پاکستان میں بنی سوزوکی گاڑیاں اب دوسرے ممالک کی سڑکوں پر، برآمد کا باقاعدہ آغاز
پاکستان میں بنی سوزوکی گاڑیاں اب دوسرے ممالک کی سڑکوں پر، برآمد کا باقاعدہ آغاز
منگل 1 ستمبر 2026 8:03
صالح سفیر عباسی -اردو نیوز، اسلام آباد
سوزوکی پاکستان کا کہنا ہے کہ آلٹو اور ایوری گاڑیاں برونائی برآمد کی جائیں گی (فوٹو: پاک وہیلز)
پاکستان میں تیار کی جانے والی سوزوکی کی مشہور گاڑیاں آلٹو اور ایوری اب برونائی کے بازاروں میں بھی نظر آئیں گی، کیونکہ پاک سوزوکی نے ان گاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر برآمد کرنے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
جاپانی آٹو میکر کمپنی سوزوکی کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ جاپان سے باہر واقع کسی پیداواری پلانٹ سے 660 سی سی کی گاڑیاں کسی دوسرے ملک برآمد کی گئی ہیں۔
سوزوکی پاکستان کے مطابق برونائی کے دارالحکومت بندر سری بیگاوان کے ایئرپورٹ مال ایٹریم پر منعقدہ تقریب کے دوران ان گاڑیوں کی باقاعدہ نمائش کی گئی، جو برونائی میں سوزوکی کے آفیشل ڈسٹری بیوٹر بوسٹیڈ کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔
لیکن یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ پاکستان میں گاڑیوں کی ایکسپورٹ کا طریقہ کار کیا ہے اور اب تک کون سی گاڑیاں بین الاقوامی مارکیٹ تک پہنچ سکی ہیں؟
پاکستان سے گاڑیوں کی برآمد کی تاریخ طویل نہیں ہے، تاہم آٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی (2021-2026) کے بعد پاکستان کی متعدد بڑی اٹو کمپنیوں نے اپنی گاڑیاں، ایس یو ویز، بسیں اور تھری وہیلرز دنیا کے مختلف ممالک کو برآمد کرنا شروع کیے۔
پاکستان سے بیرون ملک گاڑیاں برآمد کرنے کا عمل بنیادی طور پر آٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی کے تحت انجام پاتا ہے۔
وزارتِ پیداوار و صعنت اور انجینیئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کی نگرانی میں مقامی آٹو ساز کمپنیاں جاپانی اور عالمی معیار کے مطابق گاڑیاں تیار کرتی ہیں۔ جس کے بعد بندرگاہوں اور بحری جہازوں کے ذریعے یہ کاریں بالخصوص دائیں ہاتھ کی ڈرائیونگ والے ممالک کو ایکسپورٹ کی جاتی ہیں۔
پاکستان سے دوسرے ممالک کو گاڑیوں کی برآمد زیادہ طویل نہیں ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اردو نیوز کو دستیاب سرکاری اعداو شمار کے مطابق پچھلے تین مالی سالوں کے دوران پاکستان سے آٹھ آٹو کمپنیوں کی جانب سے مجموعی طور پر 434 گاڑیاں دنیا کے قریباً 20 ممالک کو برآمد کی گئی ہیں۔
ان گاڑیوں میں کاریں،ایس یو ویز، مائیکرو وینز، تجارتی سواریاں اور الیکٹرک و تھری وہیلرز شامل ہیں، جنہیں برونائی، جاپان، نیپال، تھائی لینڈ، متحدہ عرب امارات، افغانستان اور چند افریقی ممالک (جیسے کینیا، نائیجیریا، گھانا اور ٹوگو) بھیجا گیا۔
تین سال قبل مئی 2022 میں ماسٹر چنگان نے اپنی کراس اوور ایس یو وی اوشان ایکس سات کی کھیپ اوقیانوسیہ خطے کے لیے برآمد کی تھی۔
علاوہ ازیں سازگار انجینیئرنگ 2021 سے جاپان، نیپال اور افریقہ کو تھری وہیلرز اور الیکٹرک رکشے بھیج رہی ہے، جبکہ انڈس موٹر (ٹویوٹا) اور ہونڈا ایٹلس بھی ٹویوٹا کورولا الٹس اور ہونڈا سٹی جیسے ماڈلز کے یونٹس و پارٹس علاقائی منڈیوں میں فراہم کر چکی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مالی سال 2022،23 میں جہاں صرف 100 یونٹس برآمد ہوئے تھے وہیں 2024،25 تک یہ تعداد بڑھ کر 227 یونٹس سے تجاوز کر گئی جس سے مقامی آٹو انڈسٹری کی عالمی مارکیٹ تک رسائی ظاہر کرتی ہے۔
انجینیئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے مطابق حکومت نے آٹو سیکٹر کو برآمدی صلاحیت سے بھرپور بنانے کے لیے ٹیکس مراعات اور ایکسپورٹ پالیسی متعارف کروائی ہے (فوٹو: پاک وہیلز)
’میڈ ان پاکستان’ آلٹو اور ایوری اب بین الاقوامی منڈیوں میں
سوزوکی پاکستان کے مطابق برونائی بھیجی جانے والی دونوں گاڑیاں تمام تر جاپانی کوالٹی کنٹرول معیار اور وہی فیچرز رکھتی ہیں جو اس وقت پاکستان میں تیار کی جا رہی ہیں۔
اس سے قبل پاک سوزوکی عمان کو انجن آئل اور تھائی لینڈ کو سوزوکی کلٹس کے سپیئر پارٹس برآمد کر چکی ہے، تاہم مکمل گاڑیوں کی اس پیمانے پر برآمد پاکستان کی مقامی مینوفیکچرنگ پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔
کمپنی کا منصوبہ ہے کہ برونائی کی منڈی میں آلٹو اور ایوری کو متعارف کروانے کے بعد سال کے آخر تک پاکستان سے سوزوکی کی بڑی بائیکس بھی برونائی منتقل کی جائیں گی۔
’مقامی سطح پر اسمبلڈ گاڑیاں عالمی معیار پر پورا اتر رہی ہیں‘
انجینیئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے جنرل منیجر انجینئر عاصم ایاز کا کہنا ہے کہ پاکستان سے بین الاقوامی منڈیوں کو گاڑیوں کی برآمد اس بات کا ثبوت ہے کہ مقامی سطح پر اسمبل شدہ گاڑیاں عالمی معیار پر پورا اتر رہی ہیں۔
اُنہوں نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں کہا کہ حکومت نے آٹو سیکٹر کو برآمدی صلاحیت سے بھرپور بنانے کے لیے ٹیکس مراعات اور ایکسپورٹ پالیسی متعارف کروائی ہے، تاہم بیرونی منڈیوں میں طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے برآمدات کی حکمت عملی کا حتمی فیصلہ خود کمپنیاں کرتی ہیں۔
آٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی (2021-2026) کے بعد کئی کمپنیوں نے اپنی گاڑیاں برآمد کرنا شروع کیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
معروف کار ریویو ماہر مہران خان نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ مجموعی مارکیٹ اور ایکسپورٹ پوائنٹ آف ویو سے ایک مثبت پیش رفت ہے۔
پاکستان میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ملائیشیا جیسے ملکوں کو بھی گاڑیاں برآمد کر سکتا ہے۔
تاہم انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ پاکستان میں لوکل مارکیٹ اور ایکسپورٹ کے لیے تیار کی جانے والی گاڑیوں کے سیفٹی سٹینڈرڈز میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔
ان کے مطابق ’ایکسپورٹ ہونے والی گاڑیوں میں بین الاقوامی معیار کو یقینی بنایا جاتا ہے جبکہ مقامی مارکیٹ کے لیے بننے والی گاڑیوں میں سیفٹی کے اصول اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ جاپان جو خود ایک بڑی آٹو انڈسٹری کا حامل ملک ہے وہ پاکستان سے گاڑیاں کیوں خریدے گا؟
تو ان کا کہنا تھا کہ اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان میں مزدوری کی کم لاگت ہے۔ یہاں لیبر سستی ہے اور اگر پاکستان میں تیار کردہ گاڑیاں ایکسپورٹ کی جائیں تو ان پر وہ بھاری ٹیکس لاگو نہیں ہوتے جو مقامی خریدار کو ادا کرنے پڑتے ہیں، اور اسی وجہ سے غیرملکی کمپنیاں اس میں دلچسپی رکھتی ہیں۔
پاک سوزوکی نے گاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر برآمد کرنے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے (فوٹو: پاک سوزوکی)
معروف آٹو موبائل ایکسپرٹ اور آل پاکستان کار ڈیلرز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن کے پیٹرن ان چیف میاں شعیب نے برآمدات کے دعوؤں پر شدید تحفظات اور شکوک کا اظہار کیا۔
اردو نیوز سے بات میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کمپنیاں پاکستان میں کرپٹ بیوروکریسی، بالخصوص وزارتِ پیداوار و صنعت اور انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ میں بیٹھے حکام کی مدد سے غیر معیاری گاڑیاں فروخت کر رہی ہیں۔
ان کے مطابق ’2021 تا 2026 کی آٹو پالیسی کا بنیادی فوکس گاڑیوں کی برآمد پر تھا لیکن عملی طور پر ان آٹو ساز کمپنیوں نے کیا کیا؟ کچھ بھی نہیں۔ محض وعدے اور مستقبل کے دلکش منصوبے دکھائے گئے، لیکن گراؤنڈ پر عمل درآمد صفر رہا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ دوسرے ممالک میں اپنی ہی ذیلی یا قریبی کمپنیاں قائم کر کے وہاں گاڑیاں بھیجنا اصل برآمدات نہیں کہلاتا، بلکہ یہ پالیسی سازوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے تاکہ دکھایا جا سکے کہ ایکسپورٹ ہو رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب پاکستان میں اس قسم کا مزید کوئی جھوٹ نہیں بک سکتا۔