سعودی عرب اور پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کا غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف اقدامات کا خیرمقدم
سعودی عرب اور پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کا غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف اقدامات کا خیرمقدم
بدھ 9 ستمبر 2026 19:28
’مسلم ممالک نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھائے‘ (فائل فوٹو: وام)
سعودی عرب، پاکستان اور دیگر 6 عرب اور مسلم ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر پابندی عائد کرنے کے برطانوی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
عرب نیوز نے سعوی پریس ایجنسی کے حوالے سے بتایا کہ ’8 مسلم ممالک نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھی اس اقدام کی پیروی کرتے ہوئے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھائے۔‘
’سعودی عرب، اُردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکیہ، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے امید ظاہر کی کہ برطانیہ کا یہ اقدام دیگر ممالک کو بھی بین الاقوامی قانون کے مطابق اسی نوعیت کے اقدامات کرنے پر آمادہ کرے گا۔‘
ان مسلمان ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ ’وہ غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی سرگرمیوں میں ملوث تنظیموں اور افراد کو ان کے اقدامات کے لیے جواب دہ بھی ٹھہرائے۔‘
پاکستانی دفتر خارجہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کُھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔بدھ کو جاری کیے گئے بیان کے مطابق ’اس طرح کے غیر قانونی اقدامات دو ریاستی حل کے حصول اور خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔‘
’پاکستان، کینیڈا، ڈنمارک، فِن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، سپین اور سویڈن سمیت کئی دیگر ممالک کی جانب سے اسی نوعیت کے اقدامات پر غور کرنے اور غیر قانونی بستیوں کے خلاف کوششوں کی حمایت کے اعلانات کا خیرمقدم کرتا ہے۔‘
پاکستان نے اس حوالے سے اُمید ظاہر کی ہے کہ ’اِن ممالک کے یہ اقدامات فلسطین کے مقبوضہ علاقے میں اسرائیل کی غیر قانونی کارروائیوں کو مسترد کرنے کا واضح اور دوٹوک پیغام دیں گے۔‘
ترجمان دفترِ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان ماضی میں بھی فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی مُنصفانہ جدوجہد میں اُن کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی اُن کی حمایت جاری رکھے گا۔‘
ایڈ ملی بینڈ کے مطابق ’برطانیہ اب ناانصافی اور انسانی تکالیف کی صرف ’نشان دہی‘ کر کے خاموش نہیں رہ سکتا‘ (فائل فوٹو: روئٹرز)
’پاکستان ایک خودمختار، آزاد اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر قائم ہو اور جس کا دارالحکومت القدس ہو۔‘
یاد رہے کہ برطانیہ نے منگل کو فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مل کر مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں میں تیار کی جانے والی اشیا پر تجارتی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا۔
یہ اسرائیل کے خلاف عائد کی جانے والی تازہ ترین پابندی ہے، جو ایک ایسے وقت پر عائد کی گئی ہے جب اسرائیل کو بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی کا سامنا ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کا کہنا تھا کہ برطانیہ اب ناانصافی اور انسانی تکالیف کی صرف ’نشان دہی‘ کر کے خاموش نہیں رہ سکتا۔
انہوں نے ایوانِ زیریں سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’برطانیہ کو اب یہودی بستیوں کی توسیع کی مخالفت کے لیے ’عملی اقدامات‘ کرنا ہوں گے۔‘
ایڈ ملی بینڈ کے مطابق ’آج ہم مزید تکالیف اور دو ریاستی حل کی تباہی کے محض تماشائی بننے سے انکار کرتے ہیں۔‘ وہ دو ریاستی حل کے لیے برطانیہ کی طویل عرصے سے جاری حمایت کا حوالہ دے رہے تھے، جس کی اسرائیل مخالفت کرتا رہا ہے۔
’پاکستان دیگر ممالک کی جانب سے غیر قانونی بستیوں کے خلاف اعلانات کی حمایت کا خیرمقدم کرتا ہے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ، اسرائیل میں تعینات اپنے سفیر کے ذریعے برطانیہ کی نئی پابندیوں پر پہلے ہی تنقید کر چکا ہے، جبکہ اسرائیل کے دو وزرا نے برطانیہ کے خلاف اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیل کا ردِعمل
اسرائیل نے منگل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد پر برطانیہ کی جانب سے مغربی ممالک کی پابندیوں کی قیادت کیے جانے کے جواب میں یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسرائیل نے کہا کہ وہ غزہ میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی منصوبے کی نگرانی کرنے والے ایک مرکز میں تعینات برطانوی سفارت کاروں کو بھی ملک سے نکال دے گا۔
اس کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی کی فورسز کے لیے برطانیہ کی جانب سے دی جانے والی تربیت پر پابندی عائد کی جائے گی اور 12 برطانوی حکام کے اسرائیل میں داخلے پر بھی پابندی عائد ہوگی۔