Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پتھر کے قدیم مکانات، مسجد اور کھیت: العیص کا تاریخی گاؤں آج بھی موجود

تاریخی گاؤں علاقے کی زرعی اور سماجی زندگی کی عکاسی کرتا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
مدینہ منورہ ریجن کی العیص کمشنری میں واقع العین گاؤں میں اب بھی پتھر سے بنے قدیم مکانات، مسجد اور پرانے کھیتوں کے آثار موجود ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق کمشنری کا یہ تاریخی گاؤں علاقے کی زرعی اور سماجی زندگی کی عکاسی کرتا ہے جہاں پہاڑ اور آتش فشانی میدان زرعی اراضی سے ملتے ہیں۔
العیص کمشنری کی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے محقق یوسف بن راجح الشظیفی کے مطابق یہ گاؤں تاریخی طور پر اپنی زرعی سرگرمیوں خاص طور پر کھجور کی کاشت اور برنی کھجور کی پیداوار کے لیے معروف ہے۔
اس کے علاوہ یہاں لیموں، آم، سنترہ، انار، انگور اور انجیر کی کاشت بھی کی جاتی تھی۔ ان کی آبپاشی یہاں موجود قدرتی پانی کے چشموں (عین) سے کی جاتی تھی۔
گاؤں کے چھوٹے چھوٹے گھر پہاڑوں اور آتش فشاں کے لاوے کے جمنے سے سیاہ ہونے والی پتھریلے میدان (حرات) کے ساتھ  دور دور تک موجود ہیں۔ پتھر اور مٹی سے تعمیر کیے جانے والے ان کی چھتیں کھجور کے تنے، پتوں اور شاخوں سے بنائی گئیں جو مقامی ماحول میں دستیاب طرز تعمیر کی عکاسی کرتا ہے۔

گاؤں کے مرکز میں ایک قدیم مسجد واقع ہے جسے 1359 ہجری میں پانچ وقت کی نماز، جمعہ اور عیدین کی نماز کے لیے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ اس سے قبل یہاں محض نماز ادا کرنے کے لیے ایک چھوٹی سی جگہ تھی جو بعد میں سماجی زندگی کا ایک اہم مرکز بن گئی۔
یہ گاؤں 1390 ہجری تک آباد رہا۔ پانی کا چشمہ خشک ہونے پر یہاں کے آخری مکین بھی چلے گئے تو العیص کے رہائشیوں نے اپنی زرعی سرگرمیوں کو کمشنری کے دیگر حصوں تک پھیلا دیا۔
یہ گاؤں مملکت کے ان مقامات میں شامل ہے جہاں جدید دور میں بھی قدیم تاریخ اور سماجی زندگی کے آثار نمایاں طور پر محفوظ ہیں۔

 

شیئر: