Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نیپال: ملبے میں دبی سُرنگ سے 10 روز بعد دو کارکن زندہ برآمد، ’یہ معجرہ ہے‘

دونوں کارکنوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا (فوٹو: اے ایف پی)
نیپال میں سرنگ کے اندر پھنسے دو کارکنوں کو 10 روز بعد زندہ نکال لیا گیا ہے جس کے بعد پھنسے مزید کارکنوں کے زندہ ہونے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تباہ کن سیلاب کے بعد سے سینکڑوں ایسے کارکن لاپتہ تھے جن کی ڈیوٹی سرنگوں میں بنے بجلی کے پلانٹس پر ہوتی تھی، سیلاب کے ساتھ وہ سرنگیں کیچڑ میں دب گئی تھیں تاہم ان کی تلاش کا کام شروع کر دیا گیا تھا۔
وزارت توانائی کی جانب سے جمعے کو جاری کی گئی ویڈیو میں امدادی کارکنوں کو خوشی سے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور اس کے ساتھ دوسرے کارکن ایک شخص کو کیچڑ سے اٹے راستے کے ذریعے باہر لاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
امدادی کارکن اس کو سہارا دے کر کھڑا کرتے ہیں اور پھر اپنی پشت پر اٹھا کر لے جاتے ہیں، اس دوران وہ شخص اپنا ہاتھ بلند کرتا رہا جبکہ بعدازاں اس کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال بھجوایا گیا۔
اسی طرح کچھ اور تصویریں بھی سامنے آئی جن میں ایک اور شخص کو زندہ نکالے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ دوسرے کارکنوں کی تلاش کا کام مزید تیز کر دیا گیا ہے (فوٹو: روئٹرز)

اس شخص نے دعا کے انداز میں ہاتھ جوڑ رکھے تھے جب امدادی کارکن اس کو سٹریچر کے ذریعے باہر لائے۔
پچھلے بدھ کو آنے والے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار دو سے بڑھ چکی ہے جبکہ پانچ ہزار سے زائد لاپتہ ہیں۔
بچائے جانے والے ایک شخص کا نام کبیر مہارجن بتایا گیا ہے، ان کے بنائی امیر مہارجن نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئےکہا کہ ’میں بہت خوش ہوں، میرے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہے۔‘

سیلاب کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 12 سو سے بڑھ چکی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

اسی طرح دوسرے شخص کی شناخت سنجے شاہ کے نام سے ہوئی ہے جو مکینیکل فور میں ہیں جبکہ کبیر مہارجن مکینیکل سپروائزر کے طور پر کام کر رہے تھے۔
نیپالی فوج بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ تلاش کا کام اب بھی جاری ہے اور ملنے والے دونوں افراد کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔
26 اگست کو اچانک آنے والے سیلاب سے پورا علاقہ ملیامیٹ ہو گیا تھا اور وہ کم سے کم 12 پن بجلی کے منصوبوں کے آپریشن سینٹرز ملبے میں دب گئے تھے۔
حکام نے دس روز بعد ان افراد کے زندہ ملنے کو معجرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 100 سے زائد مزید کارکن سرنگوں کے اندر زندہ ہو سکتے ہیں اس لیے تلاش کا کام مزید تیز کر دیا گیا ہے۔

شیئر: