Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یمن میں جمعرات سے جاری جھڑپوں میں 120 سے زائد افراد ہلاک

یمن میں حوثی باغیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں جمعرات سے اب تک 120 جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔ 
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ اعداد و شمار دو فوجی حکام اور باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں موجود طبی عملے کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔
بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے میں موجود ایک فوجی عہدیدار نے بتایا کہ اس کے 24 اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ یمن کے جنوب مغرب میں واقع تعز کے صوبے میں ایک اور فوجی عہدیدار کے مطابق وہاں 15 اہلکار مارے گئے۔
طبی عملے کے ذرائع مطابق حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں کم سے کم 42 حوثی جنگجو بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
یمن میں جمعرات کو اس وقت خونریز جھڑپیں شروع ہوئیں جب حوثی باغیوں نے بحیرۂ احمر کے قریب ساحلی علاقوں اور تعز کے گرد و نواح میں راکٹوں اور ڈرونز کے ذریعے زمینی حملے شروع کیے۔
یمنی حکومت کے فوجی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’حوثی باغی اہم بندرگاہی شہر مخا  کو حکومت کے زیرِ انتظام دیگر علاقوں سے کاٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
’حوثی باغی اِس کے ساتھ ساتھ تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے باب المندب سے متصل علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘
یمن ایک دہائی سے زائد عرصے سے خانہ جنگی کا شکار ہے۔ رواں سال جولائی میں یہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کی لپیٹ میں آنے والا تازہ ترین ملک بن گیا، جب حوثیوں نے حکومت کے ساتھ 2022 میں ہونے والی جنگ بندی کو ختم کرتے ہوئے دوبارہ حملوں کا آغاز کردیا۔
 

شیئر: