علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں: سعودی کابینہ
ولی عہد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو سے بھی کابینہ کو آگاہ کیا (فائل فوٹو: ایس پی اے)
سعودی حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق یہ بیان منگل کے روز ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں پیش رفت کا ذکر کیا گیا تھا۔
جدہ میں وزرا کے ہفتہ وار اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پُرامن حالات کے قیام کے لیے تمام ممکنہ کوششیں کرنے پر زور دیا، تاکہ ان سفارتی حلوں کی راہ ہموار ہو سکے جو علاقائی سیکیورٹی اور استحکام کو یقینی بناتے ہیں۔
28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں اور ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد سے واشنگٹن اور تہران ایک شدّت پسندانہ علاقائی جنگ میں الجھے ہوئے ہیں۔
ایک امریکی اہلکار نے بدھ کے روز ہی ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ طے پانے کے امکانات ظاہر کیے ہیں جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی اس یادداشتِ التوا کے ناکام ہونے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، جس نے عارضی طور پر اس اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ سے جہاز رانی کی اجازت دی تھی۔
ولی عہد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اختتامِ ہفتہ پر ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو سے متعلق بھی کابینہ کو آگاہ کیا۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے رہنماؤں کی بات چیت کے فوراً بعد سنیچر کو رپورٹ کیا ’سعودی ولی عہد نے کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کو ترجیح دینے کی ضرورت اور ایک ایسی جنگ بندی کے حصول کے لیے تمام ممکنہ کوششیں کرنے کی اہمیت پر زور دیا جو سفارتی حل کی راہ ہموار کرے۔‘
کابینہ نے سعودی عرب کی جانب سے شروع کیے گئے کثیرالقومی دفاعی بحری اتحاد میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی حمایت اور شرکت کا بھی خیرمقدم کیا۔
سعودی عرب اور 13 دیگر ممالک نے جمعرات کو ایک اتحاد قائم کیا تھا جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کی اہم بحری گزرگاہوں میں جہاز رانی کا تحفظ کرنا ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ’ملٹی نیشنل میری ٹائم ڈیفنس اتحاد‘ بحری سکیورٹی کو فروغ دینے، بین الاقوامی سمندری راستوں کی حفاظت کرنے اور بحری نقل و حمل اور عالمی تجارت کو نشانہ بنانے والے خطرات کا مقابلہ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ اتحاد علاقائی و بین الاقوامی سکیورٹی اور استحکام کو مضبوط بنانے میں مملکت کے قائدانہ کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ اقدام مختلف ممالک کے درمیان کثیر الجہتی تعاون کو تقویت دیتا ہے اور بحیرہ احمر، باب المندب اور خلیجِ عدن میں بڑھتے ہوئے خطرات سے بین الاقوامی بحری گزرگاہوں، تجارتی راستوں اور توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانے کا ایک فریم ورک قائم کرتا ہے۔
