے ساتھ ویڈیو میں سامنے آنے والی لڑکی کی ایک اور ویڈیو منظر عام پر آئی ہے اور اس میں بھی نریندر مودی کو مخاطب کر رہی ہیں۔
ٹریبیون انڈیا کے مطابق روچیکا سنگھ (فرضی نام) اس میں وزیراعظم پر الزامات لگاتی دکھائی دیتی ہیں۔
39 سکینڈ کی ویڈیو میں وہ کہتی ہیں کہ ’مودی جی آپ نے میری زندگی نرکھ بنا دی ہے، ایک 15 سال کی بچی کے پیچھے آپ ہاتھ دھو کے پڑ گئے ہیں اور اس کو ہر جگہ سے اتنا ٹارچر کروایا کہ نہ اب میں کہیں جا سکتی ہوں نہ کوئی آزادی ہے اور منہ چھپا کر رہنا پڑ رہا ہے۔‘
انہوں نے نریندر مودی کو ’بزدل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب میں پیچھے ہٹنے والی نہیں کیونکہ میرے پاس کھونے کو کچھ نہیں بچا۔‘
اتوار کو سامنے آنے والی اس ویڈیو کو وائرل میں تھوڑا وقت لگا اور ایک نیا سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا۔
عام آدمی پارٹی اور کانگریس نے بھی یہ ویڈیو اپنے آفیشل ایکس اکاؤنٹس پر شیئر کی اور یہ معاملہ سیاسی رنگ اختیار کر گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس امر کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ ویڈیو کب کی ہے اور کہاں ریکارڈ کی گئی۔
کاکروچ تحریک کے دوران پولیس کی جانب سے نوجوانوں پر تشدد بھی کیا گیا تھا (فوٹو: پی ٹی آئی)
روچیکا سنگھ کے وکیل انیل سنگھ نے ٹریبیون انڈیا کو بتایا کہ یہ اصلی ویڈیو ہے اور اے آئی سے تیار نہیں کی گئی تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق سے گریز کیا کہ نظر آنے والی لڑکی ان کی موکل ہی ہے۔
رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یہ ویڈیو روچیکا سنگھ کی ہی ہے جو ان کے نئے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ واقعے کے بعد روچیکا اپنے والدین کے ساتھ نوئیڈا سے ہریانہ منتقل ہو گئی تھیں۔
یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی تھی جب جنترمنتر میں بنی ان ویڈیو وائرل ہوئی اور ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج ہوئی تھی۔
نیا سیاسی تنازع، ’معافی کے باوجود مسلسل نشانہ بنایا گیا‘
اس ویڈیو کے ساتھ ہی ایک نیا سیاسی تنازع بھی کھڑا ہو گیا ہے اور اپوزیشن جماعتیں پچھلے تنازع کے بعد لڑکی کے ساتھ ہونے والے سلوک پر پھر سے میدان میں آئی ہیں۔
عام آدمی پارٹی اور کانگریس نے روچیکا سنگھ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے (فوٹو: انڈیا ڈاٹ کام)
عام آدمی پارٹی کی جانب سے ہندی پیغام کے ساتھ شیئر کی گئی ویڈیو میں الزام لگایا گیا ہے کہ لڑکی کو مسلسل نشانہ بنایا، دھمکیاں دی گئیں۔
پارٹی نے یہ دعویٰ بھی کہا کہ معافی مانگنے کے بعد بھی ان کو ہراساں کیے جانے کا سلسلہ جاری رہا۔
اسی طرح کانگریس کی جانب سے بھی ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے الزام لگایا گیا ہے کہ روچیکا کو دباؤ ڈال کر معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا۔
کانگریس نے اس واقعے کو ایک لڑکی کے خلاف طاقت کے ناجائز استعمال کی مثال بھی قرار دیا۔
روچیکا سنگھ 23 جولائی کو اس وقت خبروں میں آئی تھیں جب ان کی جنترمنتر کے احتجاج کے دوران ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی والدہ کے خلاف نامناسب زبان استعمال کرتی ہوئی نظر آئیں۔