Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مسلمان خواتین صحافیوں کا دہلی پولیس پر حراست اور تشدد کا الزام

دہلی پولیس نے صحافیوں کے الزامات کو ’بے بنیاد، حقائق کے منافی اور گمراہ کن‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔(سکرین گریب)
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں مسلمان خواتین صحافیوں شاہین خان اور نفیسہ خان نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں جنوبی دہلی میں ایک عوامی تقریب کی کوریج کے دوران دہلی پولیس اہلکاروں نے ساکیت تھانے میں حراست میں رکھا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ 
دہلی پولیس نے صحافیوں کے الزامات کو ’بے بنیاد، حقائق کے منافی اور گمراہ کن‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
شاہین خان اور نفیسہ خان ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم اور یوٹیوب چینل’4 پی ایم نیوز نیٹ ورک‘ کے لیے رپورٹنگ کر رہی تھیں۔ ان کے مطابق وہ تین ستمبر کو ایک ایسی تقریب کی کوریج کے لیے موجود تھیں جس میں دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا اور  وزیر داخلہ امیت شاہ نے شرکت کی۔
صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ وزیراعلیٰ سے مبینہ ’سائیکل سکیم سکینڈل‘ کے بارے میں سوال کرنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ پولیس اہلکاروں نے انہیں روک دیا۔ ان کے بقول بعد ازاں انہیں ساکیت تھانے کے ایک بند کمرے میں لے جایا گیا، جہاں سادہ لباس میں موجود ایک خاتون پولیس اہلکار نے انہیں تھپڑ مارے اور ڈنڈے سے تشدد کیا۔
دونوں صحافیوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ واقعے کے دوران ان کی شناخت اور مذہب کو بنیاد بنا کر توہین آمیز الفاظ استعمال کیے گئے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض ویڈیوز میں مبینہ طور پر ان کے بازوؤں اور ٹانگوں پر چوٹ کے نشانات بھی دکھائے گئے ہیں، جس کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا۔
دہلی پولیس نے صحافیوں کے بیان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں سیاسی رہنماؤں سے سوال کرنے کی کوشش پر حراست میں نہیں لیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق، دونوں خواتین کا سکوٹر وی وی آئی پی سکیورٹی کے لیے مختص راستے میں رکاوٹ بن رہا تھا اور انہیں سکیورٹی سے متعلق ہدایات پر بار بار عمل کرنے کے لیے کہا گیا، جس سے انکار کے بعد انہیں وہاں سے ہٹایا گیا۔
دونوں جانب سے سامنے آنے والے متضاد بیانات کے بعد معاملے کی آزاد اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
صحافیوں کی متعدد تنظیموں، جن میں پریس کلب آف انڈیا، انڈین ویمنز پریس کور اور دہلی یونین آف جرنلسٹس شامل ہیں، نے صحافیوں پر مبینہ تشدد کی مذمت کرتے ہوئے منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ان تنظیموں نے ساکیت تھانے کے سٹیشن ہاؤس آفیسر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی پولیس کمشنر انوراگ کمار سے بھی معاملے کی تحقیقات کرنے کی اپیل کی ہے۔
واقعے پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی  کے رہنماؤں نے صحافیوں کے خلاف مبینہ طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے حکومت پر آزادیٔ صحافت کے تحفظ میں ناکامی کا الزام عائد کیا ہے۔
دوسری جانب صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ طبی معائنے اور مبینہ زخموں کو میڈیکو لیگل کیس  رپورٹ کے ذریعے ریکارڈ کرانے کے لیے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز  گئیں۔
رپورٹس کے مطابق ساکیت تھانے کے باہر احتجاج اور دھرنے بھی دیے گئے، جہاں مظاہرین نے مبینہ طور پر ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ واقعہ  4 پی ایم نیوز نیٹ ورک  کے حوالے سے ماضی میں ہونے والی حکومتی کارروائی کے پس منظر میں بھی سامنے آیا ہے۔
مئی 2025 میں انڈیا کی مرکزی حکومت نے قومی سلامتی اور امنِ عامہ سے متعلق وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے اس نیوز نیٹ ورک کے یوٹیوب چینل کو بلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔
چینل کے ایڈیٹر ان چیف سنجے شرما نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، جس پر عدالت نے مرکزی حکومت اور دیگر متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کیے۔ بعد ازاں حکومت نے یوٹیوب چینل کو بلاک کرنے کا حکم واپس لے لیا تھا۔

شیئر: