Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بالی وڈ اداکارہ سوارا بھاسکر کا ’جَوہر‘ سے متعلق بیان تنقید کی زد میں لیکن آخر یہ ’جَوہر‘ کیا ہے؟

فلم پدماوت کے آخری مناظر میں ہیرئین کا کردار نبھانے والا کردار خواتین کے ہمراہ خود کو آگ کے سپرد کر دیتا ہے (فوٹو: فلم)
بالی وُڈ فلم ساز سنجے لیلا بھنسالی کی فلم ’پدماوت‘ کو ریلیز ہوئے قریباً آٹھ سال گزر چکے ہیں لیکن فلم کا سب سے متنازع اور جذباتی منظر ’جَوہر‘ آج بھی بحث کا موضوع ہے۔
اس کا جیتا جاگتا ثبوت اداکارہ سوارا بھاسکر کا حال میں انڈین دارالحکومت نئی دہلی میں دیا جانے والا ایک بیان ہے۔
انہوں نے دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ایک تقریب کے دوران ’پدماوت‘ فلم میں جَوہر کے منظر پر اپنی پرانی تنقید کو دہرایا تو سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا۔ ’دی ٹائمز آف انڈیا‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق کچھ افراد نے اسے تاریخ کی توہین قرار دیا، جبکہ سوارا بھاسکر کے حامیوں نے کہا کہ اصل سوال تاریخ کو جھٹلانا نہیں بلکہ عورت کے جسم، عزت اور زندگی کے بارے میں ہمارے تصورات پر غور کرنا ہے۔
سوارا بھاسکر نے تقریب میں بنیادی طور پر یہ سوال اٹھایا کہ اگر کوئی عورت جنسی تشدد کا شکار ہو چکی ہو تو ’پدماوت‘ میں جَوہر کے منظر کو دیکھ کر اس کے ذہن میں کیا تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔
’دی ہندوستان ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ان کا استدلال تھا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ایسی عورت زندگی سے بیزار ہو جائے یا خود کو کمتر یا بزدل محسوس کرنے لگے؟ سوارا کے نزدیک مسئلہ جَوہر کرنے والی عورتوں کی توہین نہیں، بلکہ اس تصور سے متعلق ہے جس میں عورت کی ’عزت‘ کو اس کی زندگی سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔
لیکن سوشل میڈیا پر اس بیان کے وائرل ہوتے ہی سوارا بھاسکر کی ٹرولنگ شروع ہو گئی اور انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ یہاں تک کہ سوارا کو وضاحت دینا پڑی کہ ان کے بیان کی غلط تشریح و تعبیر کی جا رہی ہے۔
انڈین میڈیا کی رپورٹس کے مطابق این ایچ آر سی کے رکن پریانک کانونگو نے اداکارہ سوارا بھاسکر کے خلاف پدماوت میں جوہر کے سین پر ان کے ریمارکس پر شکایت پر پولیس کو کارروائی کی ہدایت دی ہے۔
شکایت کنندگان نے کہا کہ ان کے ریمارکس نے اسلام پسند حملہ آوروں کی تعریف کی اور ’ماتا پدماوتی‘ اور خواتین کے وقار کی توہین کی۔
’انڈیا ٹوڈے‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ناقدین کا کہنا تھا کہ انہوں نے جَوہر کو آج کے زمانے کے اخلاقی پیمانوں سے دیکھنے کی کوشش کی ہے، جبکہ اس عمل کو اس دور کے جنگی اور سیاسی حالات کے تناظر میں سمجھنا چاہیے۔
کئی صارفین نے جَوہر کو انتہائی خوفناک حالات میں عورتوں کی مزاحمت اور خودمختاری کا اظہار قرار دیا۔ دوسری جانب سوارا بھاسکر نے تنقید کے جواب میں کہا کہ جنسی تشدد کا شکار خواتین کو زندہ رہنے کا پورا حق ہے اور ان کے اس موقف کو غلط معنی پہنائے جا رہے ہیں۔
سوارا نے کہا کہ انہوں نے نہ تو رانی پدماوتی کو بزدل کہا اور نہ ہی جَوہر کرنے والی عورتوں کی تحقیر کی۔ ان کے مطابق ان کی بات کا مقصد صرف فلم کے اس پیغام پر سوال اٹھانا تھا جو ’عزت‘ اور جنسی تشدد کے درمیان ایک مخصوص تعلق قائم کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی بات کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کیا گیا۔

لیکن آخر جَوہر ہے اور ہندوستانی تاریخ میں اس کی حقیقت کیا ہے؟

’انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا‘ کے مطابق جَوہر بنیادی طور پر آگ میں کود کر جان دینے کی ایک ایسی اجتماعی رسم تھی جس کا تعلق خاص طور پر راجپوتانہ کے علاقے کی جنگی تاریخ سے جوڑا جاتا ہے۔
جب کسی قلعے کا سقوط یقینی ہو جاتا اور شکست خوردہ فریق کو یہ خوف ہوتا کہ فاتح فوج عورتوں کو قیدی بنائے گی، ان کے ساتھ جنسی تشدد کرے گی یا انہیں غلام بنا لیا جائے گا، تو بعض مواقع پر عورتیں اجتماعی طور پر آگ میں کُود کر اپنی جان دے دیتی تھیں۔
مرد اس کے بعد اکثر ’ساکا‘ کرتے، یعنی زعفرانی لباس پہن کر موت تک جنگ لڑنے کے لیے میدان میں اُترتے تھے۔
راجستھان کی تاریخ میں چتوڑ گڑھ کا نام جَوہر کے حوالے سے سب سے زیادہ لیا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق چتوڑ میں مختلف ادوار میں جَوہر کے واقعات رونما ہوئے، جن میں علاؤالدین خلجی کے حملے سے وابستہ واقعہ سب سے زیادہ مشہور ہے۔ یہی وہ واقعہ ہے جسے رانی پدماوتی یا پدمنی کی داستان سے جوڑا جاتا ہے۔
تاہم یہاں تاریخ اور داستان کے درمیان فرق سمجھنا بھی ضروری ہے۔ رانی پدماوتی کی سب سے مشہور کہانی صوفی شاعر ملک محمد جائسی کی مثنوی ’پدماوت‘ سے آتی ہے، جو علاؤالدین خلجی کے عہد کے تقریباً دو صدی بعد لکھی گئی۔
اس لیے جدید مورخین پدماوتی کی داستان کو خالص تاریخی واقعے کے بجائے ادب، روایت اور تاریخ کے پیچیدہ امتزاج کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’پدماوت‘ جیسی فلمیں جب اس قصے کو پردۂ سیمیں پر لاتی ہیں تو تاریخ، عقیدت، روایت اور تخیل ایک دوسرے میں گھل مل جاتے ہیں۔
جَوہر کی تاریخ کو صرف ’بہادری‘ یا صرف ’ظلم‘ کے دو شاخے میں سمیٹ کر نہیں دیکھا جا سکتا اور شاید یہ درست بھی نہ ہو۔ ایک طرف یہ بات ہے کہ جنگ کے زمانے میں عورتوں کے سامنے قید، غلامی اور جنسی تشدد کا حقیقی خطرہ موجود ہو سکتا تھا۔ دوسری طرف یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا عورت کے لیے زندہ رہنے کو واقعی بے عزتی تصور کیا جانا چاہیے؟
یہی وہ بنیادی سوال ہے جس نے سوارا بھاسکر کے بیان کو اتنا متنازع بنا دیا ہے۔ ان کے مخالفین کہتے ہیں کہ وہ صدیوں پرانے واقعے کو جدید نظریات کی عینک سے دیکھ رہی ہیں، جبکہ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ تاریخ پر سوال اٹھانا ہی ہمیں اپنے موجودہ سماجی تصورات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

شیئر: