Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہوا: شہباز شریف کا ایس سی او اجلاس سے خطاب

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو 150 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا (فوٹو: پی ایم آفس)
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دی ہیں جبکہ اس کے دوران ملک کو 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان بھی ہوا۔
ان کے مطابق ’دہشت گردی خطے کو درپیش سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے۔‘
منگل کو بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، افغان سرزمین کو دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جا سکتا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی امن و استحکام کے لیے ایس سی او ایک اہم پلیٹ فارم ہے اور تنظیم کے 25 سال مکمل ہونا ایک اہم سنگ میل ہے۔ پاکستان ایس سی او کا فعال اور ذمہ دار رکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی منظرنامہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی سے دوچار ہے جبکہ ایس سی او مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے اجتماعی عزم کی علامت ہے۔ پاکستان تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی قانون پر یقین رکھتا ہے۔
شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ حالیہ بحران نے محفوظ توانائی راہداریوں کی اہمیت واضح کر دی ہے۔ پاکستان نے علاقائی بحران کے دوران امن کے لیے مؤثر کردار ادا کیا اور اس کی سفارتی کوششیں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط تک پہنچیں۔ ان کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور پاکستان پائیدار علاقائی امن کے لیے پرعزم ہے۔

شہباز شریف نے ایس سی او کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی معاہدوں پر ان کی روح کے مطابق عمل ضروری ہے (فوٹو: پی ایم آفس)

’عالمی معاہدوں پر ان کی روح کے مطابق مکمل عمل ضروری‘

شہباز شریف نے کہا کہ جنوبی ایشیا پائیدار امن کے بغیر اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پانی ہمارے خطے کی زندگی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے، پانی کو سیاسی مقاصد یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ عالمی معاہدوں پر ان کی روح اور الفاظ کے مطابق مکمل عمل ہونا ضروری ہے۔
فلسطین کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں انسانی المیہ ناقابل تصور مصائب کا باعث ہے۔ عالمی برادری فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کا احترام کرے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایس سی او کو تصور سے عمل میں بدلنا چاہتا ہے (فوٹو: پی ایم ہاؤس)

پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ، ترجیحات کیا ہوں گی؟

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ایس سی او کی چیئرمین شپ سنبھال رہا ہے اور اس کا مقصد تنظیم کے وژن کو عمل میں تبدیل کرنا ہے۔ پاکستان ایس سی او کو تصور سے عمل میں بدلنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک علاقائی معیشتوں کو بحیرہ عرب سے جوڑنے کا اہم ذریعہ ہے، جبکہ پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ کے دوران توانائی اور آئی ٹی کو ترجیح دی جائے گی۔
ان کے مطابق ’صحت، ثقافت اور کھیل بھی پاکستان کی چیئرمین شپ کی ترجیحات میں شامل ہوں گے۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایس سی او میں مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر اور گورننس فریم ورک کی تجویز دے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مقصد رابطہ کاری، جدت اور مشترکہ خوشحالی ہو گا۔ ایس سی او ممالک مل کر بہتر مستقبل تشکیل دے سکتے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایس سی او نے تصادم کے بجائے تعاون اور خوف کے بجائے امید کا انتخاب کیا ہے۔ رابطہ کاری عوام کو قریب، جدت نئے مواقع اور مشترکہ خوشحالی لائے گی۔

شیئر: