Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹرمپ انتظامیہ کا اسرائیل کو 2 ارب 80 کروڑ ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے کا منصوبہ

ایک امریکی عہدے دار کے مطابق ’صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اسرائیل کو 2 ارب 80 کروڑ ڈالر مالیت کا اسلحہ اور گولہ بارود فروخت کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔‘
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے امریکی عہدے دار کے حوالے سے بتایا کہ ’اس پیکج میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی انتہائی تباہ کُن بموں کی بڑی تعداد بھی شامل ہوگی۔‘
اس عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مزید بتایا کہ ’اسلحے کی مجوزہ فروخت کے بارے میں امریکی کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو غیر رسمی طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔‘
’یہ کمیٹیاں ہتھیاروں کی بڑے پیمانے پر فروخت کے معاملات میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ اس پیکج میں 20 ہزار MK-84  بم جبکہ 20 ہزار ہی BLU-117 بم شامل ہیں۔‘
اس پیکج کی خبر سب سے پہلے واشنگٹن پوسٹ نے دی تھی۔اس خبر پر امریکی محکمہ خارجہ اور اسرائیلی سفارت خانے کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم اسرائیل کی جانب سے غزہ کے ساتھ ساتھ لبنان میں بھی باقاعدگی سے استعمال کیے جاتے رہے ہیں، جس پر انسانی حقوق کے ماہرین تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔
محکمۂ صحت غزہ کے مطابق اسرائیل کی فوجی کارروائی کے دوران 73 ہزار سے زیادہ فلسطینی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ 
اقوام متحدہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب کیا، تاہم اسرائیل اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں۔ اسرائیل کے مطابق ’اکتوبر 2023 میں حماس کی قیادت میں جنگجوؤں کے حملے میں 1200 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 250 سے زیادہ افراد کو یرغمال بنایا گیا۔‘
سنہ 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیل کے لیے امریکی عوام اور خاص طور پر ڈیموکریٹس کی حمایت میں کمی آئی۔
رواں برس جُون میں کوئنی پیاک یونیورسٹی کی جانب سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق 48 فیصد امریکی ووٹرز اور 66 فیصد ڈیموکریٹس کا خیال ہے کہ ’امریکہ اسرائیل کی بہت زیادہ حمایت کر رہا ہے۔‘
سنہ 2017 میں جب یہ سوال پہلی بار پوچھا گیا تھا تو یہ شرح بالترتیب 16 فیصد اور 20 فیصد تھی۔
رواں برس 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے۔ ایران نے جواباً اسرائیل اور ان خلیجی ریاستوں پر حملے کیے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ 
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

شیئر: