Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نوجوان کو کارکروچ کہیں یا جو مرضی، اگر یہ کاکروچ اکٹھا ہو گیا تو یہ ہر چیز کو اُلٹ سکتا ہے: محسن نقوی

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ’نوجوانوں کو دو چار ہزار ٹیبلٹس دینے یا چند ہزار روپے کا وظیفہ دینے سے یہ نظام ٹھیک نہیں ہو سکتا۔‘
’آپ اُن سے پوچھیں تو سہی کہ وہ کیا چاہتے ہیں، وہ صرف ایک چیز مانگتے ہیں کہ آپ اپنا نظام ٹھیک کرلیں، ہمیں انصاف مل جائے، ہمیں میرٹ مل جائے، ہمیں جائز طریقے سے ملازمت کے مواقع مل جائیں۔‘
جمعرات کو اسلام آباد میں بزنس کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نوجوانوں کے لیے یہ سب کچھ نہیں کر رہے۔ نوجوانوں کی آواز کو سننا ہم سب کا فرض ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’آپ ان کو نوجوان کہیں، کارکروچ کہیں یا جو مرضی چیز کہیں، میں ایک چیز سب کو بتاؤں گا کہ اگر یہ کاکروچ اکٹھا ہو گیا تو یہ ہر چیز کو اُلٹ سکتا ہے۔‘
محسن نقوی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’نئے انتظامی یونٹس یا صوبے ہی مسائل کا حل ہیں، آپ کو انتظامی یونٹس کی سطح پر جانا پڑے گا۔‘
’جب تک نئے انتظامی یونٹس نہیں بنیں گے اور جب تک نئی لیڈرشپ نہیں آئے گی یہ نظام نہیں چلے گا۔ انتظامی یونٹس کو عوام کی سطح پر لے کر جانا پڑے گا۔‘
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف اگر 18 گھنٹے بھی کام کر لیں وہ صرف فائر فائٹنگ ہی کر رہے ہیں۔‘
’ہم جس سسٹم میں رہ رہے ہیں یہ سسٹم تباہ ہو چکا ہے اور جب تک ہم اس سسٹم کو ’ری سیٹ‘ نہیں کریں گے بہتری نہیں آئے گی۔‘
محسن نقوی نے کہا کہ ’یہ نظام چلتا رہا تو ہم 10 سال بعد بھی بیٹھے یہ ہی باتیں کر رہے ہوں گے، جب تک اس ملک کی بنیاد ٹھیک نہیں کریں گے یہ ایسا ہی رہے گا۔‘

شیئر: