Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حوثیوں کے ساتھ جھڑپوں میں یمنی حکومتی فورسز کے 13 اہلکار ہلاک

باب المندب بحیرۂ احمر کے جنوبی داخلی راستے پر واقع ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
یمن کی حکومتی فورسز کے تیرہ اہلکار جمعرات کے روز حوثی جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپوں میں مارے گئے۔
ایک فوجی ذریعے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حوثیوں نے باب المندب آبنائے سے متصل علاقوں پر قبضہ کرنے کے لیے حملہ کیا تھا۔
فوجی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حکومتی فورسز کے 13 اہلکار، جن میں دو افسران بھی شامل ہیں، مارے گئے ہیں۔
ایک اور ذریعے نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر وہ اہلکار شامل تھے جو ساحلی شہر المخا اور اندرونِ ملک واقع شہر تعز کے درمیان محاذوں پر تعینات تھے، جبکہ دیگر اہلکار بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے کے قریب ہونے والی جھڑپوں میں مارے گئے۔
باب المندب بحیرۂ احمر کے جنوبی داخلی راستے پر واقع ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، جو سعودی عرب سے تیل کی برآمدات اور عالمی تجارت کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔
یمن گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے خانہ جنگی کا شکار ہے۔ جولائی میں یہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں شامل ہونے والا تازہ ترین ملک بن گیا، جب حوثیوں نے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے ساتھ 2022 میں ہونے والی جنگ بندی ختم کر دی۔
حوثیوں نے یمن کے دارالحکومت صنعاء میں ایک ایرانی طیارے کا خیرمقدم کیا تھا، جس کے بعد حملوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ بعد ازاں انہوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا اور سعودی بحری جہازوں اور سعودی سرزمین کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔
ایک اور فوجی ذریعے نے بتایا کہ جمعرات کو مارے جانے والوں میں زیادہ تر وہ اہلکار شامل تھے جو حکومت کے زیرِ کنٹرول ساحلی شہر المخا اور اندرونِ ملک واقع شہر تعز کے درمیان محاذوں پر تعینات تھے، جبکہ دیگر افراد بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے کے قریب ہونے والی جھڑپوں میں مارے گئے۔
اس ذریعے نے بتایا کہ حوثی تعز اور المخا کو ملانے والے راستے کو منقطع کرنے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ ساحلی شہر المخا کو الگ تھلگ کیا جا سکے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران اس شہر پر مسلسل حملے ہوتے رہے ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے صبا نے بھی اطلاع دی کہ تعز کے مغرب میں حکومتی فورسز اور ایران کی حمایت یافتہ گروپ کے درمیان شدید لڑائی جاری رہی۔ ادارے نے حوثیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کی بھی اطلاع دی۔
صبا نے تعز کے مغربی علاقوں اور مغربی ساحلی محاذ پر ’حوثی دہشت گرد ملیشیا کی جانب سے کئی محاذوں پر مسلسل کشیدگی میں اضافے‘ کی اطلاع دی۔
المخا میں موجود ایک فیلڈ افسر نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس کے اہلکار ’حوثیوں کے بڑے حملے کو پسپا کرنے کے لیے شدید لڑائی لڑ رہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے دو بارودی مواد سے لدی کشتیوں کے ذریعے کیے گئے حملے کو بھی ناکام بنا دیا، جو بندرگاہ کے قریب دھماکے سے تباہ ہو گئیں۔‘

شیئر: