Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ایران جنگ کے باعث اسلحے کی کمی ہو گئی‘، امریکی محکمہ دفاع کی تصدیق

صدر ٹرمپ اسلحے میں کمی کی رپورٹ کو بار بار مسترد کرتے رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل نے تصدیق کی ہے کہ ایران جنگ کے باعث امریکی فوج کو گولہ بارود کی کمی کا سامنا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ صورت حال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بالکل برعکس ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ اسلحے کے بھرپور ذخائر موجود ہیں۔
کانگریس میں پیش کی گئی اپنی نوعیت کی پہلی اور لازمی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 28 فروری سے لے کر 30 جون تک ’آپریشن ایپک فیوری‘ پر اٹھنے والے اخراجات کا تخمینہ 33 اعشاریہ چار ارب ڈالر رہا جس میں گولہ بارود پر خرچ کیے گئے 22 اعشارتیہ تین ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنگ میں بڑی مقدار میں گولہ بارود استعمال ہونے کی وجہ سے امریکی فوج کے ذخائر میں کمی واقع ہوئی ہے اور مزید گولہ بارود تیار اور فراہم کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا رہا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ آپریشن ایپک فیوری اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کی فوجی طاقت کو ختم کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق پینٹاگون اسلحہ خریدنے کے طریقہ کار اور تیاری کے عمل میں صرف ہونے والے دورانیے کو بھی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ اہم خام مال، پرزے اور بعض ہتھیاروں کا ذخیرہ بھی بڑھایا جا رہا  ہے تاہم اسلحے کی پیداوار بڑھانے کے لیے کافی وقت درکار ہو گا۔

28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ ابھی تک جاری ہے (فوٹو: اے ایف پی)

امریکی اسلحے کی کمی سے یوکرین اور تائیوان جیسے ممالک کو بھی تشویش لاحق ہو سکتی ہے کیونکہ وہ اپنے مخالف پڑوسیوں کے خلاف دفاع کے لیے امریکہ سے ہتھیار خریدتے ہیں۔
یوکرین کو روس کے خلاف جنگ میں امریکی ساختہ پیٹریاٹ دفاعی نظام کے لیے مزید میزائلوں کی فوری ضرورت ہے جبکہ تائیوان چین سے بچاؤ کے لیے امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر انحصار کرتا ہے کیونکہ چین اسے اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔
صدر ٹرمپ پچھلے چھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران اسلحے کے ذخائر کی کمی کی رپورٹس کو مسترد کرتے رہے ہیں اور حال ہی میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کے پاس قریباً لامحدود گولہ بارود موجود ہے۔
پیر کو انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ امریکہ اپنی تاریخ کے کسی بھی دور سے زیادہ جدید اور اعلیٰ معیار کے ہتھیار بنا رہا ہے۔

امریکی محکمۂ دفاع نے جنگ کے اخراجات سے متعلق اپنی نوعیت کی پہلی رپورٹ کانگریس میں پیش کی ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)

اس سے قبل سی این این نے رپورٹ کیا تھا کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ میزائلوں اور فضائی دفاعی میزائلوں کی کمی نے ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگی حکمت عملی کو متاثر کیا اور امریکی فوج نے دفاعی میزائلوں کے 80 فیصد کے قریب ذخیرے کو استعمال کر لیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے پہلے 24 گھنٹے میں امریکہ نے 1000 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا تاہم حالیہ مہینوں کے دوران اس قدر بڑے پیمانے پر حملے دوبارہ نہیں کیے گئے۔
رپورٹ میں امریکی فوجی طیاروں کے نقصانات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن میں چار ایف 15 طیاروں کی تباہی، ایک ایف 35 کو نقصان پہنچنے، سات کے سی 135 طیاروں کے متاثر ہونے اور 30 کے قریب ایم کیو نائن ڈرونز کی تباہی کا بھی ذکر ہے۔
رپورٹ میں یہ تصدیق بھی کی گئی ہے کہ خطے میں امریکی بحریہ کے اہم لاجسٹک مرکز جو بحرین میں واقع ہے، کو ایران نے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا۔

شیئر: