ایرانی صدر کا امریکی پابندیوں کے اثرات کا اعتراف، پٹرول مہنگا کرنے کی تجویز
ایرانی صدر نے کہا کہ ’ہم جنگ کی صورت حال میں ہیں اور ہمیں جنگی حالات کو تسلیم کرنا ہوگا۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی پابندیوں کے ملکی معیشت پر اثرانداز ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پابندیوں کے باعث ملک کی درآمدات اور برآمدات میں حالیہ مہینوں کے دوران 25 سے 35 فیصد تک کمی آئی ہے۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر پزشکیان نے جمعے کی شب سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ پابندیوں کا ’بالکل کوئی اثر نہیں‘ ہو رہا، ان کے پاس کہنے کے لیے ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم جنگ کی صورت حال میں ہیں اور ہمیں جنگی حالات کو تسلیم کرنا ہوگا۔‘
صدر کا یہ بیان ان کے چند روز قبل دیے گئے اس مؤقف سے مختلف ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کی تازہ پابندیاں ’کچھ حاصل نہیں کر سکیں گی۔‘
پیر کو امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف ’معاشی گلا گھونٹنے‘ کی حکمت عملی کے منصوبے پیش کرتے ہوئے ان ممالک کو سنگین نتائج سے خبردار کیا تھا جو امریکی مہم کا حصہ نہیں بنیں گے۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کا موجودہ نظام 2018 سے نافذ ہے۔ اس سال اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے سے امریکہ کو الگ کر لیا تھا۔
صدر پزشکیان کے مطابق امریکی پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث حالیہ مہینوں میں ایران کی درآمدات اور برآمدات میں 25 سے 35 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ تجارت میں کمی کے پیش نظر ایران میں پٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ ’ہمیں تیسرے درجے کے کوٹے کی قیمت بڑھانی چاہیے، مثال کے طور پر اسے پانچ ہزار تومان سے بڑھا کر 10 ہزار تومان کر دینا چاہیے۔‘
ایران میں پٹرول کی قیمت صارفین کے لیے مقرر کردہ مختلف استعمال کے کوٹے کے تحت طے ہوتی ہے۔
ایران ایک بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے جہاں دنیا کے سستے ترین ایندھن میں شمار ہونے والا پٹرول برسوں سے بڑے پیمانے پر حکومتی سبسڈی کے ذریعے کم قیمت پر فراہم کیا جاتا رہا ہے۔ اسی وجہ سے پٹرول کی قیمت میں کسی بھی اضافے کو سیاسی طور پر حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے۔
ایرانی نائب صدر محمد جعفر قائم پناہ نے بدھ کو کہا تھا کہ امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران اپنی مقامی پیداوار میں کمی کو پورا کرنے کے لیے مطلوبہ مقدار میں پٹرول درآمد نہیں کر سکا۔
تاہم اسی روز صدر پزشکیان نے امریکی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقدامات ’کچھ حاصل نہیں کر سکیں گے۔‘
انہوں نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ ’ہم معاشی دباؤ کے خلاف اسی طرح ثابت قدم رہیں گے جیسے اب تک رہتے آئے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔‘