Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کشمیری رہنما یاسین ملک کا تہاڑ جیل سے حلف نامہ، پھانسی کا مطالبہ اور اہلیہ مشعال ملک سے علیحدگی کا اعلان

حلف نامے میں یاسین ملک نے عدالت سے پھانسی کی سزا دینے کی استدعا کی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں ریاست کی آزادی و خودمختاری کے لیے سرگرم تنظیم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے رہنما یاسین ملک نے دہلی کی تہاڑ جیل سے سری نگر کی خصوصی عدالت (ٹاڈا پوٹا) میں ایک تفصیلی حلف نامہ جمع کراتے ہوئے اپنے خلاف قائم 36 سال پرانے کیس کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔
یاسین ملک جو دہائیوں سے انڈیا کے زیر انتظام جموں کشمیر میں خود مختاری کی تحریک کے نمایاں سیاسی چہرے کے طور پر جانے جاتے ہیں، سنہ 2019 سے انڈیا کی سخت ترین سکیورٹی والی تہاڑ جیل میں قید ہیں۔
57 سالہ یاسین ملک کو انڈین انتظامیہ کی جانب سے متعدد پرانے اور نئے مقدمات، خصوصاً دہشت گردی کے لیے مالی معاونت (ٹیرر فنڈنگ) اور ملک دشمن سرگرمیوں کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد ایک مقدمے میں انڈین عدالت انہیں عمر قید کی سزا بھی سنا چکی ہے۔
اس تازہ ترین حلف نامے میں یاسین ملک نے عدالت سے پھانسی کی سزا دینے کی استدعا کی ہے اور اپنی پاکستانی اہلیہ مشعال ملک سے نکاح ختم کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔
ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) کی جانب سے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل کے مقدمے میں 36 برس بعد یاسین ملک کو بطور ملزم نامزد کیا گیا ہے۔
اپنے حلف نامے میں اس کی سخت تردید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپریل 1990 میں واقعے کے وقت وہ عمارت کی پانچویں منزل سے چھلانگ لگانے کے بعد شدید زخمی اور کوما میں تھے جبکہ اس وقت کے گورنر جگموہن اور انڈین تحقیقاتی اداروں کی جانب سے اس دور کے مقدمات میں ان کا نام شامل نہ ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ نیا کیس مکمل طور پر من گھڑت ہے۔
انہوں نے سرلا بھٹ کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی بدلہ لینے یا تشدد کی سیاست پر یقین نہیں رکھا۔
حلف نامے کے سب سے حساس حصے میں یاسین ملک نے اپنی اہلیہ اور 13 سالہ بیٹی رضیہ سلطانہ کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ آٹھ برسوں سے انہیں اپنی بیٹی اور بیوی سے بات کرنے یا ویڈیو کال کی اجازت نہیں دی گئی۔
انہوں نے نیلسن منڈیلا کی کتاب Long Walk to Freedom کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ان کی اہلیہ ان سے 20 سال چھوٹی ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ وہ ان کی باقی ماندہ زندگی کا بوجھ اٹھائیں یا بیوہ کے طور پر زندگی گزاریں، اسی لیے وہ پھانسی سے قبل انہیں اپنے نکاح کے بندھن سے آزاد کرنے (علیحدگی) کا فیصلہ کرتے ہیں تاکہ وہ عزت اور امید کے ساتھ نئی زندگی شروع کر سکیں۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے بیٹی سے اپنی دادی کا خیال رکھنے اور ان سے رابطہ قائم رکھنے کی درخواست کی۔
یاسین ملک نے حلف نامے میں انڈین عام انتخابات (2019 اور 2024) کے دوران اپنی تصاویر اور نام کے سیاسی استعمال پر بھی سوالات اٹھائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ نمازِ استخارہ کے بعد انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس عدالتی کارروائی کا مزید دفاع نہیں کریں گے جس کا مطلب جرم کا اعتراف نہیں بلکہ انڈین عدالت سے اپنے لیے سزائے موت کی استدعا ہے۔
یاسین ملک نے اپنے حلف نامے کے اختتامی حصے میں ڈبلیو بی ییٹس کی مشہور نظم I see Kashmir from new Dehli at midnight   اور فیض احمد فیضؔ کے اشعار بھی لکھے: 
’یہ ہمیں تھے جن کے لباس پر سرِ راہ سیاہی لکھی گئی‘  
’جو ہم پہ گزری سو گزری مگر اے شب ہجراں
ہمارے شک تری عاقبت سنوار چلے۔‘
 

شیئر: