Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کشمیری رہنما یاسین ملک کے خلاف 36 برس بعد نئی چارج شیٹ دائر، سِرلا بھٹ کون تھیں؟

یاسین ملک کو سنہ 2022 میں عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی پولیس کے خصوصی ونگ ’سٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی‘ (ایس آئی اے) نے آزادی پسند تنظیم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے تہاڑ جیل میں قید سربراہ یاسین ملک اور چار دیگر افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر کر دی ہے۔
انڈین اخبار ’دی ہندو‘ کے مطابق یہ چارج شیٹ پیر کو دائر کی گئی ہے۔ اُدھر اسلام آباد میں مقیم یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے منگل کو ایک بیان میں اس اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’36 سال پرانے کیس میں نئی چارج شیٹ سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’فوت شدہ افراد کے نام پر مقدمہ بھارتی عدالتی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ یاسین ملک کی عمر قید کو سزائے موت میں بدلنے کی کوشش انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔‘
یہ چارج شیٹ 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سِرلا بھٹ کے ’اغوا اور وحشیانہ قتل‘ کے مقدمے میں 36 برس بعد پیش کی گئی ہے۔
سرلا بھٹ شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (SKIMS) میں بطور نرس خدمات انجام دے رہی تھیں جنہیں اپریل 1990 میں عسکریت پسندی کے آغاز کے دوران نشانہ بنایا گیا تھا۔ وہ وادی میں ماری جانے والی اولین کشمیری پنڈتوں میں سے ایک تھیں۔

سرلا بھٹ کشمیر میں ماری جانے والی اولین کشمیری پنڈتوں میں سے ایک تھیں (فائل فوٹو: انڈیا ٹوڈے)

’یہ ایک وسیع تر سازش کا حصہ تھا‘
ایس آئی اے کے حکام کے مطابق طویل اور تفصیلی تحقیقات سے یہ بات حتمی طور پر ثابت ہوئی ہے کہ سرلا بھٹ کا قتل کوئی انفرادی واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ جے کے ایل ایف کی قیادت اور کنٹرول میں رچی گئی ایک منظم اور وسیع تر دہشت گردانہ سازش کا حصہ تھا۔
تحقیقاتی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس جرم کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد میں جے کے ایل ایف کے اس وقت کے چیف کمانڈر یاسین ملک، خورشید احمد چلکو، عبدالحمید شیخ، محمد یوسف صوفی عرف ادریس اور غلام محمد ٹپلو ملوث پائے گئے ہیں۔
ایس آئی اے کے مطابق مقتولہ سرلا بھٹ کو سری نگر کے علاقے عمر کالونی، مالباغ میں شدید ترین جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد خودکار رائفل سے فائرنگ کر کے بیدردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔

یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا 36 سال پرانے کیس میں نئی چارج شیٹ سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے (فائل فوٹو: مشعال ملک، فیس بک)

ملزمان کی موجودہ صورتحال اور مفرور ملزم
پولیس رپورٹ کے مطابق نامزد پانچ ملزمان میں سے تین (عبدالحمید شیخ، محمد یوسف صوفی اور غلام محمد ٹپلو) اب انتقال کر چکے ہیں۔
جے کے ایل ایف کے سربراہ یاسین ملک (جنہیں 2022 میں عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی) اس وقت نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں۔
یاسین ملک کو سنہ 1989 میں اس وقت کے انڈین وزیر داخلہ کی بیٹی کے اغوا اور 1990 میں انڈین فضائیہ کے اہلکاروں پر حملے جیسے دیگر بڑے مقدمات کا بھی سامنا ہے۔
دوسری جانب مبینہ طور پر گولی چلانے والے مفرور ملزم خورشید احمد چلکو کے خلاف اشتہاری مجرم کے طور پر قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وہ سرحد پار پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر فرار ہو چکے ہیں۔

یاسین ملک آزادی پسند تنظیم جے کے ایل ایف کے چیئرمین ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

’وقت دہشت گردی کے لیے ڈھال نہیں بن سکتا‘
جموں و کشمیر پولیس نے اس 737 صفحات پر مشتمل ضخیم چارج شیٹ کو خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک ’تاریخی سنگِ میل‘ اور فیصلہ کن موڑ قرار دیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دہائیوں پر محیط زبانی، دستاویزی، فرانزک اور سائنسی شواہد کو یکجا کر کے یہ چارج شیٹ تیار کی گئی ہے۔
پولیس نے اپنے بیان میں کہا ’یہ چارج شیٹ ایک واضح اور سخت پیغام دیتی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ جرائم مٹ نہیں جاتے اور وقت کبھی بھی دہشت گردی کے لیے ڈھال نہیں بن سکتا۔ چاہے کتنے ہی سال کیوں نہ بیت جائیں، معصوموں کا خون بہانے والے قانون کے کٹہرے میں جوابدہ رہیں گے۔‘
اس کیس میں ملزمان پر رنبیر پینل کوڈ (RPC)، ٹیررسٹ اینڈ ڈسرپٹیو ایکٹیویٹیز (پریونشن) ایکٹ (TADA) اور انڈین آرمز ایکٹ کی متعدد سنگین دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ کارروائی ماضی کے ادھورے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے حکومتی عزم کا عکاس ہے۔

شیئر: