Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گھنٹوں شدید بارش سے جُڑواں شہروں کا نظامِ زندگی متاثر، راولپنڈی میں تعطیل کا اعلان

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی میں موسلا دھار بارش کے باعث نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے اور راولپنڈی میں مقامی تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔
اسی طرح پانی کی سطح بلند ہونے پر راول ڈیم کے سپل ویز فوری طور پر کھولنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
منگل کو علی الصبح شروع اور گھنٹوں جاری رہنے والی شدید بارش سے ونوں شہروں کے متعدد علاقوں میں نالے بپھر گئے جبکہ سیلابی پانی گھروں اور تجارتی عمارتوں میں داخل ہو گیا۔
اس صورت حال کے پیش نظر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن راولپنڈی نے ضلع بھر کے تمام تعلیمی اداروں کو بند کرنے اور مقامی تعطیل کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق ضلع راولپنڈی کی تمام حدود میں عام تعطیل ہو گی، تاہم ایمرجنسی سروسز اور متعلقہ انتظامی ادارے معمول کے مطابق فعال رہیں گے۔

تیز ترین اور 200 ملی میٹر تک بارش

محکمہ موسمیات کے مطابق آج ہونے والی بارش رواں سال مون سون کے سیزن کی سب سے تیز ترین بارشوں میں سے ہے جو کہ 200 ملی میٹر سے زائد ریکارڈ کی گئی۔
محلمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق راولپنڈی نیو کٹاریاں کے مقام پر 230 ملی میٹر، چکلالہ میں 206 ملی میٹر اور شمس آباد میں 200 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
جبکہ وفاقی دارلحکومت اسلام آباد گولڑہ کے مقام پر 182 ملی میٹر، زیرو پوائنٹ پر 154 ملی میٹر اور سید پور میں 99 ملی میٹر بارش ہوئی۔

گھروں میں پانی داخل ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا (فوٹو: اے ایف پی)

نالہ لئی بپھر گیا، گھروں میں پانی داخل

موسلا دھار بارش کے باعث راولپنڈی کا نالہ لئی خطرناک حد تک بھر گیا، جس کے نتیجے میں گوالمنڈی کے مقام  پانی گھروں میں پانی داخل ہو گیا۔ اسی طرح راولپنڈی کے مختلف علاقوں بشمول صادق آباد، شمس آباد، ڈھوک کالا خان، اور راجہ بازار و گرد و نواح میں بھی پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
بارش سے پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث راولپنڈی کے تمام متعلقہ ایمرجنسی اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر پاک فوج کی خدمات حاصل کرنے کے لیے اسے بھی سٹینڈ بائی پر رکھا گیا ہے۔
اسلام آباد میں بارش کے بعد سیکٹر ای الیون میں نالہ بپھرنے سے پانی قریبی عمارتوں میں داخل ہو گیا۔ اس کے علاوہ سیکٹر ڈی بارہ ،آئی ٹین اور آئی نائن کی گلیوں اور سڑکوں پر بھی شدید جل تھل کی صورتحال پیدا ہو گئی۔
شہر کے دیگر علاقوں چٹھہ بختاور، ہاسٹل سٹی اور ترامڑی میں بھی نالے بپھرنے سے پانی کئی گھروں میں داخل ہوا۔ سیکٹر آئی ایٹ مرکز میں دکانوں کے اندر پانی جمع رہا، جبکہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز بشمول ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاؤن میں بھی نالے اوور فلو ہو گئے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے اضافی ڈی واٹرنگ پمپوں اور سینیٹیشن سٹاف کی مدد سے کام کیا جا رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

اسلام آباد کی انتظامیہ کے مطابق ای الیون اور غوری ٹاؤن فیز ٹو میں شدید بارش کے بعد نالوں کا پانی سڑکوں پر آیا، تاہم انتظامیہ کی جانب سے نکاسیِ آب کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ 
ترجمان کے مطابق  ایکسپریس ہائی وے سمیت تمام اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے اضافی ڈی واٹرنگ پمپوں اور سینیٹیشن سٹاف کی مدد سے کام کیا جا رہا ہے۔
وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کے مطابق آئی ایٹ مرکز سے کھڑا پانی نکال دیا گیا ہے اور دیگر متأثرہ علاقوں میں صفائی اور نکاسی کا کام جاری ہے۔
راولپنڈی کے مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہوا ہے اور متعدد مقامات پر گاڑیاں خراب ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب اسلام آباد میں شدید بارش کے بعد راول ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہونے پر اس کے سپل ویز فوری طور پر کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
 

شیئر: