نئے صوبوں کی بات پر جذباتی نہ ہوں، فیصلہ عوام کی رائے سے ہونا چاہیے: محسن نقوی
نئے صوبوں کی بات پر جذباتی نہ ہوں، فیصلہ عوام کی رائے سے ہونا چاہیے: محسن نقوی
ہفتہ 5 ستمبر 2026 13:43
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ’انتظامی یونٹس کے قیام کا فیصلہ عوام کی رائے سے ہونا چاہیے اور اُن کی رائے کا احترام ضروری ہے۔‘
سنیچر کو لاہور میں قومی پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ’میں نوکری پر رہوں نہ رہوں، انتظامی یونٹس کی تشکیل کے معاملے پر پیچھے نہیں ہٹوں گا۔‘
’آج سے ایک ماہ پانچ روز قبل میں نے ایک بات کی، اپنے نظام کو ری سیٹ کرنے کی بات کی، کچھ لوگوں نے میری گفتگو کو موجودہ حکومت اور کچھ نے سیاسی نظام سے جوڑا، میرا اشارہ کسی مخصوص سیاسی جماعت کی طرف نہیں تھا۔‘
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ’کوئی کمپنی ٹھیک نہ چل رہی ہو تو سب بہتری کے لیے سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں، ہم 79 سال سے نتائج حاصل نہیں کر پا رہے تو نظام کو ری سیٹ کرنا ضروری ہو گیا ہے، بنیادی ضروریات ہر شہری کے پاس ہونا ضروری ہے۔‘
’ری سیٹ کا مطلب کسی بھی صورت نظام کو توڑنا نہیں، ری سیٹ کا مطلب غلط چیز کو دُرست کرنا ہے، انتظامی ڈھانچے کی بہتری کا کام آئین میں رہ کر کرنا ہے، ہمیں اپنے عوام کی مرضی سے نظام کو بہتر کرنا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اگر عوام انتظامی یونٹس کے حق میں ہیں تو اِنہیں ہر صورت بننا چاہیے، عوام کی رائے کا احترام ضروری ہے، میری درخواست ہے انتظامی یونٹس کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دیں۔‘
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان دنیا میں آبادی کے لحاظ سے پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے، ہمیں نظام کو 79 سال بعد ری سٹرکچر کرنا چاہیے۔‘
‘یہ ماننا پڑے گا کہ ہمیں ری سیٹ کی ضرورت ہے، ہم تحصیلیں اور ڈویژنز بنانے کے لیے تیار ہیں، انتظامی یونٹس کی بات پر کہتے ہیں یہ نہیں بننے چاہییں۔‘
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ’جب اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کی بات آتی ہے تو سب اعتراض کرتے ہیں، ہم 79 سال میں ڈھائی کروڑ بچہ آج بھی سکول نہیں بھیج سکے۔‘
’آج 55 فیصد پاکستانیوں کو صاف پانی نہیں مل رہا، آج ہماری عدالتوں میں 20 لاکھ کیسز زیرِالتوا ہیں، آج بھی لوگ عدالتوں میں لوگ دھکے کھا رہے ہیں۔‘
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’میں نوکری پر رہوں نہ رہوں، انتظامی یونٹس کے معاملے پر پیچھے نہیں ہٹوں گا‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے وزیر داخلہ نے کہا کہ ’میں صوبہ اسلام آباد کا سب سے بڑا حامی ہوں، اسلام آباد کے شہریوں کو این ایف سی ایوارڈ کا ایک روپیہ بھی نہیں مل رہا، سی ڈی اے اپنی زمینیں بیچ کر شہر کا نظام چلا رہا ہے، کیا اسلام آباد کے شہری پاکستان کےعوام نہیں ہیں؟‘
’اسلام آباد صوبہ بن رہا ہے تو سب کو مل کر لبیک کہنا چاہیے، جو میئر بن کر آگے آتا ہے وہ بہتر حکومت چلا سکتا ہے، جو مرضی کرلیں اب زہران ممدانی اور صادق خان جیسے لوگ آئیں گے۔ آج کل نئے انتظامی یونٹس کے بارے میں بہت جذباتی تقاریر ہو رہی ہیں، یہ ایسی چیز نہیں جو کل یا پرسوں ہونے جا رہی ہے۔‘
محسن نقوی نے کہا کہ ’اس میں آپ کی نہیں عوام کی رائے زیادہ اہمیت رکھتی ہے، میری درخواست ہے نئے ایڈمنسٹریٹو یونٹس کی بات پر جذباتی نہ ہوں، اگر عوام کی مرضی ہے تو انتظامی یونٹس بننے دیں، نئے صوبوں کے معاملے پر سب سے بڑے سٹیک ہولڈرز عوام ہیں۔‘
’صوبوں کی بحث زبان، نسل اور برادری کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے، جنوبی یا شمالی پنجاب کے بعد بھی میں پنجابی ہی رہوں گا، بہتر طرزِ حکمرانی کو عوام کے قریب لانا ہوگا۔‘