Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کی کوششیں جاری، امید ہے امریکہ ایران مذاکرات کی میز پر آ جائیں گے: ترجمان دفتر خارجہ

طاہر اندرابی کے مطابق پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور امید ہے دونوں مذاکرات کی میز پر واپس آ جائیں گے۔
بدھ کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران طاہر حسین اندرانی نے مشرق وسطیٰ میں ہونے والی حالیہ کشیدگی کے حوالے سے کہا کہ اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور پاکستان اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
ان کے مطابق یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں بلکہ فریقین جب بھی فریقین مذاکرات کی بحالی پر تیار ہوں گے تو امن کا طریقۂ کار مفاہمتی یادداشت کی شکل میں موجود ہے۔
 ان کے مطابق ’ہم اس صورت حال سے مایوس نہیں ہیں، ہمارے چیف آف ڈیفنس فورسز نے ایران کا دورہ کیا اور ہماری کوششیں اب بھی جاری ہیں۔‘
ترجمان دفتر خارجہ نے مکہ معاہدے کے تحت قائم کی گئی کمیٹی کے استنبول میں ہونے والے اجلاس کے بارے میں بتایا کہ اس میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے اتفاق کیا کہ اس کا سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا جبکہ پاکستان اس کی تین برس تک سیکریٹری جنرل کی ذمہ داریاں نبھائے گا۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ بشکیک کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے وہاں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملے۔
انہوں نے انڈیا اور سندھ طاس معاہدے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں ہیگ میں بین الاقوامی ثالثی کی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے موقف کی بھرپور تائید ہے اور پاکستان اس کو سراہتا ہے۔
ان کے بقول انڈیا کی جانب سے فیصلے کو مسترد کیا جانا بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے تقدس کی خلاف ورزی ہے، وہ اپنی سہولت کے لیے بین الاقوامی فیصلوں کو قبول یا مسترد نہیں کر سکتا۔
’سدھ معاہدے سے متعلق عدالت کا فیصلہ بڑا واضح ہے اور اسے مسترد کرنا انڈیا کے لیے فرد جرم کے مترادف ہے۔‘
افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان تعلقات کی بہتری کا دارومدار طالبان حکومت کے رویے پر ہے۔

شیئر: