Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اٹلی میں قتل ہونے والی چار مزدوروں کی شناخت ہوگئی، مقتول پاکستانی تھے یا افغان؟

مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی کے مطابق ’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے‘۔ تصویر: کوریئرے ڈیلا سیرا
اٹلی میں پولیس نے چار زرعی مزدوروں کے قتل کے الزام میں دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ 
پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شہری شامل ہیں۔ اس سے قبل چاروں مقتول افراد کے بارے میں اطالوی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ وہ پاکستانی شہری ہیں۔ 
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اطالوی میڈیا نے منگل کو رپورٹ کیا کہ مقتولین کی لاشیں جنوبی اٹلی میں ایک جل کر تباہ ہونے والی منی وین سے برآمد ہوئی تھیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ گاڑی علاقے کالابریا کے زرعی ضلع میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی تھی۔
اطالوی میڈیا کے مطابق ایک افغان شہری  اس واقعے میں زندہ بچ گیا، اس نے بتایا کہ وہ گاڑی کا شیشہ توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوا تھا۔
اس شخص کا کہنا تھا کہ گرفتار کیے گئے پاکستانی شہری اسے اور دیگر مزدوروں کو چاقو اور اسلحے کے زور پر دھمکاتے تھے اور بغیر اجرت کے کام کرنے پر مجبور کرتے تھے۔
حکام کے مطابق قتل کیے گئے افراد میں 28 سالہ امین فضل خوگجانی، 19 سالہ اللہ عصمت قیمی، 27 سالہ صفی ایاجد اور 29 سالہ پاکستانی شہری وسیم خان شامل ہیں۔ 
فارم ورکرز کے قتل عام میں زندہ بچ جانے والی کوسینزا نے کہا کہ ’یہ ایک معجزہ ہے کہ میں زندہ ہوں۔‘
اطالوی روزنامہ کوریئرے ڈیلا سیرا نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پٹرول پمپ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور گاڑی کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فوٹیج میں بعد ازاں گاڑی میں آگ بھڑکتے اور دونوں افراد کو موقع سے فرار ہوتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
فائر فائٹرز نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ چاروں مقتولین پاکستانی شہری تھے۔
مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی کے حوالے سے ’کوریئرے ڈیلا سیرا‘ نے لکھا کہ ’یہ بلاشبہ قتل کا واقعہ ہے، اب صرف اس کی تفصیلات کا تعین کرنا باقی ہے۔‘
اخبار کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران اس علاقے میں پاکستانی شہریوں کو لے جانے والی گاڑیوں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔ اس علاقے میں زرعی مزدوری، رہائشی دستاویزات اور رہائش کے معاملات پر تارکینِ وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے۔

شیئر: