افتخار گیلانی نے بطور وزیراعظم نامزدگی میں غیر سیاسی مداخلت کی قیاس آرائیاں مسترد کردیں
افتخار گیلانی نے بطور وزیراعظم نامزدگی میں غیر سیاسی مداخلت کی قیاس آرائیاں مسترد کردیں
منگل 1 ستمبر 2026 18:54
رائے شاہنواز -اردو نیوز، لاہور
افتخار گیہلانی ٹیکنوکریٹ کی نشست پر ممبر قانون اسمبلی منتخب ہوئے تھے (فوٹو: فیس بُک)
پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے نو منتخب وزیر اعظم بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی نے لاہور میں سینئر صحافیوں اور تجزیہ کاروں سے ایک اہم ملاقات کے دوران ان خبروں اور قیاس آرائیوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ ان کی مسندِ اقتدار تک رسائی کسی بیرونی قوت یا غیر سیاسی مداخلت کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ مسلم لیگ ن کے ایک نظریاتی اور بااعتماد کارکن ہیں اور ان کا سیاسی سفر کسی ناگہانی فیصلے کا مرہونِ منت نہیں بلکہ پارٹی کے لیے سالہا سال کی قربانیوں اور خدمات کا تسلسل ہے۔
صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بیرسٹر افتخار گیلانی نے اپنی سیاسی اور انتظامی تاریخ کا تفصیلی حوالہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ برطانیہ کے نامور ادارے ’سواس‘ سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے اور ’لنکنز ان‘ سے بار ایٹ لا کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد، انہوں نے وکالت کو خیرباد کہہ کر 2011 میں باقاعدہ طور پر مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست کا آغاز کیا۔
وہ مظفرآباد کے حلقے سے پہلی بار رکن قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے اور تب سے لے کر آج تک پارٹی کی مرکزی قیادت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2013 میں جب وفاق میں پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو انہیں وزیر اعظم یوتھ بزنس لون پروگرام کا کوآرڈینیٹر اور فوکل پرسن مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے مریم نواز کے ساتھ مل کر نوجوانوں کے لیے اہم منصوبے مرتب کیے، جبکہ وہ پارٹی کی مرکزی منشور کمیٹی کا بھی حصہ رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2016 سے 2021 تک راجہ فاروق حیدر کی کابینہ میں بطور ریاستی وزیرِ تعلیم اور وزیرِ ماحولیات انہوں نے جو اصلاحاتی قدم اٹھائے، وہ پارٹی قیادت سے ڈھکے چھپے نہیں تھے۔
ان کے مطابق قائدِ تحریک نواز شریف، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کا ان پر اعتماد محض ایک سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ ان کی قابلیت اور کارکردگی کی سند ہے۔ لاہور کے اس اجلاس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ پارٹی قیادت نے انہیں آزاد کشمیر کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد پنجاب کی طرز پر تیز رفتار ترقی کا ہدف دیا ہے اور انہیں پہلے سو دن کا ایک وسیع جامع اصلاحاتی منصوبہ سونپ دیا گیا ہے جس پر وہ ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کر چکے ہیں۔
تاہم، بیرسٹر افتخار گیلانی کی اس صفائی اور دفاع کے پیچھے ایک ایسا سیاسی ڈراما اور بھونچال پوشیدہ ہے جس نے آزاد کشمیر اور اسلام آباد کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ قائدِ ایوان کے انتخاب سے محض چند روز قبل تک میڈیا اور سیاسی حلقوں میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا رہا تھا کہ افتخار گیلانی اس دوڑ میں شامل ہوں گے۔ آزاد کشمیر کے اخبارات اور قومی نیوز چینلز پر مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر شاہ غلام قادر اور سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کے نام سرفہرست تھے، اور 25 اگست تک شاہ غلام قادر کو ہی حتمی امیدوار سمجھا جا رہا تھا جن کی نامزدگی کا باقاعدہ اشارہ بھی دیا جا چکا تھا۔
سیاسی طوفان اس وقت اٹھا جب آخری لمحات میں اسلام آباد کی مرکزی قیادت نے انتہائی غیر متوقع فیصلہ کرتے ہوئے تمام تجربہ کار اور سینئر رہنماؤں کو پیچھے دھکیل دیا۔ افتخار گیلانی، جو حالیہ عام انتخابات میں مظفرآباد کے اپنے ہی حلقے سے پیپلز پارٹی کے امیدوار کے ہاتھوں شکست کھا چکے تھے، انہیں پہلے تو پارٹی نے ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست کے ذریعے قانون ساز اسمبلی میں پہنچایا اور پھر اچانک قائدِ ایوان کا امیدوار نامزد کر کے سب کو حیران کر دیا۔
نامزدگی کے اعلان کے ساتھ ہی پارٹی کے سینئر رہنماؤں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا (فوٹو: فیس بُک)
اس فیصلے نے آزاد کشمیر مسلم لیگ ن کے اندر شدید بے چینی اور پھوٹ پیدا کر دی۔
نامزدگی کے اعلان کے ساتھ ہی پارٹی کے سینئر رہنماؤں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر نے اسلام آباد کے اجلاسوں میں اس فیصلے پر کھلے عام تحفظات کا اظہار کیا۔
تلخی اس حد تک بڑھی کہ 28 اگست کو اسمبلی کے اندر قائدِ ایوان کے انتخاب کے اہم ترین اجلاس کا شاہ غلام قادر نے مکمل بائیکاٹ کیا اور ووٹ ڈالنے بھی نہیں آئے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے اس پیشرفت کو عوامی مینڈیٹ کی توہین قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ایک شکست خوردہ رہنما کو مخصوص نشست کا سہارا دے کر اور اسلام آباد کے دباؤ کے ذریعے کشمیری عوام پر مسلط کیا گیا ہے۔
ان تمام تر اندرونی اختلافات، بائیکاٹ اور سیاسی طوفان کے باوجود بیرسٹر افتخار گیلانی 44 کے ایوان میں 30 ووٹ حاصل کر کے 17 ویں وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہو گئے، لیکن اب ان کے سامنے نہ صرف اپوزیشن کا سامنا کرنا ہے بلکہ اپنی ہی پارٹی کے ناراض دھڑوں کو منانا بھی ان کا سب سے بڑا امتحان ہو گا۔
خود افتخار گیلانی کا یہ کہنا ہے کہ وہ ٹیکنوکریٹ نشست سے وزیر اعظم بننے پر تنقید کی جا رہی ہے تاہم ان کی مسلم لیگ ن سے نسبت کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا ہے۔ وہ ریس میں باہر سے داخل نہیں ہوئے۔ بلکہ اعلی پارٹی قیادت کے ساتھ قریب رہ کر فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔