Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جڑواں شہروں میں پِھر بارش، متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم، راولپنڈی میں رین ایمرجنسی

منگل کو شدید بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب آ گئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی میں ایک بار پھر شدید بارش پر تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی ہوئیں جبکہ راولپنڈی کی انتظامیہ نے شہر میں رین ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
منگل کو ہونے والی شدید اور طویل بارش کے بعد بدھ کو بھی علی الصبح دونوں شہروں میں بادل کھل کر برسے تاہم اس کی شدت ایک روز قبل ہونے والی بارش سے کم تھی۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے علاقے سید پور میں 43 ملی لیٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ نیو کٹاریاں میں 12، پیر و دھائی میں چار اور گولڑہ میں پانچ ملی لیٹر بارش ہوئی۔
اطلاعات کے مطابق راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری ہونے والی ہدایات میں تمام اور امدادی اور دوسرے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کا کہا گیا ہے۔
اسی طرح واسا حکام کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ نالہ لئی میں پانی کی سطح کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے اور کٹاریاں کے مقام پر پانی کا بہاؤ پانچ فٹ جبکہ گوالمنڈی کے علاقے میں تین فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ محکموں کے اہلکار مشینری کے ہمراہ نشیبی علاقوں میں تعینات ہیں۔
سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ وہ ایم سی آئی اور ضلعی انتظامیہ کے اشتراک سے فیلڈ میں متحرک ہے اور ٹیمیں وہاں موجود ہیں۔
بیان کے مطابق نالوں، ڈرینز، انڈر پاسز اور نشیبی و حساس مقاماتکی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔
اسی طرح اسلام آباد واٹر اور ریسکیو افسران و عملے کو بھی سخت نگرانی کی ہدایت کی گئی ہے۔
 
واضح رہے کہ منگل کو دونوں شہروں میں ہونے والی بارش کو محکمہ موسمیات نے مون سون کی تیز ترین بارش قرار دیا تھا اور اس کی وجہ سے کافی مشکلات پیدا ہو گئی تھیں، گھروں میں پانی داخل ہو گیا تھا جبکہ سڑکیں تالابوں اور گلیاں برساتی نالوں کے منظر پیش کر رہی تھیں۔
اس صورت حال کی وجہ سے راولپنڈی کی انتظامیہ نے تعلیمی اداروں کی تعطیل کا اعلان بھی کیا تھا۔
کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی بارش کے بعد بتایا گیا تھا کہ راولپنڈی میں 230 ملی لیٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ اسلام آباد میں شدت اس سے بھی زیادہ تھی۔
اس کے نتیجے میں جڑواں شہروں کے کئی نشیبی علاقے زیر آب آئے اور گاڑیاں پانی میں تیرتی ہوئی دیکھی گئیں جبکہ کرنٹ لگنے اور چھت گرنے کے واقعات کے نتیجے میں دو افراد ہلاک بھی ہوئے تھے۔

شیئر: