Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انگلینڈ میں کرکٹ کھیلنے کے ساتھ ساتھ آٹے کی بوریاں بھی اٹھائیں: شعیب ملک

شعیب ملک کا کہنا تھا کہ ’اصل امتحان آپ ٹیسٹ کرکٹ میں دیتے ہیں۔‘ (فوٹو: سکرین گریب)
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک نے کہا ہے انگلینڈ میں لیگ کرکٹ کھیلتے ہوئے اخراجات پورے کرنے کے لیے انہیں کام کرنا پڑتا تھا۔
 یوٹیوب چینل ’میشن‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میری پہلی نوکری انگلینڈ میں تھی، کیونکہ زیادہ تر ہمارے کرکٹرز وہاں جا کر لیگ کرکٹ کھیلتے ہیں۔ اور وہاں نوکری کرنی پڑتی ہے، کیونکہ لیگ کرکٹ سے اُس وقت اتنے پیسے نہیں ملتے تھے۔ آٹے کی بوریاں اٹھائی تھیں کرکٹ کھیلنے کے ساتھ ساتھ اور میرے خیال میں بیس پاؤنڈز ملے تھے شاید ایک دن کے لیے۔‘
ان سے پوچھا گیا کہ کرکٹ کی دنیا میں ان کے پسندیدہ کھلاڑی کون ہیں تو انہوں نے شعیب اختر کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ’شعیب اختر۔ دنیا میں ایک اور واحد کھلاڑی۔ میں نے اُن کو میچ میں فیس کیا ہے، پروپر میچ میں، وہ جو انٹرنیشنل بیٹرز ہیں اُسی لیول کا میں نے اُن کو فیس کیا ہے۔‘
’شعیب اختر کو فیس کرنا، چار اوورز لگاتار، اور مجھے نہیں لگتا کہ میں وہ 24 بالز کبھی بھول سکوں گا۔‘
شعیب ملک کا کہنا تھا کہ ’اصل امتحان آپ ٹیسٹ کرکٹ میں دیتے ہیں لیکن میں کہوں گا کہ کوئی بھی کرکٹ آسان نہیں ہے۔ ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار۔‘
ان سے پوچھا گیا کہ کرکٹ کے علاوہ ان کا کیا شوق ہے تو انہوں نے کہا انہیں سپورٹس کار چلانا پسند ہے۔ ’میں نے تقریباً سبھی سپورٹس کاریں چلائی ہیں۔ بہت زیادہ ڈرفٹنگ کے ساتھ۔ تو میرا خیال ہے کہ یہ وہ چیز تھی جو میں ہمیشہ کرنا چاہتا تھا اور اس دوران ڈر بھی گیا تھا، لیکن وہ چیز ہے جو آج بھی یاد ہے۔ میکلارن پی ون۔‘
اس کے علاوہ شعیب ملک کو سکائی ڈائیونگ بھی پسند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ وہ چیز ہے جو میں ہمیشہ کرنا چاہتا تھا، لیکن ایک دن میں نے اپنی والدہ سے شیئر کیا۔ انہوں نے کہا میری قسم ہے نہ کرنا۔ میں نے کہا اچھا جی۔ تو ظاہر ہے بڑوں کی بات ماننی چاہیے۔ لیکن میں نے کوشش بھی نہیں کی کہ اُن کو سمجھا سکوں۔ کہا کہ امی کوئی بات نہیں، جس دن جس نے جانا ہے اُس نے جانا ہے۔ اس کا پیراشوٹ سے کوئی تعلق نہیں۔‘
سابق کپتان نے کہا کہ ’میرے اردگرد کے لوگ ہمیشہ مجھے زمین سے جوڑے رکھتے تھے اور ہمیشہ اچھی نصیحتیں دیتے تھے۔ میں خوش قسمت تھا کہ ہمیشہ اپنی زندگی ایسے گزاری۔‘

 

شیئر: