چار دن اور 630 کلومیٹر کی دوڑ، جرمنی کی ریس کا رنر اپ فاتح سے زیادہ مقبول کیوں ہوا؟
جمعرات 3 ستمبر 2026 14:11
ایلو کی آخری جدوجہد نے سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ توجہ حاصل کی۔(فوٹو:انسٹاگرام)
جرمنی میں ہونے والی انتہائی مشکل ’لاسٹ سول الٹرا‘ ریس ختم ہوئے کئی دن گزر چکے ہیں لیکن اس کے آخری لمحات کی ویڈیوز اور خاص طور پر رنر اَپ آیوّب ’ایلو‘ ال اوسروتی کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر مسلسل وائرل ہیں۔
ریس میں 169 ایتھلیٹس نے حصہ لیا اور تقریباً چار روز تک جاری رہنے والے مقابلے میں ایک ایک کر کے رنرز باہر ہوتے گئے۔ تاہم آخری مرحلے میں صرف امریکی مارک ڈاؤڈل اور جرمنی کے ایلو ال اوسروتی باقی رہ گئے، جنہوں نے 90 سے زائد راؤنڈز مکمل کیے۔
مارک ڈاؤڈل نے 94 واں راؤنڈ مکمل کرکے 630.4 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اور ’لاسٹ سول‘ بن گئے، جبکہ ایلو 93 راؤنڈز میں 623.7 کلومیٹر مکمل کرنے کے بعد 94ویں راؤنڈ میں مقررہ وقت کے اندر فاصلہ مکمل نہ کرسکے۔
ایلو کی آخری جدوجہد نے سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ توجہ حاصل کی۔ ریس کے اختتام کی فضائی ویڈیو میں وہ کئی دن کی مسلسل دوڑ کے بعد شدید تھکن سے زمین پر گرتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ وہ فاتح سے صرف ایک راؤنڈ پیچھے تھے۔
ایلو کے 93 راؤنڈز جرمنی کے کسی رنر کی بیک یارڈ الٹرا میں دوسری بہترین کارکردگی قرار دیے گئے ہیں۔ وہ گزشتہ سال بھی ’لاسٹ سول الٹرا‘ میں رنر اَپ رہے تھے، جب انہوں نے 67 راؤنڈز مکمل کیے تھے۔
ریس کے بعد ایلو نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں لکھا کہ مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ ہونے کے باوجود وہ اس تجربے پر ’تھکے ہوئے، شکر گزار اور فخر‘ محسوس کر رہے ہیں۔
انہوں نے ٹیم کے ساتھیوں کے تعاون اور مشکل حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا بھی ذکر کیا۔
ایلو کی اس جدوجہد کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے انہیں ’دی پیپلز چیمپئن‘ کہنا شروع کردیا۔
ایک وائرل پوسٹ میں ان کی 93 راؤنڈز کی کارکردگی اور آخری لمحات کو نمایاں کیا گیا۔ یہ کوئی سرکاری اعزاز نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر دیا جانے والا لقب ہے۔
دوسری جانب 29 سالہ امریکی مارک ڈاؤڈل نے 94 راؤنڈز مکمل کرکے ریس جیت لی۔ یہ بیک یارڈ الٹرا فارمیٹ میں ان کی مسلسل ساتویں فتح بھی قرار دی گئی ہے۔
ڈاؤڈل اور ایلو نے اس ریس میں 90 راؤنڈز کا ہندسہ عبور کیا، جو جرمن سرزمین پر اس فارمیٹ میں ایک غیر معمولی کارکردگی تھی۔
ڈاؤڈل نے آخری راؤنڈ مکمل کیا، جبکہ ایلو اسی مرحلے پر مقابلے سے باہر ہوگئے۔
’لاسٹ سول الٹرا‘ دراصل بیک یارڈ الٹرا فارمیٹ کی دوڑ ہے، جس میں ہر گھنٹے کے آغاز پر رنرز کو تقریباً 6.7 کلومیٹر کا ایک راؤنڈ مکمل کرنا ہوتا ہے۔ جو رنر ایک گھنٹے میں راؤنڈ مکمل نہ کرے یا اگلے راؤنڈ کے آغاز پر موجود نہ ہو، وہ مقابلے سے باہر ہوجاتا ہے۔
راؤنڈ جلد مکمل کرنے والے رنرز کو اگلے گھنٹے تک کھانے، پانی پینے اور آرام کرنے کا وقت ملتا ہے لیکن ہر گھنٹے دوبارہ دوڑنا لازمی ہوتا ہے۔ اس طرح دوڑ کئی دن تک جاری رہ سکتی ہے اور رفتار کے بجائے جسمانی برداشت، ذہنی مضبوطی اور تھکن برداشت کرنے کی صلاحیت فیصلہ کن بن جاتی ہے۔
اس سال مارک ڈاؤڈل نے 94 راؤنڈز اور 630.4 کلومیٹر کے ساتھ کامیابی حاصل کی، جبکہ ایلو ال اوسروتی 93 راؤنڈز اور 623.7 کلومیٹر کے بعد رک گئے۔ یوں فاتح کا اعزاز ڈاؤڈل کے نام رہا، لیکن ایلو کی آخری جدوجہد نے ’لاسٹ سول الٹرا‘ کو سوشل میڈیا پر ایک غیر معمولی انسانی کہانی بنا دیا۔