’قوم کو اب سچ بتانا ہو گا‘، وسیم اکرم کی نوجوان بولرز اور بیٹرز کی تکنیک پر تنقید
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے قومی کرکٹ ٹیم کی حالیہ ناکامیوں اور ڈومیسٹک ڈھانچے کی خامیوں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب قوم کو سچ بتانے کا وقت آ گیا ہے۔
جمعے کو لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ وہ گزشتہ پانچ چھ برسوں سے پاکستان کرکٹ اور بالخصوص پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا حصہ رہتے ہوئے حالات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
’بنگلہ دیش سے ہار خطرے کی گھنٹی تھی‘
سابق کپتان کے مطابق پاکستان کرکٹ کو درپیش مسائل نئے نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا ’ہم بنگلہ دیش سے ہوم اور آوے سیریز ہارے، خطرے کی گھنٹی تو بہت پہلے بج چکی تھی لیکن اس پر کوئی کام نہیں کیا گیا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک بنیادی سطح پر ٹیلنٹ موجود نہیں ہو گا، کوچز کی تبدیلی سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
’دنیا کا بہترین کوچ بھی لے آئیں، میں آ جاؤں یا گیری کرسٹن، آپ کے پاس جو دستیاب ٹیلنٹ ہے کھیلنا تو اسی نے ہے۔‘
’پی ایس ایل نے 10 برس میں ایک بیٹر نہیں نکالا‘
انڈیا میں ابھرتے ہوئے نوجوان کرکٹرز کا حوالہ دیتے ہوئے وسیم اکرم کا کہنا تھا ’ہمارے پاس یا تو ایسا ٹیلنٹ ہو جیسا ہمسایہ ملک میں ایک 14 سال کا لڑکا سامنے آ گیا۔ اگر ہمارے پاس ایسا کوئی ٹیلنٹ ہوتا تو اب تک پتا لگ چکا ہوتا۔‘
انہوں نے پی ایس ایل کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس لیگ کو شروع ہوئے 10 سال ہو چکے ہیں، فاسٹ بولرز تو سامنے آئے ہیں لیکن اس عرصے میں پی ایس ایل ایک بھی معیاری بیٹر پیدا نہیں کر سکی۔
تکنیک اور سلیکشن پر شدید تنقید
قومی ٹیم کے بیٹرز کی تکنیکی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیٹرز کا فرنٹ فٹ ہی نہیں نکلتا اور وہ اولی رابنسن جیسے بولرز کو بھی کریز میں کھڑے ہو کر کھیل رہے ہیں۔
انہوں نے کہا ’تگڑے ہو کر کھیلیں، لیکن اس کے لیے پہلے ٹیلنٹ کا ہونا ضروری ہے۔ صرف ایک گیند 150 کی رفتار سے پھینک دینا بڑی بات نہیں، پورا دن 140 کی سپیڈ سے بولنگ برقرار رکھنا کمال ہوتا ہے۔ نوجوان بولرز کو دیکھ کر فوراً پرجوش نہ ہوں، انہیں کھیلنے دیں۔‘
شاہین شاہ آفریدی سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’شاہین ایک تجربہ کار بولر ہیں، مجھے نہیں معلوم ان کی سپیڈ کیوں کم ہوئی ہے لیکن انگلینڈ جیسے دوروں میں ایسے تجربہ کار بولرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ نے انگلینڈ کے دورے پر ایک ہی رفتار والے فاسٹ بولرز بھیج دیے، کم از کم ایک آدھ تیز بولر تو شامل کرتے۔‘
’اگر میں سلیکٹر ہوتا تو عاکف جاوید کو ضرور ٹیم میں رکھتا جنہوں نے حال ہی میں انگلینڈ میں زبردست بولنگ کی ہے۔ ہمارے دور میں بولنگ اٹیک میں ورائٹی ہوتی تھی، سب ایک جیسے نہیں ہوتے تھے۔‘
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کا جو نیا نظام بنایا گیا ہے، اسے کم از کم تین سے چار سال چلنے دیا جائے اور صبر کا مظاہرہ کیا جائے۔
وسیم اکرم کا کہنا تھا ’ٹیم میں تسلسل ہونا چاہیے، وہی لڑکے بار بار آتے جاتے رہتے ہیں۔ اصل ٹیلنٹ کلب کرکٹ سے آتا ہے۔ پی سی بی کو چاہیے کہ کراچی اور لاہور میں دس دس کروڑ روپے لگائے اور کلب کرکٹ کو فوری طور پر بحال کرے۔‘
انہوں نے آخر میں کہا کہ ریڈ بال (ٹیسٹ) کرکٹ میں پاکستان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور جس طرح ہر پاکستانی کرکٹ پریمیئر ٹیم کی پرفارمنس دیکھ کر افسردہ ہوتا ہے، وہ بھی ویسے ہی دل برداشتہ ہوتے ہیں۔
