Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان: حملوں میں دو افسران سمیت چھ افراد جان سے گئے،21 دہشت مارے گئے

عینی شاہدین کے مطابق حملے کے دوران واقعے کی جگہ سے شعلے بلند ہوتے دور دور تک دیکھے گئے۔ (فائل فوٹو: اے پی)
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پیر اور منگل کو پیش آنے والے تشدد کے مختلف واقعات میں دو فوجی افسران سمیت چھ افراد جان سے گئے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ان کارروائیوں میں 21 دہشت گرد بھی مارے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق یہ واقعات ضلع چاغی کے علاقے نوکچہ اور ضلع پشین کے زیارت کراس میں پیش آئے جہاں سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کو نشانہ بنایا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ’31 اگست کو فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے بھتہ خوری کے لیے غیر قانونی چیک پوسٹ قائم کرکے این-40 کوئٹہ، تفتان شاہراہ پر مسافروں کی پُرامن آمدورفت میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کی اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 11 دہشت گردوں کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔‘

کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔
 آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید بتایا گیا کہ ’31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے کسٹمز ہاؤس میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے ایک مربوط حملہ کیا۔ ‘
بیان کے مطابق ’سیکیورٹی فورسز نے مؤثر جوابی کارروائی کی اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ مزید برآں، فرار ہونے والے دہشت گردوں کو بھی سکیورٹی فورسز نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں مزید جانی نقصان ہوا۔‘
آئی ایس پی آر نے کسٹمز ہاؤس پر حملے کو  دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کا مظہر قرار دیا اور کہا کہ حملے کا مقصد کسٹمز حکام کو ان کی قانونی ذمہ داریاں انجام دینے سے روکنا اور اس طرح علاقے میں جرائم کی سرگرمیوں کے تسلسل کو سہولت فراہم کرنا تھا۔
آئی ایس پی آر نے  فائرنگ کے تبادلے کے دوران دو افسران اور کسٹمز محکمہ کے ایک سرکاری اہلکار  سمیت چھ اہلکاروں کی موت کی تصدیق کی۔

 زیارت کراس، پشین: مشترکہ چیک پوسٹ پر حملہ

اردو نیوز نے مقامی انتظامیہ اور پولیس حکام سے ان کی واقعات کی مزید تفصیلات حاصل کی ہیں۔ حکام کے مطابق  پیر اور منگل کی درمیانی شب کوئٹہ سے تقریبا پچاس کلومیٹر دور پشین کے علاقے زیارت کراس (غڑکئی کراس)  کوئٹہ-ژوب شاہراہ (این-50) پر  قائم ایف سی، پولیس اور کسٹم کی مشترکہ چیک پوسٹ اور کسٹم وئیرہاؤس پر حملہ بہت شدید اور منظم تھا۔
پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ قریبی پہاڑوں سے آنے والے موٹرسائیکل سوار درجنوں مسلح افراد نے راکٹ لانچروں اور بھاری اسلحے سے شدید فائرنگ کی۔ ایف سی اہلکاروں اور شدت پسندوں کے درمیان مقابلہ کئی گھنٹے تک جاری رہا۔
پولیس افسر نے حملے میں  کیپٹن ضیاءاللہ اور ایف سی کے  چاراہلکاروں اور کسٹم کے ایک ملازم کی موت کی تصدیق کی۔ ان کے بقول کئی اہلکار زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا۔ حملہ آوروں کی جانب سے کیے گئے راکٹ حملوں سے وئیرہاؤس میں موجود ضبط کیا گیا سامان، وہاں  کھڑی درجنوں گاڑیوں اور  چوکی کے قریب موجود پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگ گئی۔
پولیس افسر کے مطابق سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری اور آرمی ہیلی کاپٹر موقع پر پہنچے اور ہیلی کاپٹر شیلنگ کے بعد حملہ آور قریبی پہاڑوں کی جانب فرار ہو گئے۔ اس کے بعد علاقے میں سکیورٹی فورسز کا کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری رہا۔
حملے کے باعث کوئٹہ کو خانوزئی، قلعہ سیف اللہ اور ژوب سے ملانے والی شاہراہ رات گئے سے صبح تک بند رہی تاہم بعد ازاں ٹریفک کے لیے بحال کر دی گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق حملے کے دوران واقعے کی جگہ سے شعلے بلند ہوتے دور دور تک دیکھے گئے جبکہ تین سے چار گھنٹے تک علاقہ فائرنگ کی آوازوں سے گونجتا رہا اور اس دوران زوردار دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
خیال رہے کہ زیارت کراس کی یہ چیک پوسٹ اہم نوعیت کی حامل ہے جہاں سے روزانہ سینکڑوں گاڑیاں گزرتی ہیں اور اسے خاص طور پر پنجاب اور خیبر پختونخوا کی جانب اشیا کی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان نے ایک بیان میں بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد ہنگامی امدادی کارروائی شروع کی۔ 13 ایمبولینسز، چار فائر ٹرکس، دو واٹر باؤزرز اور 24 ریسکیو اہلکار موقع پر بھیجے گئے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق پہلی امدادی ٹیم رات پونے تین بجے کے قریب روانہ ہوئی جس کے بعد صورتحال کی سنگینی دیکھتے ہوئے مزید ٹیمیں بھی بھجوائی گئیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق آگ پر صبح تقریباً سات بجے قابو پا لیا گیا اور تین زخمی افراد کو مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا۔ امدادی کارروائی صبح آٹھ بجے تک مکمل کر لی گئی۔
اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔

چاغی میں الگ جھڑپیں

 مقامی پولیس اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق چاغی میں این 40 شاہراہ پر ایک معدنی منصوبے کی خالی گاڑیوں کے ایک قافلے پر حملے کے بعد سکیورٹی نے علاقے میں کارروائی کی جس میں گیارہ شدت پسند مارے گئے اور دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔
اسی طرح ضلع چاغی کی سب تحصیل چاغی میں ایک اور واقعے میں سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے مابین جھڑپ ہوئی جس میں مقامی حکام نے کیپٹن عبیداللہ کی موت کی تصدیق کی ہے۔ کیپٹن عبیداللہ پاک فوج کے 147ویں لانگ کورس سے تعلق رکھتے تھے۔

پسنی میں کسٹم چیک پوسٹ نذرِ آتش

منگل کو ضلع گوادر کی تحصیل پسنی کے علاقے زیرو پوائنٹ پر کوسٹل ہائی وے پر قائم کوسٹ گارڈ اور کسٹم کی ایک مشترکہ چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا جسے آگ لگا کر جلا دیا گیا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔
حالیہ دنوں میں کسٹم اہلکاروں پر حملوں کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ضلع خاران کے علاقے دالی میں گزشتہ ہفتے کسٹم کے تین اہلکاروں کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ واشک  کے علاقے ماشکیل میں تھانے پر حملے کے ساتھ ساتھ کسٹم کی چوکی، دفتر اور گودام کو بھی نذرِ آتش کیا گیا۔

 شیرانی میں ناکہ بندی، بسوں سے مسافر اتار کر اغوا

پیر کی شام خیبر پشتونخوا سے ملحقہ بلوچستان کے ضلع شیرانی کے علاقے خاورینہ سنگر کے مقام پر ژوب-ڈیرہ اسماعیل خان شاہراہ پر مسلح افراد نے ناکہ بندی کی۔
 شیرانی کی ضلعی انتظامیہ کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ناکہ بندی تقریباً ایک گھنٹے سے زائد عرصے تک جاری رہی  جس دوران مسلح افراد نے دو مسافر بسوں کو روک کر پانچ مسافروں کو اتار کر اغوا کر لیا۔
ان کے مطابق آل مصطفیٰ موورز کی بس  سے محمد عاشق ولد منصور حسین، محمد اشرف اور کسٹم اہلکار سلیم کو اغوا کیا گیا جبکہ  اے کے موورز کی بس سے محمد بلال اور  صفدر زمان نامی مسافروں کو اتار کر ساتھ لے جایا گیا۔
 بتایا گیا ہے کہ صفدر زمان اسلام آباد جا رہے تھے جبکہ محمد بلال کوئٹہ کے علاقے کچلاک سے بس میں سوار ہوئے تھے اور وہ بھی اسلام آباد جا رہے تھے۔ سکیورٹی فورسز نے مغویوں کی بازیابی کے لیے تلاش کا عمل شروع کردیا ہے۔

 قلات: چار مسافروں کا اغوا

ادھر قلات  سے بھی چار مسافروں کو اغوا کرلیا گیا ہے۔ قلات انتظامیہ کے ایک افسر کے مطابق قلات کے علاقے رودینجو جتک آباد میں پیر کی شام کوئٹہ-کراچی مرکزی شاہراہ پر مسلح موٹرسائیکل سواروں نے ایک آلٹو کار کو روک کر اس میں سوار چار مسافروں کو اغوا کر لیا۔
ان کے مطابق اغوا کاروں نے گاڑی پر پیٹرول چھڑک کر اسے آگ لگا دی اور مغویوں کو نامعلوم مقام کی جانب لے کر فرار ہو گئے۔
 

شیئر: