چمگادڑ کی شکل اور چیتے جیسے نشان، پاکستانی ساحلوں پر نظر آنے والی عجیب مخلوق کون سی ہے؟
چمگادڑ کی شکل اور چیتے جیسے نشان، پاکستانی ساحلوں پر نظر آنے والی عجیب مخلوق کون سی ہے؟
بدھ 2 ستمبر 2026 6:21
زین الدین احمد، اردو نیوز، کوئٹہ
سٹنگ رے دراصل شارک مچھلی کی رشتہ دار سمجھی جاتی ہے اور سمندری ماحولیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
کراچی اور بلوچستان کے ساحلوں پر ان دنوں چمگادڑ نما جسم اور جلد پر چیتے جیسے نشان رکھنے والی عجیب و غریب مچھلیاں دیکھی جارہی ہیں۔ کئی فٹ بڑی جسامت والی ان مچھلیوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں اور بہت سے لوگ اسے کوئی نئی یا نایاب مخلوق سمجھ رہے ہیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق یہ کوئی نئی دریافت نہیں بلکہ سٹنگ رے (Stingray) مچھلی کی ایک ایسی قسم ہے جو کئی دہائیوں سے پاکستان کے ساحلی پانیوں میں موجود ہے۔
سٹنگ رے دراصل شارک مچھلی کی رشتہ دار سمجھی جاتی ہے اور سمندری ماحولیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان میں اسے بنیادی طور پر ساحلی اور کھلے سمندر میں جالوں کے ذریعے پکڑا جاتا ہے۔
جنگلی و سمندری حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان‘ کے تکنیکی مشیر اور ماہر سمندری حیات محمد معظم خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’پاکستان میں سٹنگ رے کی تقریباً 38 اقسام پائی جاتی ہیں جو ساحلی علاقوں کے ساتھ ساتھ سمندر کے گہرے حصوں میں بھی ملتی ہیں۔‘
حالیہ دنوں میں یہ بڑی جسامت والی، چیتے جیسے نشان رکھنے والی سٹنگ رے کراچی کے کلفٹن ساحل، بلوچستان کے کلمت ساحل سمیت کئی مقامات پر دیکھی گئیں۔ کلفٹن پر انہیں مقامی ماہی گیروں نے بیچ سین نامی جال کی مدد سے پکڑا جو خاص طور پر ان ساحلی علاقوں میں استعمال ہوتا ہے جہاں سمندری لہروں کا زور ہوتا ہے۔
یہ مچھلیاں مقامی طور پر گاڑا باری پٹن (Garabari Pittan) یا چیٹو (Cheeto) کہلاتی ہیں جبکہ بلوچی زبان میں انہیں گاڑا باری کہا جاتا ہے۔ محمد معظم خان نے بتایا کہ ’کلمت میں تو ایک ہی مچھلی سے پوری کشتی بھری ہوئی نظر آئی ہے۔ اتنی بڑی جسامت میں یہ مچھلی کم ہی نظر آتی ہے۔‘
محمد معظم خان کے مطابق یہ مچھلی پورے ساحلِ بلوچستان اور ساحلِ سندھ پر باقاعدگی سے ملتی رہی ہے اور وہ خود اسے پچاس ساٹھ برسوں سے دیکھتے آ رہے ہیں۔ ان کی رائے میں ’حالیہ دنوں میں اس کی بڑھتی تعداد کوئی غیرمعمولی بات نہیں البتہ اتنے بڑے سائز کی مچھلیوں کا ایک ساتھ اتنی بڑی تعداد میں دکھائی دینا واقعی ایک نایاب منظر ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ماضی میں بھی اتنی بڑی جسامت کی مچھلیاں ملتی رہی ہیں مگر بہت کم مقدار میں جبکہ آج کل یہ نسبتاً زیادہ تعداد میں سامنے آ رہی ہیں۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ اس مچھلی کی بڑھتی ہوئی تجارتی اہمیت ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’یہ بڑی مچھلیاں اپنے رنگوں کے نمونے اور جسامت کی وجہ سے بہت پرکشش ہوتی ہیں۔ ماہی گیر انہیں اکٹھا کرتے ہیں اور برآمد کے لیے پروسیسنگ پلانٹس کو فروخت کر دیتے ہیں۔‘
یہ بڑی مچھلیاں اپنے رنگوں کے نمونے اور جسامت کی وجہ سے بہت پرکشش ہوتی ہیں (فوٹو: سوشل میڈیا)
محمد معظم خان کے مطابق ’پاکستان میں اس مچھلی کا شکار گزشتہ ساٹھ ستر برسوں سے ہو رہا ہے اور شروع میں اسے زیادہ تر پولٹری انڈسٹری کے لیے فش میل (fish meal) یعنی چارے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا کیونکہ یہ بدذائقہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں کھانے کے لیے استعمال نہیں ہوتی۔‘
تاہم ان کے بقول ’گزشتہ دس برسوں سے صورتحال بدل چکی ہے اور اب اس مچھلی کے پروں کو جنہیں ونگز (wings) کہا جاتا ہے منجمد کر کے تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور ملائیشیا سمیت دیگر ممالک کو بڑی مقدار میں برآمد کیا جا رہا ہے۔‘
ماہرین کے مطابق ’پاکستان میں سٹنگ رے کی سالانہ پیداوار تقریباً 10 ہزار میٹرک ٹن ہے اور بیرون ملک بڑھتی طلب کے باعث اس کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث ماہی گیر اب اسے خصوصی طور پر نشانہ بنانے لگے ہیں۔‘
محمد معظم کے مطابق ’کلفٹن پر جو مچھلی پائی گئی ہیں، سٹنگ رے کی اس طرح کی تین اقسام ہیں جن کے جسم پر چیتے جیسے نشان پائے جاتے ہیں ایک لیپارڈا، دوسرا ریٹیکل اور تیسری قسم ارناک کہلاتی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد ارناک نامی قسم کی دیکھی گئی۔ یہ تینوں اقسام بھی بیرون ملک برآمد کی جاتی ہیں۔‘
محمد معظم خان کے مطابق ’اتنی بڑی جسامت تک پہنچنے کے لیے ان مچھلیوں کو کئی سال درکار ہوتے ہیں اس لیے احتیاط نہ برتی گئی تو ان کے ذخائر پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے۔‘
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان گزشتہ بارہ برسوں سے سٹنگ رے پر تحقیق کر رہا ہے (فوٹو: امریکن اوشن)
ماہرین کے مطابق ’یہ مچھلیاں عام حالات میں انسانوں کے لیے بے ضرر ہوتی ہیں تاہم اگر کوئی غلطی سے ان پر پاؤں رکھ دے تو خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کی دم پر ایک نوکیلا کانٹا یعنی سپائن ہوتا ہے جو ٹانگ میں پیوست ہو کر شدید تکلیف کا باعث بن سکتا ہے اور اسے نکالتے وقت احتیاط ضروری ہے ورنہ زخم گہرا ہو سکتا ہے۔‘
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان گزشتہ بارہ برسوں سے سٹنگ رے پر تحقیق کر رہا ہے ایک بیان میں ڈبلیو ڈبلیو ایف نے کہا ہے کک ادارے کے مشاہدے کے مطابق ان کی تعداد میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ ’سٹنگ رے کے شکار کے لیے حد مقرر کی جانی چاہیے کیونکہ اگر شکار اسی بے لگام انداز میں جاری رہا تو پاکستان میں ان کے ذخائر ختم ہونے کا خدشہ ہے۔‘
محمد معظم خان نے واضح کیا کہ ’سٹنگ رے شارک مچھلی کی قسم سے تعلق رکھتی ہیں اور بہت کم بچے پیدا کرتی ہیں جن کی تعداد ایک یا دو تک محدود ہوتی ہے اس لیے ان کے شکار کو مناسب انداز میں منظم کرنے کی ضرورت ہے۔‘
محمد معظم خان نے کہا کہ ’ہمیں اس مچھلی کے شکار اور برآمدات کو سوچ سمجھ کر اور متوازن انداز میں کرنا چاہیے اور فش میل میں اس کا استعمال مکمل بند کر دینا چاہیے تاکہ یہ خوبصورت سمندری مخلوق ہم آئندہ نسلوں کے لیے بھی محفوظ رکھ سکیں۔‘