Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹیکس گوشوارے میں ’غیر منقولہ جائیداد ظاہر کرنا لازمی‘، نئے فیصلے پر تارکین پریشان کیوں؟

حکام کے مطابق اقدام کا مقصد شعبے کو دستاویزی بنانا اور شفافیت لانا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
دیارِ غیر میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے پاکستان میں ٹیکس گوشوارے جمع کرانے اور اپنے اثاثوں کو قانون کے مطابق ظاہر کرنے کے حوالے سے حالیہ خبروں نے تارکینِ وطن میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
حکومت اور وفاقی بورڈ برائے محصولات نے اس سال اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ٹیکس گوشوارہ جمع کراتے وقت پاکستان میں موجود اپنی غیر منقولہ جائیدادیں ظاہر کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ  اس فیصلے کا مقصد ملک میں غیر منقولہ جائیدادوں کے شعبے کو دستاویزی بنانا، ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرنا اور مالیاتی نظام میں شفافیت لانا ہے۔ اس خبر کے بعد بیرونِ ملک مقیم شہریوں کے ذہنوں میں متعدد سوالات پیدا ہوئے ہیں کہ کیا یہ شرط پہلی بار عائد کی گئی ہے، ماضی میں قانون کیا تھا، اور اگر کوئی اوورسیز پاکستانی اپنی جائیداد ظاہر نہیں کرتا تو اس کے قانونی اور مالیاتی نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔

سابقہ قوانین اور  نیا فیصلہ، فرق کیا ہے؟

ٹیکس قوانین کے ماہر وکیل محمد رضوان کہتے ہیں کہ ’ماضی میں ٹیکس قوانین کے تحت پاکستان میں مقیم شہریوں اور غیر مقیم شہریوں یعنی اوورسیز پاکستانیوں کے لیے مالیاتی گوشوارے جمع کرانے کے قوانین میں واضح فرق موجود رہا ہے۔ عمومی طور پر ایک غیر مقیم شخص صرف پاکستان سے حاصل ہونے والی آمدن پر ٹیکس دینے کا پابند ہوتا تھا، جبکہ بیرونِ ملک کمائی گئی رقم اور بیرونی ممالک میں موجود اثاثے پاکستانی ٹیکس نظام کے دائرہ اختیار سے باہر رکھے گئے تھے۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’سابقہ دور میں بہت سے اوورسیز پاکستانی صرف اس لیے ٹیکس گوشوارہ جمع کراتے تھے تاکہ وہ فعال ٹیکس گزاروں کی فہرست میں شامل رہ سکیں اور پاکستان میں جائیداد کی خرید و فروخت یا بینکاری کے امور پر عائد بھاری ٹیکسوں سے بچ سکیں۔ اس دوران اکثر اوورسیز پاکستانی اپنے اثاثوں کے گوشوارے میں پاکستان میں موجود غیر منقولہ جائیدادوں کی تفصیلات درج نہیں کرتے تھے یا اسے اختیاری تصور کرتے تھے۔‘

’ماضی میں اکثر تارکین گوشوارے میں غیرمنقولہ جائیدادوں کی تفصیلات درج نہیں کرتے تھے یا اسے اختیاری تصور کرتے تھے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

حکومت کے اس نئے فیصلے اور حالیہ ہدایات کے تحت یہ بات بالکل واضح کر دی گئی ہے کہ اب اگر کوئی بھی اوورسیز پاکستانی پاکستان میں اپنا ٹیکس گوشوارہ جمع کرائے گا تو اس کے لیے پاکستان کے اندر موجود اپنی تمام غیر منقولہ جائیدادوں مثلاً پلاٹ، مکان، دکان، تجارتی عمارتیں اور زرعی زمینیں اپنے اثاثوں کے گوشوارے میں ظاہر کرنا لازمی ہو گا۔
محمد رضوان کہتے ہیں کہ  ’یہ تاثر درست نہیں ہے کہ ماضی میں جائیداد ظاہر نہ کرنے کی مطلق قانونی اجازت تھی، بلکہ ماضی میں انتظامی سستی اور ڈیجیٹل نظام کی عدم یکجائی کے باعث اس کی سخت جانچ پڑتال نہیں ہوتی تھی اور ٹیکس گزاروں کو اس معاملے میں رعایت مل جاتی تھی یا وہ اس خانے کو خالی چھوڑ دیتے تھے۔ اب حکومت نے صوبائی محکمہ مال، ڈیجیٹل زمین ریکارڈ اور ٹیکس کے وفاقی ادارے کے نظام کو ایک دوسرے سے منسلک کر دیا ہے، جس کے بعد ہر ٹیکس گزار کے لیے پاکستان میں موجود غیر منقولہ جائیداد کا اندراج لازمی بنا دیا گیا ہے۔ تاہم یہاں یہ بات ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے بیرونِ ملک موجود اثاثے اور بیرونی آمدن اب بھی پاکستانی ٹیکس سے استثنیٰ رکھتی ہیں، لیکن پاکستان کے اندر موجود غیر منقولہ جائیداد کو چھپانا اب ممکن نہیں رہا۔‘

جائیداد ظاہر نہ کرنے کے نتائج کیا ہوں گے؟

ماہرین کے مطابق اگر کوئی اوورسیز پاکستانی پاکستان میں موجود اپنی غیر منقولہ جائیداد کو اپنے ٹیکس گوشوارے میں ظاہر نہیں کرتا تو اسے آنے والے وقت میں شدید قانونی اور مالی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

’ماضی میں بہت سے مقامی افراد اپنے غیر ظاہر شدہ اثاثے اوورسیز رشتہ داروں کے نام پر منتقل کر کے ٹیکس نظام سے بچ جاتے تھے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ٹیکس قوانین کے  ماہر ایڈوکیٹ فراز علی کہتے ہیں کہ ’ٹیکس قوانین کے تحت غیر ظاہر شدہ جائیداد کو چھپایا ہوا اثاثہ تصور کیا جاتا ہے۔ اگر ٹیکس کا ادارہ ڈیجیٹل ریکارڈ کی مدد سے کسی اوورسیز پاکستانی کی ملکیت میں موجود جائیداد کا سراغ لگا لیتا ہے جو گوشوارے میں درج نہیں کی گئی، تو اس شہری کو نوٹس جاری کیا جا سکتا ہے اور اس سے جائیداد کی خرید کے لیے استعمال ہونے والے فنڈز کے ذرائع پوچھے جا سکتے ہیں۔ قانونی طور پر اگر مالکِ جائیداد اپنی رقم کا جائز ذریعہ ثابت نہ کر سکے، تو اس جائیداد کی موجودہ مالیاتی قدر پر بھاری ٹیکس، جرمانے اور آڈٹ کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
اس فیصلے کا ایک اور انتہائی اہم پہلو جائیداد کی مستقبل میں فروخت اور انتقال سے متعلق ہے۔
ایڈوکیٹ فراز بتاتے ہیں کہ ’اگر کوئی اوورسیز اپنی غیر منقولہ جائیداد کو ٹیکس گوشوارے میں ظاہر کیے بغیر چند سال بعد بیچنے کی کوشش کرے گا، تو اسے شدید قانونی رکاوٹوں کا سامنا ہوگا۔ فروخت کے وقت حاصل ہونے والی رقم کو جائز مالیاتی ریکارڈ کا حصہ بنانا مشکل ہو جائے گا کیونکہ وہ جائیداد پہلے سے سرکاری ٹیکس ریکارڈ میں موجود ہی نہیں تھی۔ اس کے علاوہ، جو شہری فعال ٹیکس گزار کی فہرست کا فائدہ اٹھا کر کم شرح پر ٹیکس دینا چاہتے ہیں، وہ جائیداد چھپانے کی صورت میں اس فہرست سے خارج کیے جا سکتے ہیں اور ان پر غیر فعال ٹیکس دہندہ ہونے کا اضافی ٹیکس لاگو ہو جائے گا۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام اوورسیز کو گوشوارہ فائل کرتے وقت تمام اثاثے درج کرنے چاہییں (فوٹو: روئٹرز)

حکومت کی جانب سے اس سختی کا بنیادی سبب یہ بتایا گیا ہے کہ ملک میں ریئل اسٹیٹ کے شعبے کو استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی رقم کی منتقلی اور ٹیکس چوری کو روکا جا سکے۔ ماضی میں بہت سے مقامی افراد اپنے غیر ظاہر شدہ اثاثے اوورسیز رشتہ داروں کے نام پر منتقل کر کے ٹیکس نظام سے بچ جاتے تھے، اس نئے اقدام سے اس راستے کو بھی یکسر بند کر دیا گیا ہے۔
رضوان علی کے مطابق ’اوورسیز پاکستانیوں کے لیے عملی لائحہ عمل یہ ہے کہ وہ بلاوجہ خوفزدہ ہونے کے بجائے اپنے قانونی حقوق اور دستاویزات کی درستی کو سمجھیں۔ بیرونِ ملک سے قانونی بینکاری ذرائع یا زرِ مبادلہ کے ذریعے پاکستان بھیجی گئی رقم سے خریدی گئی جائیداد پر کوئی ناجائز ٹیکس لاگو نہیں ہوتا، بشرطیکہ رقم کی منتقلی کا بینک ریکارڈ اور رسیدیں محفوظ ہوں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ  ’تمام اوورسیز پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ اپنا ٹیکس گوشوارہ فائل کرتے وقت پاکستان میں موجود تمام غیر منقولہ اثاثوں کی خرید کی قیمت اور تفصیلات کو درست طور پر درج کریں تاکہ مستقبل میں کسی بھی قانونی نوٹس، آڈٹ یا اضافی جرمانوں سے محفوظ رہا جا سکے۔‘

 

شیئر: