’پہلے آئینے میں خود کو دیکھیں،‘ سابق پاکستانی کوچ جیسن گلیسپی کا عاقب جاوید کو جواب
پاکستان کے سابق ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی نے کہا ہے کہ ’پی سی بی کی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین عاقب جاوید کو اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے، کیونکہ قومی ٹیم اس وقت ’ڈر کر کھیلتی ہوئی‘ نظر آرہی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے انگلینڈ کے خلاف مسلسل دو ٹیسٹ میچوں میں بدترین ناکامی کے بعد بعض انتہائی حیران کُن فیصلے کیے ہیں۔
پی سی بی نے رواں ہفتے ریڈ بال کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور فاسٹ بولنگ کوچ عمر گل کو تبدیل کر دیا، جبکہ انگلینڈ میں موجود قومی ٹیم کے سات کھلاڑیوں کو بھی وطن واپس بھیج دیا ہے۔
آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے کوچ نے جمعے کو ایک بیان میں مزید کہا کہ ’انگلینڈ کے خلاف
ٹیسٹ سیریز میں پاکستانی ٹیم کی موجودہ صورتِ حال دیکھ کر انہیں افسوس ہوا۔‘
یاد رہے کہ جیسن گلیسپی نے 2024 میں قریباً آٹھ ماہ تک پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کی اور اس دوران پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف 1-2 سے ٹیسٹ سیریز کامیابی بھی حاصل کی تھی۔
آسٹریلوی اخبار سے بات کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ ’مجھے کھلاڑیوں کو دیکھ کر افسوس ہو رہا ہے، کیونکہ یہی اُن کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ باہر سے دیکھنے پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ خوف کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔‘
انہوں نے سلمان علی آغا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں کپتان تھے، لیکن دوسرے ٹیسٹ سے اُنہیں ٹیم سے نکال دیا گیا اور تیسرے ٹیسٹ سے قبل ہی وطن واپس بھیج دیا گیا۔
جیسن گلیسپی نے سوال کیا کہ ’یہ سب کیسے ہو سکتا ہے؟‘
عاقب جاوید پر تنقید
جیسن گلیسپی نے موجودہ صورتِ حال کی ذمہ داری براہِ راست عاقب جاوید پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بات بالکل واضح ہے کہ اُن کے پاس سلیکشن کی کوئی حکمتِ عملی نہیں ہے، وہ روزانہ اپنے فیصلے بدلتے ہیں۔‘
جیسن گلیسپی کا مزید کہنا تھا کہ ’عاقب جاوید نے حال ہی میں پاکستانی ٹیم کی خراب کارکردگی کا الزام سابق وائٹ بال کوچ گیری کرسٹن اور مجھ پر بھی عائد کیا تھا۔‘
’عاقب جاوید گذشتہ دو سال سے چیف سلیکٹر ہیں۔ ہم تو وہاں موجود ہی نہیں تھے۔ پھر وہ کسی طرح یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ موجودہ صورتِ حال کے ذمہ دار ہم ہیں۔‘
انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ’یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے۔ میرے خیال میں عاقب جاوید کو چاہیے کہ وہ آئینے میں خود کو دیکھیں۔‘
کھلاڑیوں سے رابطے کی کمی
پاکستانی ٹیم کے سابق کوچ نے دعویٰ کیا کہ ’عاقب جاوید اور کھلاڑیوں کے درمیان مناسب رابطہ موجود نہیں ہے۔ ٹیم سے نکالے گئے کھلاڑیوں کو اپنی برطرفی کی اطلاع خاندان، دوستوں یا میڈیا کے ذریعے ملی۔‘
جیسن گلسپی کا کہنا تھا کہ ’یہ کھلاڑیوں کے لیے کتنی بے عزتی کی بات ہے؟‘
یاد رہے کہ پاکستانی ٹیم انگلینڈ کے خلاف پہلا ٹیسٹ ایک اننگز اور 103 رنز جبکہ دوسرا ٹیسٹ میچ 194 رنز سے ہار چکی ہے۔سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 ستمبر سے ایجبسٹن میں شروع ہو رہا ہے۔
اس صورتِ حال پر پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتانوں شاہد آفریدی اور شعیب ملک سمیت سابق کوچز اور کھلاڑیوں نے بھی حیرت کا اظہار کیا ہے۔ سابق کوچ مکی آرتھر نے اسے ’انتہائی مضحکہ خیز صورتِ حال‘ قرار دیا ہے۔
نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے وائٹ بال کے کوچ مائیک ہیسن اور آسٹریلیا کے ایشلے نوفکے نے دورۂ انگلینڈ کے باقی میچوں کے لیے بطور ہیڈ کوچ اور بولنگ کوچ ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔
