اٹلی میں پولیس نے چار زرعی مزدوروں کے قتل کے الزام میں دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شہری شامل ہیں۔ اس سے قبل چاروں مقتول افراد کے بارے میں اطالوی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ وہ پاکستانی شہری ہیں۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اطالوی میڈیا نے منگل کو رپورٹ کیا کہ مقتولین کی لاشیں جنوبی اٹلی میں ایک جل کر تباہ ہونے والی منی وین سے برآمد ہوئی تھیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ گاڑی علاقے کالابریا کے زرعی ضلع میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی تھی۔
مزید پڑھیں
اطالوی میڈیا کے مطابق ایک افغان شہری اس واقعے میں زندہ بچ گیا، اس نے بتایا کہ وہ گاڑی کا شیشہ توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوا تھا۔
اس شخص کا کہنا تھا کہ گرفتار کیے گئے پاکستانی شہری اسے اور دیگر مزدوروں کو چاقو اور اسلحے کے زور پر دھمکاتے تھے اور بغیر اجرت کے کام کرنے پر مجبور کرتے تھے۔
حکام کے مطابق قتل کیے گئے افراد میں 28 سالہ امین فضل خوگجانی، 19 سالہ اللہ عصمت قیمی، 27 سالہ صفی ایاجد اور 29 سالہ پاکستانی شہری وسیم خان شامل ہیں۔
فارم ورکرز کے قتل عام میں زندہ بچ جانے والی کوسینزا نے کہا کہ ’یہ ایک معجزہ ہے کہ میں زندہ ہوں۔‘
اطالوی روزنامہ کوریئرے ڈیلا سیرا نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پٹرول پمپ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور گاڑی کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
Braccianti bruciati vivi, in 10 in una casa da 500 euro al mese di affitto. «Tornavano dai campi con le fragole per i bambini» https://t.co/P1MefWz0bE
— Corriere della Sera (@Corriere) June 3, 2026












