عرفات منہاس سے عمران تک: ایجبسٹن ٹیسٹ کے لیے پاکستان کے متبادل کھلاڑی کون ہیں؟
عرفات منہاس سے عمران تک: ایجبسٹن ٹیسٹ کے لیے پاکستان کے متبادل کھلاڑی کون ہیں؟
جمعرات 3 ستمبر 2026 17:03
عرفات منہاس نے 2024-25 کے سیزن میں پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کرکٹ میں حالیہ عرصے کے دوران اچانک اور فوری ردِعمل کی بہت سی مثالیں سامنے آئی ہیں، لیکن پی سی بی کا انگلینڈ کے خلاف جاری سیریز کے آخری ٹیسٹ کے لیے پانچ ایسے کھلاڑیوں کو شامل کرنا جنہوں نے ابھی تک اپنا بین الاقوامی ڈیبیو نہیں کیا، جبکہ مجموعی طور پر سات نئے کھلاڑی انگلینڈ بھیجنا، سب کو حیران کر گیا ہے۔
پاکستان ایجبسٹن میں سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ کھیلے گا۔ انگلینڈ پہلے ہی سیریز میں 2-0 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کر چکا ہے، اس لیے یہ میچ ایک طرح سے رسمی کارروائی بن چکا ہے۔ کرک انفو نے ان نئے آنے والے کھلاڑیوں کے کیریئر کا مختصر جائزہ لیا ہے۔
عرفات منہاس
آخری ٹیسٹ کے لیے طلب کیے گئے پانچ فرسٹ کلاس کرکٹرز میں عرفات منہاس واحد کھلاڑی ہیں جنہیں بین الاقوامی کرکٹ کا تجربہ حاصل ہے۔ وہ تین ون ڈے اور چار ٹی20 انٹرنیشنل میچز کھیل چکے ہیں۔
بائیں ہاتھ سے سپن گیند کرنے والے آل راؤنڈر منہاس پاکستان کے واحد ایسے بولر ہیں جنہوں نے ون ڈے ڈیبیو پر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے یہ کارنامہ رواں سال راولپنڈی میں آسٹریلیا کے خلاف انجام دیا تھا۔
منہاس نے 2024-25 کے سیزن میں پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا اور اب تک 17 فرسٹ کلاس میچز کھیل چکے ہیں۔
گزشتہ سیزن میں ان کی کارکردگی مناسب رہی۔ انہوں نے ملتان کو ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی کرانے میں مدد دینے کے بعد قائداعظم ٹرافی میں حصہ لیا، جبکہ ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کے ٹورنامنٹ پریذیڈنٹ ٹرافی میں بھی کھیلے۔
انہوں نے فیصل آباد کے خلاف ملتان کی دس وکٹوں سے فتح کے دوران اپنی پہلی فرسٹ کلاس سینچری سکور کی۔ وہ 152 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔
2025-26 کے فرسٹ کلاس سیزن میں ان کے مجموعی اعداد و شمار 684 رنز، اوسط 34.20، اور 13 وکٹیں، اوسط 30 رہے۔
سعد بیگ
کراچی میں پیدا ہونے والے وکٹ کیپر بلے باز سعد بیگ نے گزشتہ قائداعظم ٹرافی میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور کراچی ریجن بلیوز کو فائنل میں سیالکوٹ کو شکست دے کر ٹائٹل جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔
Caption
اپنی بہترین بیٹنگ کارکردگی کی وجہ سے سعد بیگ کو ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ انہوں نے 55.55 کی اوسط سے 1000 رنز بنائے۔
ان کی چاروں فرسٹ کلاس سینچریاں 2025-26 کی قائداعظم ٹرافی میں بنیں۔ ان میں سے دو سینچریاں انہوں نے ایک ہی میچ میں پشاور ریجن کے خلاف اسلام آباد کے مرغزار کرکٹ گراؤنڈ میں سکور کیں۔ ان کی ان سینچریوں کی بدولت کراچی نے یہ میچ 218 رنز سے جیتا۔
انہوں نے گزشتہ سیزن میں پریذیڈنٹ ٹرافی میں خان ریسرچ لیبارٹریز کی نمائندگی بھی کی۔ پورے سیزن میں انہوں نے 45.63 کی اوسط سے 1369 رنز بنائے اور وکٹوں کے پیچھے 56 شکار کیے، جن میں 50 کیچز اور چھ اسٹمپنگز شامل تھیں۔
محمد عمران جونیئر
سوات، شمالی پاکستان سے تعلق رکھنے والے بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر محمد عمران جونیئر نے اس سال ایم آئی ٹی سالوشن کو پریذیڈنٹ ٹرافی کے فرسٹ کلاس ڈویژن میں جگہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے پانچ ایسے میچز میں، جنہیں فرسٹ کلاس کا درجہ حاصل نہیں تھا، 27.65 کی اوسط سے 17 وکٹیں حاصل کیں۔
محمد عمران نے اب تک صرف آٹھ فرسٹ کلاس میچز کھیلے ہیں۔ (فوٹو: پی ایس ایل)
وہ عبداللہ شفیق کے ساتھی کھلاڑی بھی رہے ہیں۔ عبداللہ شفیق نے اسی ٹورنامنٹ میں بہترین بیٹنگ کارکردگی دکھا کر ٹیسٹ ٹیم میں دوبارہ جگہ حاصل کی۔
عمران نے اب تک صرف آٹھ فرسٹ کلاس میچز کھیلے ہیں۔ انہوں نے نومبر 2022 میں ڈیبیو کیا اور اب تک 30.86 کی اوسط سے 23 وکٹیں حاصل کی ہیں۔
2025-26 کی قائداعظم ٹرافی میں انہوں نے صرف ایک فرسٹ کلاس میچ کھیلا۔ پشاور ریجن کی جانب سے کراچی ریجن بلیوز کے خلاف اسی میچ میں انہوں نے 3/85 اور 0/46 کی بولنگ کی۔ اسی میچ میں سعد بیگ نے اپنی دو سینچریاں سکور کی تھیں۔
عمران حالیہ عرصے میں پاکستان شاہینز کے ساتھ بھی دورے کر چکے ہیں۔ انہوں نے 2024 کے ٹی20 ایمرجنگ ایشیا کپ میں تین میچز کھیلے۔ اس کے علاوہ سعود شکیل کی قیادت میں برطانیہ کا دورہ بھی کیا، جہاں تین محدود اوورز اور دو ریڈ بال میچز شامل تھے، تاہم وہ ان میں سے کسی میچ میں نہیں کھیل سکے۔
ان کا تازہ ترین میچ گزشتہ ماہ ملتان میں ہونے والے 50 اوورز کے نیشنل چیمپئنز کپ میں تھا، جہاں انہوں نے اپنے واحد میچ میں34 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔
اس سے قبل انہوں نے نیشنل ٹی20 کپ میں پشاور کی جانب سے لاہور وائٹس کے خلاف 1/17 اور فیصل آباد کے خلاف 0/39 کی کارکردگی دکھائی۔
رضا اللہ
21 سالہ ضا اللہ نے 2025-26 کے سیزن میں پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں قدم رکھا۔ انہوں نے فرسٹ کلاس، لسٹ اے اور ٹی20 میچز میں پشاور اور ساحر ایسوسی ایٹس کی نمائندگی کی۔
21 سالہ ضا اللہ نے 2025-26 کے سیزن میں پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں قدم رکھا۔ (فوٹو: ایکس)
مردان سے تعلق رکھنے والے دائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر رضا اللہ نے آٹھ فرسٹ کلاس میچز میں 20.86 کی شاندار اوسط سے 30 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے 14 اننگز میں تین مرتبہ پانچ وکٹیں بھی حاصل کی ہیں۔
ان کی بیٹنگ بھی نچلے نمبروں پر مفید ثابت ہو سکتی ہے، اور ممکن ہے کہ یہی صلاحیت سلیکٹرز کو انہیں برطانیہ بھیجنے پر آمادہ کرنے کی ایک وجہ بنی ہو۔
رضا اللہ کے نام ایک فرسٹ کلاس سینچری اور ایک نصف سینچری ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں انہوں نے ایک ہی میچ میں اسلام آباد ریجن کے خلاف بنائیں۔
انہوں نے دوسری اننگز میں اوپننگ کرتے ہوئے صرف 95 گیندوں پر سنچری مکمل کی، جس میں 10 چوکے اور پانچ چھکے شامل تھے۔
محمد عمران رندھاوا
تین فاسٹ بولرز میں محمد عمران رندھاوا سب سے زیادہ تجربہ کار ہیں اور انہیں ایک دہائی سے زیادہ کا تجربہ حاصل ہے۔
دائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر محمد عمران رندھاوا نے 58 فرسٹ کلاس میچز میں 34.83 کی اوسط سے 110 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ (فوٹو: انسٹا)
رندھاوا نے 2015-16 کے سیزن میں فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا۔
دائیں ہاتھ کے اس فاسٹ بولر نے 58 فرسٹ کلاس میچز میں 34.83 کی اوسط سے 110 وکٹیں حاصل کی ہیں۔
وہ بیٹنگ بھی کر سکتے ہیں۔ ان کی فرسٹ کلاس بیٹنگ اوسط 26.52 ہے اور ان کے نام دو سینچریاں اور 10 نصف سینچریاں بھی ہیں۔
گزشتہ دو سیزنز میں انہوں نے 26.45 کی اوسط سے 55 فرسٹ کلاس وکٹیں حاصل کیں۔
2025-26 کے سیزن میں انہوں نے نیشنل ٹی20 کپ کے کوالیفائر اور اصل ٹورنامنٹ میں اپنے ریجن بہاولپور کی کپتانی بھی کی۔
رندھاوا نے 2026 کے پی ایس ایل میں ملتان سلطانز کی نمائندگی کی۔ اس کے علاوہ وہ 2023 کے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں ڈھاکہ ڈومینیٹرز کی جانب سے تین میچز بھی کھیل چکے ہیں۔