Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ای بائیک سکیم: کیا پنجاب میں طلبہ و طالبات اب آسان شرائط پر موٹرسائیکل حاصل کر سکتے ہیں؟

وزیراعلٰی کے مطابق ’اب طلبہ و طالبات پیشگی رقم ادا کیے بغیر موٹرسائیکل حاصل کر سکتے ہیں‘ (فائل فوٹو: مریم نواز ایکس اکاؤنٹ)
حکومتِ پنجاب نے صوبے بھر کے طلبہ و طالبات کے لیے الیکٹرک بائیک سکیم کے بنیادی مالیاتی فریم ورک اور شرائط میں بڑی تبدیلی کی ہے۔ 
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایک حالیہ اعلٰی سطح کے جائزہ اجلاس کے بعد سوشل میڈیا پیغام میں سٹوڈنٹ الیکٹرک بائیک سکیم کے حوالے سے باضابطہ اعلان کیا۔
بیان کے مطابق ’اب طلبہ و طالبات کو کسی بھی قسم کی ڈاؤن پیمنٹ یا پیشگی رقم ادا نہیں کرنا پڑے گی، جبکہ ماہانہ قسط کا بوجھ بھی کم ترین سطح یعنی صرف تین ہزار روپے پر فِکس کر دیا گیا ہے۔‘
حکومتِ پنجاب نے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور بینک آف پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ اس سکیم کے تحت درخواستوں کی وصولی کا آغاز جمعہ 4 ستمبر کردیا جائے۔
بینک آف پنجاب کو باضابطہ آن لائن پورٹل فعال کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے تاکہ صوبے بھر کے 36 اضلاع کے طلبہ اور طالبات گھر بیٹھے الیکٹرک بائیک حاصل کرنے کے لیے آسانی سے درخواست دے سکیں۔
اس بار حکومتِ پنجاب نے سکیم کا دائرۂ کار وسیع کیا ہے جس کے تحت طلبہ و طالبات میں 1 لاکھ 25 ہزار سے زائد جدید لیتھیئم آئرن فاسفیٹ بیٹری سے لیس الیکٹرک بائیکس تقسیم کی جائیں گی۔
اسی سکیم کے تحت طلبہ اور طالبات کو بائیک کے ساتھ مفت ہیلمٹ، سیفٹی راڈ اور دو دن کی مفت رائیڈنگ ٹریننگ بھی فراہم کی جائے گی۔ 
الیکٹرک بائیک سکیم میں کیا تبدیلی کی گئی ہے؟
پنجاب حکومت نے گذشتہ برس الیکٹرک بائیک سکیم کا اعلان کیا تھا جو کہ طلبہ و طالبات کے لیے مخصوص کی گئی تھی۔ 
اس سے قبل کے مالیاتی فریم ورک کے تحت ایک الیکٹرک یا پیٹرول بائیک جس کی مارکیٹ میں قیمت قریباً 2 لاکھ 20 ہزار روپے تھی، اس پر طلبہ کو 30 فیصد ڈاؤن پیمنٹ ادا کرنا ہوتی تھی۔ 
حکومت کی جانب سے 20 ہزار روپے کی رعایت دینے کے باوجود طالب علم یا طالبہ کو بائیک کی چابیاں حاصل کرنے کے لیے قریباً 46 ہزار روپے پیشگی جمع بھی کروانا پڑتے تھے۔
ای بائیک کے دیگر ماڈلز کے حصول کے لیے کم سے کم 14 ہزار روپے کی ڈاؤن پیمنٹ لازمی تھی۔ اس کے علاوہ سابقہ ماڈل میں ماہانہ قسط بھی 6 ہزار 400 روپے سے زائد بنتی تھی۔

سکیم کے تحت امیدوار طالب علم کی باضابطہ تعریف یہ طے کی گئی ہے کہ اس کی عمر کم سے کم 18 سال ہو (فائل فوٹو: ای بائیک سلیم ڈاٹ کام)

مزید برآں رجسٹریشن اور انشورنس کی مد میں ہزاروں روپے کے اضافی اخراجات بھی طالب علم ہی کے ذمے تھے جس کی وجہ سے ایک موٹرسائیکل کی کل قیمت 1 لاکھ 85 ہزار سے 2 لاکھ 40 ہزار روپے تک جا پہنچتی تھی۔ 
تاہم وزیراعلٰی مریم نواز نے ان تمام اضافی اخراجات اور پیشگی اقساط کی تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ طلبہ سے ڈاؤن پیمنٹ کی مد میں کوئی رقم وصول نہ کی جائے۔ 
نیا ماڈل 100 فیصد بلاسُود یعنی صفر فیصد مارک اپ پر مبنی ہے، جس میں تمام بینک مارک اپ، انشورنس اور رجسٹریشن کا خرچ حکومتِ پنجاب خود برداشت کرے گی۔
اس طرح 24 ماہ کی اقساط میں 3 ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے طالب علم کو یہ ای بائیک محض 72 ہزار روپے کی رعایتی قیمت میں مکمل ملکیت کے ساتھ مل جائے گی۔ 
پڑھانے والے طلبہ، اہلیت کا معیار اور کثرت سے پوچھے گئے سوالات کی وضاحت 
وزیراعلٰی کی پوسٹ کے فوراً بعد سوشل میڈیا اور سرکاری پیجز پر بڑی تعداد میں شہریوں نے بائیک کے حصول اور اہلیت کا معیار جاننے کے لیے سوالات پوچھنا شروع کردیے۔
اِن میں سب سے اہم سوال یہ تھا کہ کیا ایسے افراد جو کسی سکول یا کالج میں پڑھاتے ہیں مگر ساتھ ہی اپنی اعلٰی تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے ہیں، وہ اِس سکیم کے لیے اہل ہوں گے یا نہیں؟

طالب علم کو ای بائیک 72 ہزار روپے کی رعایتی قیمت میں مکمل ملکیت کے ساتھ مل جائے گی (فائل فوٹو: روئٹرز)

ترجمان پنجاب حکومت عظمیٰ بخاری کے مطابق ’اگر کوئی معلم یا ملازمت پیشہ شخص پنجاب کے کسی بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سے تسلیم شدہ ڈگری کالج یا یونیورسٹی میں بطور باقاعدہ یا ریگولر طالب علم رجسٹرڈ ہے، تو وہ اس سکیم کے لیے 100 فیصد اہل ہے۔‘
سکیم کے تحت ’امیدوار طالب علم‘ کی باضابطہ تعریف یہ طے کی گئی ہے کہ اُس کی عمر کم سے کم 18 سال ہو، اُس کے پاس پنجاب کا دُرست قومی شناختی کارڈ اور ڈومیسائل موجود ہو۔
اس کے علاوہ امیدوار کسی منظور شدہ ادارے میں فعال تعلیمی سیشن کا باقاعدہ طالب علم ہو جس کی تصدیق اس کا سٹوڈنٹ آئی ڈی کارڈ اور بونا فائیڈ سرٹیفیکیٹ کرتا ہو۔ سوشل میڈیا پر پوچھے گئے دیگر سوالات کے جواب میں ترجمان کا کہنا ہے کہ ’اپلائی کرنے والے تمام طلبہ اور طالبات کے پاس موٹر سائیکل چلانے کا دُرست ڈرائیونگ لائسنس یا کم سے کم سرکاری لرنر پرمٹ ہونا انتہائی لازمی ہے۔‘
’ایسے طلبہ و طالبات جو پہلے سے کسی رجسٹرڈ گاڑی کے مالک ہیں یا جن کے گھر میں کسی دوسرے رکن کو حکومتِ پنجاب کی اس سکیم کے تحت موٹرسائیکل مل چکی ہے، وہ نااہل تصور ہوں گے۔‘

قرعہ اندازی میں کامياب طلبہ کے کوائف کی تصدیق کے لیے کیس بینک آف پنجاب کو بھیجا جائے گا (فائل فوٹو: ایل سی سی آئی ڈاٹ پی کے)

بینک آف پنجاب کا کردار، شفاف قرعہ اندازی اور درخواست کا طریق کار
چار ستمبر سے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا تیارکردہ پورٹل bikes.punjab.gov.pk آن لائن کر دیا جائے گا جہاں طلبہ اپنا اکاؤنٹ بنا کر تعلیمی کوائف، شناختی کارڈ، ڈومیسائل اور ڈرائیونگ پرمٹ اَپ لوڈ کر سکیں گے۔ 
حکام کے مطابق ’درخواستوں کی وصولی مکمل ہونے کے بعد اگر کوٹے سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں تو پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ذریعے مکمل طور پر شفاف اور خودکار ای بيلٹ یعنی کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کی جائے گی۔‘
قرعہ اندازی کے لیے شہری اور دیہی علاقوں اور تمام اضلاح کے لیے مساوی کوٹہ رکھا گیا ہے۔ قرعہ اندازی میں کامياب ہونے والے طلبہ کےائف کی تصدیق کے لیے کیس بینک آف پنجاب کو بھیجا جائے گا۔
بینک آف پنجاب درخواست دہندہ کی تعلیمی اور ضمانتی دستاویزات کی پڑتال کے بعد اُسے موٹرسائیکل دینے کی منظوری دے گا۔ بینک آف پنجاب کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی بائیک کی فراہمی کا عمل شروع ہو جائے گا۔
حکومتِ پنجاب نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ حتمی منظوری کے چھ ہفتوں کے اندر اندر الیکٹرک بائیک، مفت ہیلمٹ اور سیفٹی راڈ طالب علم یا طالبہ کے حوالے کر دی جائے تاکہ اُن کا تعلیمی سفر آسان، محفوظ اور کم خرچ ہو سکے۔

شیئر: