Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

برازیلی فوٹو گرافر جنہوں نے مملکت کی تاریخ، ثقافت اور ورثے کو محفوظ کیا

ریاض میں ہمبیر تودا سلویرا کی یاد میں تصویری نمائش اور ایونٹ کا انعقاد کیا گیا( فوٹو: ایس پی اے)
کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری نے پیر کو ریاض میں برازیل کے بین الاقوامی شہرت یافتہ فوٹو گرافر ہمبیر تودا سلویرا کی یاد میں تصویری نمائش اور ثقافتی ایونٹ کی میزبانی کی۔
ایس پی اے کے مطابق ہمبیرتو دا سلویرا: ’قومی یاد داشت کی تیسری آنکھ‘ کے عنوان سے ہونے والی تقریب میں ہمبیر تودا سلویرا کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔
تقریب میں خادم حرمین شریفین کے خصوصی مشیر شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیز، سعودی عرب میں برازیل کے سفیر اور ورثے اور ثقافت سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔
 ایک مختصر وڈیو پریزنٹیشن میں بین الاقوامی شہرت یافتہ فوٹو گرافر کی زندگی، ان کے کام اور سعودی عرب کے مختلف علاقوں، آثار قدیمہ اور نمایاں سیاحتی و تاریخی مقامات کے سفرکے دوران ان کے کام کو اجاگر کیا گیا۔
ہمبیر تودا سلویرا برازیلی فوٹو گرافر تھے جنھوں نے اپنی زندگی کے آخری 40 برس سعودی عرب کی تاریخ، ثقافت، طرز تعمیر اور ورثے کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے میں گزارے۔

وہ 1985 میں ریاض میں کنگ فیصل فاؤنڈیشن کی تقریب میں شرکت کے لیے پہلی مرتبہ سعودی عرب آئے اور یہاں کی ثقافت اور قدرتی مناظر کے سحر میں ایسے گرفتار ہوئے کہ مملکت کو اپنا مستقل گھر بنا لیا۔
 العلا، الدرعیہ اور صحراؤں تک مملکت بھر میں سفر کرتے رہے اور ان مناظر کو کیمرے میں محفوظ کیا جن پر عام طور پر نظر نہیں پڑتی۔
کنگ عبدالعزیز لائبریری کے جنرل سپر وائزر فیصل بن عبدالرحمن بن معمر نے بتایا ہمبیر تودا سلویرا نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ مملکت میں گزار اور لائبریری کے ساتھ مل کر کام کیا اور کئی شاہکار تخلیق کیے۔

 برازیلی فوٹو گرافر مملکت کے مختلف شہروں، علاقوں، وادیوں اور صحراؤں میں گھومتے رہے اور مقامات کی روح کو تلاش کرتے رہے۔
ہمبیر تودا سلویرا نے کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری کے ساتھ مل کر سعودی عرب کے اہم سیاحتی مقامات کے ساتھ سعودی تاریخ، فن تعمر، تاریخی دیہات، آثار قدیمہ کے مقامات، عرب صحرا نشینوں کی زندگی اور قدرتی مناظر کو بلیک اینڈ وائٹ لینز کے ذریعے لازوال بنا دیا۔

انہوں نے عمرانی اور سماجی ترقی کے پہلوؤں کو بھی دستاویز کیا۔ اس کام کے نتیجے میں نمائشوں کے انعقاد کے علاوہ کئی کتابیں سامنے آئیں۔
 برازیل کے سفیر نے سعودی عرب اور اس کی بھر پور ثقافت اور ورثے کو سراہتے ہوئے ایک مختصر تقریر کے ساتھ تقریب کا اختتام کیا۔

 

شیئر: