Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان: مدرسے میں استاد کے تشدد سے بچی کی آنکھ ضائع، سرجری سے نکال دی گئی

واقعہ ڈیڑھ ماہ قبل چمن کے گاؤں گلدار باغیچہ میں پیش آیا (فوٹو: وکی پیڈیا)
بلوچستان کے ضلع چمن میں ایک مدرسے کے استاد کے مبینہ تشدد کے باعث سات سالہ بچی کی ایک آنکھ کی بینائی مکمل طور پر ضائع ہو گئی۔
 کوئٹہ کے گورنمنٹ ہیلپر آئی ہاسپٹل میں ڈاکٹروں نے آپریشن کر کے اس کی متاثرہ آنکھ نکال دی ہے۔ 
یہ واقعہ چمن کے علاقے گلدار باغیچہ کے رہائشی عبدالمحمد کی سات سالہ بیٹی ملالہ کے ساتھ تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل پیش آیا تھا تاہم یہ معاملہ حال ہی میں سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد عام لوگوں کے علم میں آیا۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

بچی کے ماموں دوست محمد نے اردو نیوز کو بتایا کہ ملالہ اپنے گھر کے قریب ایک مدرسے میں پڑھتی تھی جہاں سبق یاد نہ ہونے پر استاد نے اسے تھپڑ مارا۔ ان کے بقول اس دوران بچی گر کر ٹیبل کے کونے سے ٹکرا گئی جس سے اس کی آنکھ پر چوٹ آئی۔
دوست محمد نے بتایا کہ بچی کے والد دیہاڑی دار مزدور ہیں اور واقعے کے بعد مولوی نے انہیں علاج کے لیے دس ہزار روپے دیے تھے۔ والد نے ابتدا میں بچی کو گاؤں کے مقامی کلینک اور بعد میں چمن بازار میں دکھایا لیکن رقم ختم ہونے پر علاج جاری نہ رکھ سکے۔ 
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر معمولی نظر آنے والا زخم بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث وقت کے ساتھ گہرا ہوتا گیا اور آپریشن سے ایک ہفتہ قبل آنکھ کی حالت انتہائی خراب ہو چکی تھی۔

معاملہ کیسے منظرعام پر آیا؟

ڈیڑھ ماہ پرانا یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب بچی کی والدہ نے حالت بگڑنے پر اپنے ہمسایوں سے مدد مانگی جنہوں نے مریضوں کی مالی امداد اور سوشل میڈیا پر مہم چلانے والے صحافی اور سماجی کارکن جمال ترہ کئی سے رابطہ کیا۔
جمال ترہ کئی کے مطابق بچی کے ہمسایوں نے انہیں واقعہ اور بچی کی طبعیت بگڑنے کی اطلاع دی جس پر انہوں نے فیملی کو بچی کوئٹہ لانے کی ہدایت کی اور سوشل میڈیا پر چندہ مہم شروع کی جس کے نتیجے میں اب تک 20 لاکھ روپے سے زائد رقم جمع ہو چکی ہے۔

بچی کے علاج کے لیے سوشل میڈیا پر مدد کی اپیل کی گئی جس پر معاملہ سامنے آیا (فوٹو: جمال ترہ کئی)

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بچی کو شہر کے معروف سرجن اور پھر سرکاری ہسپتال میں آنکھوں کے ماہرین کو دکھایا جنہوں نے بتایا کہ بہت دیر ہوچکی ہے اور بچی کی آنکھ کی بینائی ضائع ہوچکی ہے۔ 
کوئٹہ کے گورنمنٹ ہیلپر آئی ہاسپٹل کی آئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر ارم بلوچ نے تصدیق کی کہ چوٹ لگنے کے بعد طویل عرصے تک علاج نہ ہونے کے باعث بچی کی آنکھ میں شدید انفیکشن پھیل چکا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ آنکھ مکمل طور پر ضائع ہو چکی تھی۔ شدید چوٹ کے باعث قرنیہ میں پرفوریشن یعنی سوراخ ہو چکا تھا جس کی وجہ سے آنکھ کے اندرونی اجزا باہر آ گئے تھے اور آنکھ کا اگلا اور پچھلا پردہ مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا تھا۔
 ڈاکٹر ارم بلوچ کے مطابق اس مرحلے پر بینائی کی بحالی ناممکن ہو چکی تھی اس لیے بچی کا شدید درد ختم کرنے اور انفیکشن کو دوسری آنکھ تک پھیلنے سے روکنے کے لیے فوری طور پر سرجری کے ذریعے متاثرہ آنکھ نکالنا ضروری سمجھا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ضروری طبی ٹیسٹوں کے بعد بچی کا آپریشن کرکے متاثرہ آنکھ نکال لی گئی اور اب ان کی حالت بہتر ہے۔
ڈاکٹر ارم بلوچ کے مطابق زخم بھرنے کے بعد بچی کو مصنوعی آنکھ لگائی جائے گی تاکہ اس کی چہرے کی ساخت اور خوبصورتی کو بحال کیا جاسکے۔
جمال ترہ کئی نے بتایا کہ اس کیس کو اٹھانے پر ان پر بعض حلقوں کی جانب سے دباؤ بھی ڈالا گیا تاہم ان کا کہنا ہے کہ  تعلیمی اداروں اور مدارس میں بچوں پر تشدد کے خلاف لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پھر کسی ملالہ کی آنکھ ضائع نہ ہو۔
سوشل میڈیا پر معاملہ وائرل ہونے کے بعد چمن کی مقامی انتظامیہ نے متعلقہ مدرسے کو سیل کر دیا تاہم کیس سے متعلق اب تک کوئی باقاعدہ ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔
 ایس ایچ او چمن کاریزات عبدالجبار نے بتایا کہ پولیس کو واقعے کا علم سوشل میڈیا کے ذریعے ہوا جس کے بعد انتظامیہ کی ہدایت پر کارروائی کرتے ہوئے مدرسے کو سیل کیا گیا لیکن بچی کے والد نے قانونی کارروائی اور مقدمہ درج کرانے سے انکار کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق بچی کو تشدد کا نشانہ بنانے والا ملزم واقعے کے بعد سے فرار ہے تاہم راضی نامے اور والد کی مدعیت نہ ہونے کی وجہ سے قانونی پیش رفت رک گئی ہے اور مدرسہ بھی جمعے کو دوبارہ کھول دیا گیا۔
اگرچہ بلوچستان حکومت نے تعلیمی اداروں میں بچوں پر تشدد کو قانوناً ممنوع قرار دے رکھا ہے تاہم اس کے باوجود ایسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر معاملہ وائرل ہونے کے بعد چمن کی مقامی انتظامیہ نے متعلقہ مدرسے کو سیل کر دیا (فوٹو: بلوچستان اپڈیٹس)

ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (اسکولز) بلوچستان نے رواں برس جولائی میں ایک باقاعدہ نوٹیفکیشن کے ذریعے تمام سرکاری و پرائیویٹ سکولوں میں بچوں کو تھپڑ مارنے، ڈنڈے سے پیٹنے اور کسی بھی قسم کے جسمانی و نفسیاتی تشدد پر سخت پابندی عائد کر رکھی ہے۔
 نوٹیفکیشن میں ’بلوچستان چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ 2016‘ اور اقوامِ متحدہ کے بچوں کے حقوق کے کنونشن کا حوالہ دیتے ہوئے تمام اداروں میں 'شکایتی رجسٹر' قائم کرنے اور تشدد کے مرتکب اساتذہ کے خلاف سخت انضباطی کارروائی کی ہدایت کی گئی تھی۔
خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ماہر قانون مہر النسا ایڈووکیٹ کہنا ہے کہ مدارس محکمہ تعلیم کے ماتحت نہیں آتے وہاں بھی تشدد کی روک تھام کے لیے ادارہ جاتی نظام بنا کر اقدامات اٹھانے چاہییں۔
انہوں نے بتایا کہ مدارس میں زیادہ تر انتہائی غریب طبقے کے بچے جاتے ہیں جہاں یہ غیر رسمی تعلیم کا نظام چل رہا ہے ان کے والدین کو زیادہ آگاہی نہیں ہوتی۔
 ان کے مطابق اس مسئلے کے تدارک کے لیے معاشرتی آگاہی کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تربیت اور بچوں پر تشدد سے متعلق قوانین پر عملدرآمد ضروری ہے۔

شیئر: