Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سیکرٹریٹ، سیکریٹری جنرل پاکستان سے: مشترکہ بیان

امن اور استحکام کے حصول کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔( فوٹو: ایس پی اے)
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی سٹریٹیجک سیاسی اور دفاعی کمیٹی نے استنبول میں ہونے والے پہلے اجلاس کے بعد مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔
سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور ڈیفینس فورسز کے کمانڈرز اور جنرل سٹاف کے سربراہان نے پیر 31 اگست کو استنبول میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم کردہ سٹریٹیجک سیاسی اور دفاعی کمیٹی کے فریم ورک کے اندر ملاقات کی۔
ایس پی اے کے مطابق اپنی علاقائی ذمہ داریوں کے ساتھ تینوں ملکوں نے مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے اندر خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے حصول کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
مشترکہ بیان کے مطابق تینوں ملک بحرانوں کے پُرامن حل کی حوصلہ افزائی کے لیے کشیدگی میں کمی اور تحمل سے کام لینے کی کوششوں کی سپورٹ جاری رکھیں گے۔
 مکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ملکوں نے اپنے تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے مزید اقدامات پر اتفاق کیا جس کا مقصد یکجہتی کو مضبوط بنانا، اجتماعی ڈیٹرنس، دفاع کی ساکھ اور موثریت کو یقینی بنانا، منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے حصول کے لیے علاقائی کوششوں اور تعاون پر مبنی سلامتی میں کردار ادا کرنا ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں ایک مستقل سیکرٹریٹ قائم کیا جائے گا جس کی سربراہی سکریٹری جنرل کریں گے۔ ابتدائی مرحلے میں سیکرٹریٹ کی سربراہی پاکستان سے تعلق رکھنے والے سیکرٹری جنرل کریں گے۔ اس کی مدت تین سال ہوگی۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا تینوں ممالک دفاعی انڈسٹری میں تعاون، مشترکہ ٹیکنالوجی کی ترقی اور پیداوار کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں اور اپنی مسلح افواج  کے باہمی اتحاد کو مضبوط کریں گے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مشترکہ سلامتی کو مضبوط بنانے اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کے لیے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط  کیے تھے، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
استنبول اجلاس میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت موجودہ سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا، تاکہ باہمی مفادات کا تحفظ اور رکن ممالک کی قیادت کی خواہشات کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

 

 

 

شیئر: