ہم جس سسٹم میں رہ رہے ہیں یہ تباہ ہو چکا ہے: محسن نقوی
ہم جس سسٹم میں رہ رہے ہیں یہ تباہ ہو چکا ہے: محسن نقوی
جمعرات 30 جولائی 2026 16:34
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ’نوجوانوں کو محض دو چار ہزار روپے وظیفہ یا لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹس دے کر خوش یا مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔‘
’آپ نوجوانوں سے پوچھیں تو سہی کہ وہ کیا چاہتے ہیں، وہ صرف ایک چیز مانگتے ہیں کہ آپ اپنا نظام ٹھیک کر لیں، ہمیں انصاف مل جائے، ہمیں میرٹ مل جائے، ہمیں جائز طریقے سے ملازمت کے مواقع مل جائیں۔‘
جمعرات کو کنونشن سینٹر اسلام آباد میں ’پاکستان اکنامک سمٹ‘ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نوجوانوں کے لیے یہ سب کچھ نہیں کر رہے۔ نوجوانوں کی آواز کو سننا ہم سب کا فرض ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’آپ ان کو نوجوان کہیں، کاکروچ کہیں یا جو مرضی چیز کہیں، میں ایک بات سب کو بتاؤں گا کہ اگر یہ کاکروچ اکٹھا ہو گیا تو یہ ہر چیز کو اُلٹ سکتا ہے۔‘
محسن نقوی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’نئے انتظامی یونٹس یا صوبے ہی مسائل کا حل ہیں، آپ کو انتظامی یونٹس کی سطح پر جانا پڑے گا۔‘
’جب تک نئے انتظامی یونٹس نہیں بنیں گے اور جب تک نئی لیڈرشپ نہیں آئے گی یہ نظام نہیں چلے گا۔ انتظامی یونٹس کو عوام کی سطح پر لے کر جانا ہی پڑے گا۔‘
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف 12 سے 14 گھنٹے کام کرتے ہیں، اگر وہ 18 گھنٹے بھی کام کر لیں وہ صرف فائر فائٹنگ ہی کر رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’ہم جس سسٹم میں رہ رہے ہیں یہ سسٹم تباہ ہو چکا ہے اور جب تک ہم اس سسٹم کو ’ری سیٹ‘ نہیں کریں گے بہتری نہیں آئے گی۔‘
محسن نقوی نے کہا کہ ’یہ نظام چلتا رہا تو ہم 10 سال بعد بھی بیٹھے یہ ہی باتیں کر رہے ہوں گے، جب تک اس ملک کی بنیاد ٹھیک نہیں کریں گے یہ ایسا ہی رہے گا۔‘
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ایک چیز کو آپ 70 برسوں سے گھسیٹ رہے ہیں، جمہوریت ہم سب چاہتے ہیں، میں جمہوریت کا سب سے بڑا حامی ہوں اور رہوں گا، لیکن جمہوریت کے اندر بھی کئی قسم کے نظام ہیں۔‘
محسن نقوی نے کہا کہ ’میں صدارتی نظام کی بات نہیں کر رہا، موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی‘ (فائل فوٹو: اے پی پی)
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’جمہوریت میں صرف ایک ہی نظام تو موجود نہیں ہے، لیکن ہم کہتے ہیں کہ نہیں جو مرضی ہوجائے ہم نے اسی کو چلانا ہے اور اسی کو آگے بڑھانا ہے۔‘ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی: وفاقی وزیرِ داخلہ
بعد ازاں صافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’فیلڈ مارشل عاصم منیر بار بار کہہ چکے کہ جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں صدارتی نظام کی بات بھی نہیں کر رہا اور موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔ میں وفاقی وزیرِ داخلہ ہی رہوں گا، وزیرِ خارجہ کہیں نہیں جا رہے۔‘
’نظام کو بہتر بنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا ہونا ہوگا، صرف ن لیگ، یا پیپلز پارٹی نہیں پی ٹی آئی کو بھی نظام بہتر بنانے کے لیے اکٹھا ہونا پڑے گا۔ نظام کو بہتر بنائے بغیر اب گزارہ نہیں۔‘
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس وقت ہر سیاسی جماعت صرف اپنے بارے میں سوچ رہی ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ’پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کا معاملہ کشمیری حکومت دیکھ رہی ہے، میرا اس میں عمل دخل نہیں۔‘